وزیر اعظم مودی نےتمام ممالک کی حکومتوں اور صنعت کاروں سے سائبر کرائم کی روک تھام کا ایک عالمی نظام بنانے کی اپیل کی۔
EPAPER
Updated: October 09, 2026, 1:56 PM IST | Agency | New Delhi
وزیر اعظم مودی نےتمام ممالک کی حکومتوں اور صنعت کاروں سے سائبر کرائم کی روک تھام کا ایک عالمی نظام بنانے کی اپیل کی۔
وزیر اعظم نریندر مودی نے سائبر کے شعبے میں جرائم اور فریب دہی کو ٹیکنالوجی کی توسیع کی راہ میں ایک بڑا چیلنج قرار دیتے ہوئے جمعرات کو دنیا کی حکومتوں اور صنعت کاروں سے سائبر کرائم کی روک تھام کا ایک عالمی نظام بنانے کی اپیل کی۔
وزیر اعظم نے کہا کہ ہندوستان اس سمت میں اپنے تجربات کے تبادلے کے لئے تیار ہے۔ مودی یہاں یشوبھومی میں۷؍ سے۱۰؍ اکتوبر تک منعقدہ ہندوستان کی ۱۰؍ویں انڈیا موبائل کانگریس کا باضابطہ افتتاح کر رہے تھے۔ تقریب میں مواصلات کے وزیر جیوترادتیہ سندھیا، وزیرِ مملکت چندر شیکھر پیماسانی، مختلف ریاستوں کے وزراء، موبائل ٹیلی کمیونیکیشن سروس کمپنیوں کے عالمی فورم-گلوبل سسٹم فار موبائل کمیونیکیشن اسوسی ایشن (جی ایس ایم اے) کے بورڈ آف گورنرز کے اراکین، دنیا بھر سے آئے ہوئے ٹیلی کام سروس و آلات ساز کمپنیوں کے نمائندے، ماہرین، طلبہ اور اسٹارٹ اپ کے شعبے سے جڑے تاجر شامل تھے۔وزیرِ اعظم نے کہا کہ ٹیکنالوجی بڑے پیمانے پر تبھی پہنچتی ہے جب وہ لوگوں کا اعتماد حاصل کر لیتی ہے۔ انہوں نے کہا، ’’آپ سبھی جانتے ہیں کہ سائبر فراڈ اور سائبر کرائم بھی سرحدوں کو نہیں مانتے، وہ پہلے ہی حدود سے باہر چلے گئے ہیں۔ ایک ملک میں بیٹھا شخص، کسی دوسرے ملک کی مدد سے، کسی تیسرے ملک میں جرم کر سکتا ہے۔ ڈیپ فیکس کتنا بڑا چیلنج بن چکے ہیں، یہ بھی ہم دیکھ رہے ہیں۔‘‘
مودی نے کہا، ’’اس لئے ضروری ہے کہ ہم اس کے لئے عالمی اصول و ضوابط بنانے پر کام کریں۔ حکومتیں، ٹیکنالوجی کمپنیاں، ٹیلی کام آپریٹرز اور مالیاتی ادارےسبھی کو اس نظام سے جڑنا ہوگا۔‘‘وزیرِ اعظم نے جی ایس ایم اے اور دنیا بھر کی ٹیلی کام کمپنیوں سے سائبر کرائم کے خلاف ایسا عالمی نظام قائم کرنے کا مطالبہ کیا جس میں سائبر دھوکہ بازوں کو لوگوں تک پہنچنے سے پہلے ہی روکا جا سکے۔ انہوں نے کہا، ’’ہندوستان نے اس سمت میں اپنے تجربے سے بہت کچھ سیکھا ہے اور ہندوستان اپنے تجربات کو دنیا کے ساتھ شیئر کرنے کے لئے ہمیشہ تیار ہے۔‘‘
عام شہری کے لئے بھر وسہ اہم ہے
وزیر اعظم مودی نے کہا، ’’ایک عام شہری کے لئے بھروسہ بہت اہم ہے۔ جب اس کو فون آئے تو اسے معلوم ہو کہ کال کون کر رہا ہے؟ جب پیغام آئے تو اسے معلوم ہو کہ وہ اصلی ہے یا فرضی۔ جب ادائیگی ہو تو اسے یقین ہو کہ اس کا پیسہ محفوظ ہے۔ جب وہ کسی فارم میں اپنا ڈیٹا دے تو اسے اعتماد ہو کہ اس کا ڈیٹا محفوظ ہے۔‘‘