Inquilab Logo Happiest Places to Work

شی جن پنگ سے ملاقات کا اثر، ڈونالڈ ٹرمپ تائیوان کے صدر سے گفتگو کیلئے تیار

Updated: May 22, 2026, 11:55 AM IST | Washington

امریکی صدر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ’’ میں سب سے بات کرتا ہوں ان سے بھی بات کروں گا اور تائیوان کے مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کروں گا۔‘‘

Taiwan President Lai Cheng-ti. Photo: INN
تائیوان کے صدر لائی چینگ تی۔ تصویر: آئی این این

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے پہلی بار یہ عندیہ دیا ہے کہ وہ تائیوان کے صدر لائی چینگ تی سے براہِ راست بات چیت کیلئے تیار ہیں۔ اطلاع کے  مطابق میری لینڈ کے جوائنٹ بیس اینڈریوز پر صحافیوں سے گفتگو کے دوران ٹرمپ سے سوال کیا گیا کہ کیا وہ کانگریس سے  تائیوان کیلئے منظور شدہ ۱۴؍ ارب ڈالر کے اسلحہ معاہدے پر حتمی فیصلہ کرنے سے پہلے صدر لائی سے بات کریں گے؟اس پر صدر ٹرمپ نے جواب دیا کہ میں ان سے بات کروں گا، میں سب سے بات کرتا ہوں۔ ہم اس صورتحال کو بہت اچھی طرح سنبھال رہے ہیں اور ہم تائیوان کے مسئلے پر بھی کام کریں گے۔

صدر ٹرمپ نے یہ بات اس وقت کی ہے جب وہ حال ہی میں چین کے سرکاری دورے سے لوٹے ہیں جسے انھوں نے کامیاب دورہ قرار دیا تھا اور اس وقت روسی صدر بیجنگ میں موجود ہیں۔صدر ٹرمپ کی ملاقات کی اس خواہش امریکہ اور تائیوان کے تعلقات میں ایک غیرمعمولی پیش رفت اور سفارتی روایات سے بڑی تبدیلی قرار دیا جا رہا ہے۔یاد رہے کہ ۱۹۷۹ء میں امریکہ کی جانب سے تائی پے کے بجائے بیجنگ کو چین کی واحد قانونی حکومت تسلیم کرنے کے بعد سے کسی امریکی صدر اور تائیوانی صدر کے درمیان براہِ راست رابطہ نہیں ہوا۔تاحال وائٹ ہاؤس کی جانب سے صدر ٹرمپ کی تائیوانی ہم منصب کے ساتھ رابطے یا ملاقات کے بارے میں کوئی باضابطہ منصوبہ سامنے نہیں آیا۔چینی میڈیا کے مطابق صدر شی جن پنگ نے ٹرمپ کو خبردار کیا ہے کہ اگر تائیوان کے معاملے کو غلط انداز میں سنبھالا گیا تو یہ انتہائی خطرناک صورتحال اختیار کرسکتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ایران جنگ پرٹرمپ اور یاہو میں ٹھن گئی

خیال رہے کہ چین ہمیشہ سے تائیوان کو اپنی سرزمین کا حصہ قرار دیتا آیا ہے اور ضرورت پڑنے پر طاقت کے ذریعے بھی تائیوان کو چین کے ساتھ ملا لے گا۔اگر ٹرمپ واقعی تائیوانی صدر سے براہِ راست رابطہ کرتے ہیں تو اس سے امریکہ اور چین کے تعلقات میں نئی کشیدگی پیدا ہو سکتی ہے۔

۲۰۱۶ءمیں بھی جب ٹرمپ پہلے بار صدر بنے تھے تو انھوں نے اس وقت کی تائیوانی صدر تسائی سے فون پر بات کرکے کئی دہائیوں پر محیط سفارتی روایت توڑ دی تھی جس پر چین نے سخت احتجاج کیا تھا۔دوسری جانب صدر لائی چنگ تی نے اپنے عہدے کے دو سال مکمل ہونے پر کہا کہ امریکا کے ساتھ رابطے ہمیشہ کھلے ہیں اور اگر صدر ٹرمپ سے بات کرنے کا موقع ملا تو وہ یہی کہیں گے کہ ان کی حکومت آبنائے تائیوان میں موجودہ صورتحال برقرار رکھنا چاہتی ہے۔انھوں نے چین پر خطے میں امن و استحکام کو نقصان پہنچانے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ سے اسلحہ خریدنا تائیوان کے دفاع کیلئے ضروری ہے اور وہ امید کرتے ہیں کہ یہ تعاون جاری رہے گا۔جس پر چین کی وزارتِ دفاع کے ترجمان جیانگ بن نے صدر لائی پر الزام لگایا کہ وہ بیرونی طاقتوں کے سہارے تائیوان کی آزادی کے خواب دیکھ رہے ہیں اور تائیوان کے چین کا حصہ ہونے کی بنیادی حقیقت کو تبدیل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK