شوہر سے الگ رہنے والی۳۷؍ سالہ جیلر دِویا چودھری کو اپنی ۲؍کم عمر بیٹیوں اور کرائے کے مکان کی دیکھ بھال میں مدد کی ضرورت تھی۔ وہ اجمیر سینٹرل جیل میں بطور جیلر تعینات تھی جبکہ گھرجیل سے ۸؍ کلومیٹر کی دوری پر تھا۔
EPAPER
Updated: October 09, 2026, 1:32 PM IST | Agency | Ajmer
شوہر سے الگ رہنے والی۳۷؍ سالہ جیلر دِویا چودھری کو اپنی ۲؍کم عمر بیٹیوں اور کرائے کے مکان کی دیکھ بھال میں مدد کی ضرورت تھی۔ وہ اجمیر سینٹرل جیل میں بطور جیلر تعینات تھی جبکہ گھرجیل سے ۸؍ کلومیٹر کی دوری پر تھا۔
شوہر سے الگ رہنے والی۳۷؍ سالہ جیلر دِویا چودھری کو اپنی ۲؍کم عمر بیٹیوں اور کرائے کے مکان کی دیکھ بھال میں مدد کی ضرورت تھی۔ وہ اجمیر سینٹرل جیل میں بطور جیلر تعینات تھی جبکہ گھرجیل سے ۸؍ کلومیٹر کی دوری پر تھا۔ گھر اور دفتر کے کام کو سنبھالنے میں دشواری کے بعد اس نے انوکھا طریقہ نکالا اور سینٹرل جیل کے اندر قائم خواتین اصلاحی مرکز میں قید ۲؍ خاتون قیدیوں کی مدد لینے کا فیصلہ کیا۔۱۲؍جولائی کو اس نے ۲؍ قیدیوں، کرن عرف سیٹھا، جو عمر قید کی سزا کاٹ رہی ہے اور زیر سماعت قیدی ثنا کے ساتھ جیل سے باہر نکلنے کی کوشش کی۔ یہ واقعہ اب دِویا چودھری کو اسی جیل میں پہنچا چکا ہے، جہاں وہ قیدیوں کی حفاظت اور نگرانی کی ذمہ دار تھی۔
پولیس کا الزام ہے کہ ودیانے جیل عملے کی مخالفت کے باوجود دونوں خاتون قیدیوں کو گھریلو کام کیلئے باہر لے جانے کی کوشش کرکے اپنے عہدے کا غلط استعمال کیا۔ راجستھان جیل قوانین۲۰۲۲ء کے تحت جیلر (کرپال) قیدیوں کی تحویل، سیکوریٹی اور نظم و ضبط کی ذمہ دار ہوتی ہے اور اسے سیکوریٹی میں کوتاہی اور دیگر بے ضابطگیوں کی اطلاع جیل سپرنٹنڈنٹ کو دینی ہوتی ہے۔حکام کے مطابق دِویا نے اپنی ’دوست‘ اور ساتھی کانسٹیبل سونیا چودھری کے ساتھ مل کر دونوں قیدیوں کو جیل سے باہر لے جانے کی کوشش کی لیکن جیل کے دروازے پر جھگڑا ہو گیا۔ حکام نے بتایا کہ جیل کے مرکزی دروازے پر تعینات دیگر جیل اہلکاروں کی مخالفت کے باوجود دِویا اور سونیا نے عملے کو ’دھمکایا‘۔
یہ بھی پڑھئے:ملک سے ٹی بی کے خاتمے کیلئے نوجوانوں پر مشتمل ’جوش‘ ٹیموں کا افتتاح
بھیلواڑہ کی رہنے والی دِویا اجمیر میں کرائے کے مکان میں رہتی تھی جبکہ اس کے شوہر بھی جیلر ہیں اور کوٹا میں تعینات ہیں۔ اجمیر کے ڈپٹی ایس پی شیوام جوشی نے بتایاکہ ”ان کی بیٹیاں بہت کم عمر ہیں۔ وہ چاہتی تھیں کہ یہ قیدی ان کی بیٹیوں کی دیکھ بھال کے ساتھ ساتھ گھر کی صفائی بھی کریں۔“ پولیس کے مطابق دِویا کے جیل سے نکلنے کے فوراً بعد معاملہ پھیل گیا اور دونوں قیدی بمشکل ”ایک یا دو گھنٹے“ باہر رہنے کے بعد واپس جیل پہنچ گئیں۔ ڈی ایس پی نے کہاکہ ”ان کی کارروائی غیر قانونی تھی۔ قیدیوں کو عدالت کے تحفظ میں جیل میں رکھا جاتا ہے۔ اس لیے مقدمہ درج کیا گیا اور تحقیقات شروع کی گئیں۔“ اندرونی تحقیقات مکمل ہونے اور دِویا کا قصور ثابت ہونے کے بعد۵؍ اگست کو اجمیر کے سول لائنز پولیس اسٹیشن میں مقدمہ درج کیا گیا۔
اپنی صفائی میں ودیا چودھری کا دعویٰ
پولیس کے مطابق دِویا نے اپنے دفاع میں کہا ہے کہ وہ گھر کی صفائی میں مدد کیلئے کسی کو رکھنا چاہتی تھی اور اس نے اپنی ماتحت سونیا سے کہا تھا کہ اوپن جیل سے خواتین کو لے کر آئے کیونکہ وہاں کےقیدیوں کو باہر جانے کی اجازت ہوتی ہے تاہم ماتحت اہلکار نے غلطی کی اور ان دونوں خواتین کو لے آئی۔ تفتیشی افسران نے ودیا کے دعوے کو غلط بتایا ہے۔ ڈپٹی ایس پی شیوام جوشی نے بتایا کہ ”اب اسے اسی جیل میں رکھا گیا ہے جہاں وہ خود ملازمت کرتی تھی۔“ یہ کارروائی اجمیر سینٹرل جیل کے گارڈ مہپال منگلوڑا کی رپورٹ کی بنیاد پر کی گئی۔ تاہم ایف آئی آر درج ہونے کے بعد گرفتاری سے بچنے کے لیے دِویا فرار ہوگئی تھی۔ پولیس کی خصوصی ٹیم نے اسے اس کے شوہر کے فلیٹ سے گرفتار کیا۔