• Tue, 01 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

سی آر پی ایف کی نظر میں پیلٹ گن کا استعمال حقوق انسانی کے خلاف نہیں

Updated: September 01, 2026, 10:59 AM IST | Agency | New Delhi

جنتر منتر پر مظاہرین پر گولی برسانے والی سی آر پی ایف نے ایک آر ٹی آئی کے جواب میں کہا کہ اس پر الزامات انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے دائرےمیں نہیں آتے۔

Trinamool Congress leader Saket Gokhale had sought an answer. Picture: INN
ترنمول کانگریس لیڈر ساکیت گوکھلےنے جواب مانگا تھا۔ تصویر: آئی این این

ترنمول کانگریس کے لیڈر ساکیت گوکھلے نے پیر کو کہا کہ سینٹرل ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف) نے دعویٰ کیا ہے کہ دہلی میں مظاہرین پر پیلٹ گنوں کا استعمال انسانی حقوق کی خلاف ورزی نہیں ہے۔راجیہ سبھا کے سابق رکن گوکھلے نے کہا کہ وہ نیم فوجی دستے کا یہ جواب سپریم کورٹ میں پیش کریں گے ۔گوکھلے نے ایکس پر ایک پوسٹ میں اپنے دائر کردہ حق اطلاعات (آر ٹی آئی) کی درخواست کی نقل شیئر کی۔ اس درخواست میں انہوں نے۲۰؍ جولائی کو دہلی میں مظاہرین پر ریپڈ ایکشن فورس (آر اے ایف) کی جانب سے پیلٹ ایمونیشن استعمال کیے جانے سے متعلق معلومات طلب کی تھیں۔

یہ بھی پڑھئے:اسپیم کالز کو صرف بلاک نہیں، شکایت بھی کریں: ٹرائی

اسی روز کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کی اپیل پر طلبہ نے پارلیمنٹ کی جانب مارچ کیا تھا۔ گوکھلے نے کہا’’سی آر پی ایف کا دعویٰ ہے کہ دہلی میں مظاہرین پر پیلٹ گنوں کا استعمال انسانی حقوق کی خلاف ورزی نہیں ہے۔ میں نے ریپڈ ایکشن فورس سے جو سی آر پی ایف کا حصہ ہے، ۲۰؍ جولائی کو جنتر منتر کے احتجاج کے دوران غیر مسلح مظاہرین پر پیلٹ گنوں کے استعمال سے متعلق معلومات طلب کی تھیں۔‘‘انہوں نے کہا کہ قانون کے تحت سی آر پی ایف کو ان معاملات میں آر ٹی آئی ایکٹ سے استثنیٰ حاصل نہیں ہے جو بدعنوانی یا انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے متعلق ہوں۔تاہم، سی آر پی ایف نے اپنے جواب میں کہا کہ درخواست میں لگائے گئے الزامات انسانی حقوق کی خلاف ورزی سے متعلق دائرے میں نہیں آتے۔ گوکھلے کے مطابق اپیل دائر کئے جانے کے باوجود اپیلیٹ اتھاریٹی نے بھی یہی موقف اختیار کرتے ہوئے معلومات فراہم کرنے سے انکار کردیا۔گوکھلے نے مرکز پر ابتدا میں مظاہرین پر پیلٹ گن استعمال کیے جانے سے انکار کرنے کا بھی الزام عائد کیا۔انہوں نے کہا کہ پہلے مودی حکومت نے پیلٹ گن کے استعمال کے الزام کی تردید کی۔ پھر معاملہ سامنے آنے کے بعد متاثرین کی مجموعی تعداد سے متعلق معلومات دینے سے انکار کردیا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK