• Wed, 02 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

غزہ میں اسرائیلی حملوں میں اضافہ نسل کشی جاری رکھنے کے مترادف ہے: حماس

Updated: September 01, 2026, 10:03 PM IST | Gaza

غزہ میں اسرائیلی فوج کے تازہ حملوں کے بعد حماس نے کہا ہے کہ جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزیاں اب الگ الگ واقعات نہیں رہیں بلکہ ’’مختلف شکلوں میں جاری جنگ‘‘ کی صورت اختیار کر چکی ہیں۔ حماس کے مطابق اسرائیلی حملوں میں جنوبی غزہ میں گھروں کی مسماری، غزہ شہر کے ساحل کے قریب ماہی گیروں پر فائرنگ اور شہریوں کو نشانہ بنانا شامل ہے، جبکہ تازہ حملوں میں کم از کم ۵؍ فلسطینی جاں بحق اور متعدد زخمی ہوئے ہیں۔ تنظیم نے ثالثوں اور جنگ بندی کے ضامن ممالک سے فوری مداخلت اور اسرائیل پر جنگ بندی کی پابندی کے لیے دباؤ ڈالنے کا مطالبہ کیا ہے۔

حماس۔ تصویر: ایکس
حماس۔ تصویر: ایکس

فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے کہا ہے کہ غزہ میں اسرائیل کی بڑھتی ہوئی جارحیت کو اب جنگ بندی کی الگ الگ خلاف ورزیوں کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا، بلکہ یہ ’’مختلف شکلوں میں جاری جنگ‘‘ کی صورت اختیار کر چکی ہے۔ حماس نے اپنے ایک سرکاری بیان میں کہا کہ ’’جنگی مجرم بنیامین نیتن یاہو کی حکومت کی جانب سے غزہ میں منظم فسطائی جارحیت اب بکھری ہوئی خلاف ورزیوں کا سلسلہ نہیں رہی، بلکہ مختلف شکلوں میں جاری جنگ اور جنگ بندی معاہدے سے انحراف ہے۔‘‘ تنظیم کے مطابق اسرائیلی فوج نے پیر کی صبح اپنے حملوں میں مزید شدت پیدا کی، جس کے نتیجے میں کم از کم  ۵؍ فلسطینی جاں بحق اور کئی دیگر زخمی ہوئے۔ حماس نے بتایا کہ اسرائیلی حملوں میں جنوبی غزہ میں گھروں کی مسماری، غزہ شہر کے ساحل کے قریب ماہی گیروں پر فائرنگ اور غزہ کے مختلف علاقوں میں عام شہریوں کو براہِ راست نشانہ بنانا شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: نیویارک: ظہران ممدانی کے ہم شکلوں کا مقابلہ، ۹؍ امیدواروں میں ۱۰۰؍ ڈالر کیلئے مقابلہ

حماس نے علاقائی اور بین الاقوامی ثالثوں سے ایک بار پھر مطالبہ کیا کہ وہ فوری مداخلت کریں اور اسرائیلی قیادت کو ان حملوں کا ذمہ دار ٹھہرائیں۔ بیان میں کہا گیا کہ جنگ بندی معاہدے کے ثالث اور ضامن اپنی ذمہ داریاں ادا کریں، ’’صہیونی جرائم‘‘ کے خلاف فوری کارروائی کریں، اسرائیلی حکومت پر دباؤ ڈالیں کہ وہ فلسطینیوں کے خلاف جارحیت بند کرے اور بین الاقوامی سرپرستی میں طے پانے والے معاہدے کی پابندی کرے۔ واضح ہو کہ یہ حملے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے عوامی سطح پر غزہ میں بمباری روکنے کی بات کی ہے۔ ایک انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا تھا کہ اسرائیل کو غزہ میں حملے نہیں کرنے چاہئیں۔

یہ بھی پڑھئے: کچھ دن کی خاموشی کے بعد امریکہ کے ایران پر پھر حملے

حماس کے مطابق ۱۰؍ اکتوبر ۲۰۲۵ء کو جنگ بندی معاہدہ نافذ ہونے کے بعد سے اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزیوں میں ایک ہزار ۳۲۰؍ فلسطینی جاں بحق اور ۴؍ ہزار ۳۸۵؍ زخمی ہو چکے ہیں، جبکہ امدادی اور ریسکیو ٹیمیں ملبے تلے سے سیکڑوں لاشیں بھی نکال چکی ہیں۔ غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق اکتوبر ۲۰۲۳ء سے غزہ میں جاری اسرائیلی جنگ کے نتیجے میں اب تک کم از کم ۷۳؍ ۴۵۴؍ فلسطینی جاں بحق اور ایک لاکھ ۷۴؍ ۴۸۶؍ زخمی ہو چکے ہیں۔ وزارت کے مطابق جاں بحق اور زخمی ہونے والوں میں بڑی تعداد خواتین اور بچوں کی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK