Inquilab Logo Happiest Places to Work

بولیویا میں حکومت مخالف احتجاج جاری؛ کانگریس نے صدر کو فوج کی تعیناتی کے اختیارات کی منظوری دی

Updated: May 27, 2026, 8:00 PM IST | La Paz

بولیویا میں گزشتہ ایک ماہ سے کان کنوں، ٹرانسپورٹ ملازمین، کسانوں اور مقامی طبقات کی جانب سے مظاہرے اور شاہراہوں کی ناکہ بندی جاری ہے۔ مظاہرین صدر پاز سے استعفیٰ دینے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ مظاہرین اور سیکوریٹی فورسیز کے درمیان جھڑپوں میں ۱۲۰ سے زائد مظاہرین کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔

Photo: X
تصویر: ایکس

ملک بھر میں کئی ہفتوں سے جاری حکومت مخالف احتجاج، شاہراہوں کی ناکہ بندی اور اشیاء کی قلت کے درمیان بولیویا کی کانگریس نے ایک ایسے بل کو منظوری دی ہے جس کے تحت صدر روڈریگو پاز (Rodrigo Paz) کیلئے ملک میں ایمرجنسی کا اعلان کرنا اور احتجاج کو کچلنے کیلئے فوج کو تعینات کرنا آسان ہو جائے گا۔ یہ بل منگل کو بولیویا کے چیمبر آف ڈپٹیز (ایوانِ زیریں) میں دو تہائی سے زائد اکثریت سے منظور ہوگیا ہے۔

بل کی حمایت کرنے والے قانون سازوں نے دلیل دی کہ سابقہ قانون سازی نے صدر کے آئینی اختیارات کو کمزور کر دیا تھا اور حکومت کو پرتشدد احتجاج کا مؤثر جواب دینے سے روک دیا تھا۔ اپوزیشن کی قانون ساز سونیا سینانی نے اس اقدام پر تنقید کرتے ہوئے خبردار کیا کہ اس سے کشیدگی میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس بل کو منظوری دینا ”جلتی پر تیل چھڑکنے“ کے مترادف ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: آئرلینڈ کا مغربی کنارے میں یہودی بستیوں کو سامان تجارت کی فراہمی روکنے پر غور

واضح رہے کہ لاطینی امریکی ملک میں گزشتہ تقریباً ایک ماہ سے کان کنوں، ٹرانسپورٹ ملازمین، کسانوں اور مقامی طبقات کی جانب سے مظاہرے اور شاہراہوں کی ناکہ بندی جاری ہے۔ مظاہرین صدر پاز سے استعفیٰ دینے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق مظاہرین اور سیکوریٹی فورسیز کے درمیان جھڑپوں کے دوران ۱۲۰ سے زائد مظاہرین کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ 

متنازع بل کے خلاف احتجاج ملک گیر مظاہروں میں تبدیل

اپریل کے آخر میں بولیوین حکومت کی جانب سے متعارف کرائے گئے اراضی اصلاحات کے ایک مجوزہ منصوبے کے بعد ملک میں مظاہرے شروع ہوئے۔ چھوٹی زمینوں کے مالک کسانوں نے اس منصوبے کی مخالفت کی تھی، کیونکہ انہیں خدشہ تھا کہ اس سے بڑے جاگیرداروں کیلئے چھوٹی جائیدادوں پر قبضہ کرنا آسان ہو جائے گا۔ اگرچہ پاز نے بعد میں ان اصلاحات کو واپس لے لیا، لیکن ملک کے بگڑتے معاشی حالات، ایندھن کی قلت اور آئینی اصلاحات پر دیگر شعبوں کے ملازمین کے شامل ہونے سے احتجاج کا دائرہ وسیع ہوتا چلا گیا۔

یہ بھی پڑھئے: یورپ میں جہنم کی جھلک، برطانیہ اور فرانس میں گرمی کا ریکارڈ ٹوٹا

ٹرانسپورٹ شعبہ کے ملازمین نے حکام پر الزام لگایا کہ حکومت کی جانب سے ایندھن پر سبسڈی ختم کرنے کے بعد انہوں نے پٹرول کے معیار کو خراب ہونے دیا۔ ملاوٹ شدہ پٹرول کی وجہ سے گاڑیوں کے انجنوں کو نقصان پہنچنے کی رپورٹس سامنے آنے کے بعد حکومت کے خلاف عوام کے غصے میں مزید اضافہ ہوا۔ ملک بھر میں سڑکوں کی ناکہ بندی نے کئی علاقوں میں ایندھن، ادویات اور پانی کی قلت کو مزید سنگین کر دیا ہے۔

صدر پاز نے اپنی کابینہ میں ردوبدل، وزراء کی تنخواہوں میں ۵۰ فیصد کٹوتی اور ایک مذاکراتی کونسل قائم کرکے کشیدگی کو پرامن کرنے کی کوشش کی ہے، لیکن مظاہرے مسلسل جاری ہیں۔

پاز نے سابق صدر پر مظاہریں کی حمایت کا الزام لگایا

صدر پاز نے سابق صدر ایوو موریلس (Evo Morales) کے حامیوں پر بے چینی کو ہوا دینے کا الزام لگایا ہے۔ موریلس نے مظاہروں کی پشت پناہی کرنے کی تردید کی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ موریلس، پاز انتظامیہ کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کیونکہ ۱۱ مئی کو ان کے خلاف نابالغ لڑکی کے ساتھ زیادتی اور انسانی اسمگلنگ کے الزامات کے تحت گرفتاری کا وارنٹ جاری کیا گیا تھا۔ استغاثہ نے موریلس پر الزام لگایا ہے کہ انہوں نے ۲۰۱۵ء میں ایک ۱۵ سالہ لڑکی کو حاملہ کیا اور اسے بیرونِ ملک لے گئے۔ موریلس نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں سیاسی محرکات پر مبنی قرار دیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: روس کا ایبولا وائرس سے بچاؤ کی ویکسین ایجاد کرنے کا دعویٰ

امریکی سفارت خانے نے معمول کی خدمات معطل کردیں

امریکہ کے محکمہ خارجہ نے بدھ کو اعلان کیا کہ ملک گیر احتجاج اور سڑکوں کی ناکہ بندی کی وجہ سے بولیویا میں امریکی سفارت خانے کی معمول کی قونصلر خدمات کو عارضی طور پر معطل کیا جا رہا ہے۔ امریکہ نے شدید خلل اور سیکوریٹی کے خطرات کا حوالہ دیتے ہوئے اپنے شہریوں کو شہروں کے درمیان سڑک کے ذریعے سفر کرنے کے خلاف انتباہ جاری کیا ہے۔ حکام نے بتایا کہ ہوائی ٹریفک فعال ہے، لیکن ’ایل الٹو انٹرنیشنل ایئرپورٹ‘ تک جانے والے راستے کے وقفے وقفے سے بند ہونے کی رپورٹس سامنے آرہی ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK