Inquilab Logo Happiest Places to Work

بھیونڈی میں سرکاری میڈیکل کالج کے قیام کیلئے اہم پیش رفت

Updated: May 27, 2026, 7:25 PM IST | Khalid Abdul Qayyum Ansari | Bhiwandi

طبی تعلیم کے ریاستی وزیرحسن مشرف کی رکن اسمبلی رئیس شیخ کو یقین دہانی، تجویز منظوری کیلئے وزیراعلیٰ کو بھیجنے کی ہدایت۔

Member Of Assembly Raees Sheikh And State Minister Hassan Musharraf Talking.Photo:INN
رکن اسمبلی رئیس شیخ اور ریاستی وزیر حسن مشرف بات چیت کرتے ہوئے ۔تصویر:آئی این این
شہر میں جدید طبی سہولیات اور سرکاری میڈیکل کالج کے قیام کی جدوجہد کو اہم پیش رفت حاصل ہوئی ہے۔ مشرقی حلقہ کے رکن اسمبلی رئیس شیخ نے ریاستی وزیر برائے طبی تعلیم حسن مشرف سے ملاقات کرکے شہر میں سرکاری میڈیکل کالج، جدید طبی سہولیات اور اسٹاف کوارٹرز پر مشتمل۴۰۰؍ بستروں کے عظیم الشان ہیلتھ کمپلیکس کی منظوری کا مطالبہ کیا۔ ملاقات کے دوران ریاستی وزیر حسن مشرف نے اس تجویز پر مثبت ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے متعلقہ منصوبہ فوری منظوری کیلئے  وزیراعلیٰ دیویندر فرنویس کے پاس ارسال کرنے کی ہدایت دی اور ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا۔
رئیس شیخ نے ریاستی وزیر حسن مشرف کو پیش کیے گئے تفصیلی مکتوب میں نشاندہی کی کہ بھیونڈی اور اس کے اطراف کی آبادی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ معیاری طبی سہولیات کی ضرورت بھی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ شہر کا اندرا گاندھی سب ڈسٹرکٹ اسپتال پہلے ہی اہم سرکاری علاجی مرکز کے طور پر خدمات انجام دے رہا ہے، جس کی توسیع اور جدید کاری کا عمل جاری ہے۔ دوسری جانب ۲۰۰؍ بستروں پر مشتمل مدر چائلڈ (ایم سی ایچ) اسپتال بھی تکمیل کے مراحل میں ہے۔
 
 
تجویز کے مطابق اندرا گاندھی اسپتال اور ایم سی ایچ اسپتال کو یکجا کرتے ہوئے تقریباً۴۰۰؍ بستروں پر مشتمل ایک جدید اور ہمہ جہت سرکاری ہیلتھ کمپلیکس قائم کیا جائے گا، جہاں جدید طبی آلات، ماہر ڈاکٹروں کی خدمات اور عوام کیلئے معیاری علاج کی سہولیات دستیاب ہوں گی۔ اس منصوبے کے ساتھ سرکاری میڈیکل کالج، طلبہ کے ہاسٹل اور ڈاکٹروں و طبی عملے کے لیے رہائشی کوارٹرز بھی تعمیر کیے جانے کی تجویز شامل ہے۔
 
 
رکن اسمبلی نے وزیر کو بتایا کہ بھیونڈی جیسے بڑے صنعتی اور گنجان آباد شہر میں آج تک کوئی سرکاری میڈیکل کالج قائم نہیں کیا گیا، جس کے باعث مقامی طلبہ کو طبی تعلیم کے لیے دوسرے شہروں کا رخ کرنا پڑتا ہے۔ میڈیکل کالج کے قیام سے نہ صرف علاقے کے نوجوانوں کو اعلیٰ طبی تعلیم کے مواقع میسر آئیں گے بلکہ شہر میں جدید طبی تحقیق، ماہر ڈاکٹروں کی دستیابی اور صحت کی معیاری خدمات کو بھی فروغ ملے گا۔وزیر حسن مشرف کی جانب سے تجویز کو وزیراعلیٰ کے پاس منظوری کے لیے بھیجنے کی ہدایت کو شہر کے طبی اور تعلیمی مستقبل کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ شہری حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر یہ منصوبہ عملی شکل اختیار کرتا ہے تو بھیونڈی نہ صرف صحت کے شعبے میں خود کفیل بن سکے گا بلکہ پورے خطے کے لیے ایک جدید طبی مرکز کے طور پر ابھرے گا۔اس موقع پر رئیس شیخ نے کہا کہ ’’بھیونڈی کے عوام کو بہتر صحت کی سہولیات فراہم کرنے کی ہماری جدوجہد جاری رہے گی اور شہر کے حق کے ہر منصوبے کیلئے حکومت کے سامنے بھرپور آواز اٹھائی جاتی رہے گی۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK