راجستھان کی یہ کمپنی فی الحال دھاگہ اور کپڑا تیار کرتی ہے، فری ٹریڈ معاہدوں نے ملبوسات کی مانگ کو بڑھادیا ہے۔
EPAPER
Updated: July 20, 2026, 11:24 AM IST | New Delhi
راجستھان کی یہ کمپنی فی الحال دھاگہ اور کپڑا تیار کرتی ہے، فری ٹریڈ معاہدوں نے ملبوسات کی مانگ کو بڑھادیا ہے۔
مختلف ممالک کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدوں (ایف ٹی اے) اور ملک میں ملبوسات کی بڑھتی ہوئی طلب کے پیش نظر ٹیکسٹائل صنعت کی مشہور کمپنی آر ایس ڈبلیو ایم لمیٹڈ ملبوسات (گارمنٹس) کی تیاری کے شعبے میں داخل ہونے پر غور کر رہی ہے۔۱۹۵۸ءمیں راجستھان کے بھیلواڑہ میں راجستھان اسپننگ اینڈ ویونگ مل کے نام سے قائم ہونے والی یہ کمپنی فی الحال دھاگا اور کپڑا تیار کرتی ہے۔ آر ایس ڈبلیو ایم کے جوائنٹ منیجنگ ڈائریکٹر راجیو گپتا نے خبر رساں ایجنسی یواین آئی کو بتایا کہ ہندوستان سے دھاگا اور کپڑا بنگلہ دیش، سری لنکا اور ویتنام کو برآمد کیا جاتا ہے۔ یہ ممالک بھارت سے کپڑا خرید کر اس کی رنگائی کرتے ہیں، پھر اس سے ملبوسات تیار کرکے یورپ اور دیگر عالمی منڈیوں میں فروخت کرتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ اب تک ملک سے برآمد ہونے والے تیار شدہ ملبوسات پر برطانیہ اور یورپی منڈیوں میں ۸؍ سے ۱۲؍ فیصد تک درآمدی محصول عائد ہوتا تھا، جبکہ بنگلہ دیش، پاکستان، سری لنکا اور ویتنام سے برآمد ہونے والے ملبوسات پر کوئی محصول نہیں لگتا تھا۔ اسی وجہ سے ہندوستانی برآمد کنندگان عالمی منڈی میں مؤثر مقابلہ نہیں کر پاتے تھے۔
یہ بھی پڑھئے: جیو کے ۱۶۰۰؍مواصلاتی سیٹیلائٹس کے مجوزہ نیٹ ورک کو تکنیکی منظوری
راجیو گپتا نے کہاکہ برطانیہ کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدہ ۱۵؍ جولائی سے نافذ ہو چکا ہے، جبکہ یورپی یونین کے ساتھ معاہدہ اگلے چند ماہ میں نافذ ہونے کی توقع ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اب تک مجموعی طور پر نو آزاد تجارتی معاہدے ہو چکے ہیں، جن کے نتیجے میں بھارتی ٹیکسٹائل صنعت کے لیے تقریباً۲۵۰؍ ارب ڈالر کی نئی منڈی کھل گئی ہے۔ ملبوسات کی تیاری کے شعبے میں داخل ہونے کے امکان کے بارے میں پوچھے جانے پر انہوں نے کہاکہ ہمارے لیے گارمنٹس تیار کرنا ایک فطری پیش رفت ہے۔ اگرچہ فی الحال اس حوالے سے کوئی باضابطہ منصوبہ نہیں ہے، لیکن مستقبل میں ہم یقیناً اس شعبے میں آئینگے۔ اس کی ایک وجہ فری ٹریڈ معاہدے ہیں اور یہ مارکیٹ اب اوپن ہو گیاہے۔