• Wed, 04 November, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

کلیان: برسوں سے نظر انداز کنوؤں کی بحالی کا آغاز

Updated: November 04, 2026, 12:26 PM IST | Ejaz Abdul Ghani | Mumbai

عوامی نمائندوں اور شہریوں کے مطالبہ پرانتظامیہ کا عملی اقدام۔

There are several such wells in the city; restoring them could help alleviate water shortages. Photo: INN
شہر میں اس طرح کے کئی کنویں موجود ہیں جنہیںبحال کرکے پانی کی قلت کم کی جا سکتی ہے۔ تصویر: آئی این این

کلیان ڈومبیولی میونسپل کارپوریشن (کے ڈی ایم سی) میں تیزی سے بڑھتی ہوئی شہری آبادی اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات نے پانی کے بحران کو سنگین شکل دے دی ہے۔کنکریٹ کے جنگلات میں تبدیل ہوتے شہر میں قدرتی آبی ذرائع کی مسلسل نظراندازی کے باعث آج شہریوں کو پینے کے پانی کے لئے شدید دشواریوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ماضی میں پانی کی فراہمی کا اہم ذریعہ سمجھے جانے والے کنویں وقت گزرنے کے ساتھ گاد، کچرے اور عدم توجہی کی نذر ہوکر اپنی افادیت کھو چکے ہیں۔اب خشک سالی، پانی کے ٹینکروں پر بڑھتا ہوا انحصار اور حکومت کی جانب سے نافذ کردہ پانی کٹوتی نے شہریوں کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ ایسے میں انتظامیہ کو ایک بار پھر اپنے قدیم آبی ورثے کی اہمیت کا احساس ہونے لگا ہے اور کنوؤں کی بحالی کا معاملہ ترجیحات میں شامل ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔

کے ڈی ایم سی کے پینل نمبر۸؍ کے مقامی کارپوریٹر رمیض منیار نے پہل کرتے ہوئے میونسپل کمشنر ابھینوگوئل کو ایک مکتوب ارسال کیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: بھیونڈی میں ایف ڈی اے کی کارروائی،۴۲ء۱۲؍ کروڑ کا غذائی اشیاء ضبط

انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومتِ مہاراشٹر کی خشک سالی اور تحفظ آب کی پالیسی کے تحت کارپوریشن کے تمام ۱۲۲؍ وارڈوں میں بند، خراب اور خستہ حال کنوؤں کا جامع سروے کرایا جائے۔ مکتوب میں واضح کیا گیا ہے کہ ان لاوارث آبی ذرائع کی باقاعدہ جانچ اور صفائی کے ذریعے پانی کے دوبارہ استعمال کی ایک مفصل رپورٹ تیار کی جائے تاکہ شہریوں کو قلت آب سے بروقت نجات مل سکے۔

عوامی نمائندوں اور شہریوں کے پُر زور مطالبہ کے پیش نظر شہری انتظامیہ نے عملی قدم اٹھاتے ہوئے پہلے مرحلے میں ۴۰ ؍کنوؤں اور بورویل کی مرمت و بحالی کی تجویز تیار کر لی ہے۔ گزشتہ۱۵؍ روز کے دوران مختلف وارڈوں سے موصول ہونے والی عوامی شکایات کے بعد ان کنوؤں سے کیچڑ نکالنے اور نئے پمپ نصب کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے تاکہ ان کا پانی روزمرہ ضروریات کے لئے کام آ سکے۔انتظامیہ کا کہنا ہے کہ گزشتہ برس کلیان مشرق میں بحال کئے گئے ۳۵؍ کنویں آج بھی مقامی ضروریات پوری کر رہے ہیں اور اگر شہری اپنے علاقے کے عوامی کنوؤں کی بروقت نشاندہی کریں تو یہ روایتی کنویں پانی کے موجودہ بحران میں لائف لائن ثابت ہو سکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK