• Fri, 09 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ملک سے ٹی بی کے خاتمے کیلئے نوجوانوں پر مشتمل ’جوش‘ ٹیموں کا افتتاح

Updated: October 09, 2026, 1:28 PM IST | Agency | New Delhi

وزیر صحت جےپی نڈا نے اسے ٹی بی کے خلاف اجتماعی جدوجہد میں ایک اہم سنگ میل قرار دیا، تپ دق کے خاتمہ میں بہتر کارکردگی کا حوالہ بھی دیا۔

Nadda and Rekha Gupta at the inauguration of ‘Josh’. Photo: INN
نڈا اور ریکھا گپتا ’جوش‘ کے افتتاح پر۔ تصویر: آئی این این

مرکزی وزیر صحت و خاندانی بہبود جگت پرکاش نڈا نے جمعرات کو نئی دہلی کے بھارت منڈپم میں منعقدہ قومی تقریب میں ’ٹی بی مکت بھارت ابھیان‘ کے تحت جوش( جے او ایس ایچ) ٹیموں کا آغاز کیا۔ اس پہل کا مقصد ملک میں تپِ دق (ٹی بی) کے خاتمے کی کوششوں میں نوجوانوں کی فعال شمولیت کو مضبوط بنانا ہے۔ اس مہم کے ذریعے نوجوانوں کی توانائی، رسائی اور عزم کو استعمال کرتے ہوئے ملک بھر کی برادریوں تک ٹی بی سے بچاؤ، بروقت تشخیص، مناسب علاج اور اس بیماری سے وابستہ سماجی بدنامی کے خاتمے کا پیغام پہنچایا جائے گا۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نڈا نے جوش ٹیموں کے آغاز کو ہندوستان میں ٹی بی کے خلاف اجتماعی جدوجہد میں ایک اہم سنگ میل قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ٹی بی سے پاک ہندوستان کی کوششیں اب محض ایک روایتی صحت پروگرام تک محدود نہیں رہی ہیں بلکہ ایک عوامی تحریک کی شکل اختیار کرچکی ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: ’’قطع تعلق اور شادی سے انکار کی بنیاد پر خودکشی کیلئے اُکسانے کا مقدمہ نہیں چلایا جاسکتا‘‘

نڈانے کہا کہ  یہ پہل صرف معلومات پھیلانے تک محدود نہیں ہوگی بلکہ لوگوں کے درمیان بامعنی گفتگو، اعتماد سازی اور ان کے خدشات دور کرنے پر بھی توجہ دے گی، تاکہ لوگ بروقت جانچ اور علاج کیلئے آگے آئیں۔ مرکزی وزیر صحت نے زور دیا کہ ہندوستان کی ٹی بی کے خاتمے کی حکمت عملی صرف بیداری اور جانچ تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ تشخیص، علاج اور علاج مکمل ہونے تک مریض کی مدد کو بھی شامل کرنا ضروری ہے۔     نڈا نے عالمی ادارۂ صحت کی تازہ رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہندوستان میں ٹی بی کے واقعات میں۲۱؍ فیصد کمی آئی ہے، جبکہ عالمی سطح پر یہ کمی۱۲؍ فیصد رہی۔   

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK