• Tue, 01 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

کچھ دن کی خاموشی کے بعد امریکہ کے ایران پر پھر حملے

Updated: September 01, 2026, 1:04 PM IST | Agency | Washington/Tehran

امریکی فوج نے ایران کے لارک جزیرے پر موجود دو میزائل لانچروں کو نشانہ بنایا جبکہ ایران نے اردن میں قائم امریکی فوجی اڈوں کو میزائلوں سے نشانہ بناکر ان حملوں کا جواب دیا ،امریکہ کے مطابق پاسداران انقلاب آبنائے ہرمز میں بحری بارودی سرنگیں نصب کرنے والے راکٹ لانچ کرنے کی تیاری کر رہے تھے۔

The US-Iran war could escalate again. Picture: INN
امریکہ ایران جنگ پھرشدید ہوسکتی ہے۔ تصویر: آئی این این

کئی ہفتوں کے وقفے کے بعد امریکہ اور ایران کی افواج نے ایک بار پھر ایک دوسرے پر حملے شروع کر دیے ہیں۔ امریکی فوج نے ایران کے لارک جزیرے پر موجود دو میزائل لانچروں کو نشانہ بنایا، جبکہ ایران نے دعویٰ کیا کہ اس نے جوابی کارروائی میں اردن میں قائم امریکی فوجی اڈوں کو میزائلوں سے نشانہ بنایا، حالانکہ اردن کا کہنا ہے کہ اس نے ان میزائلوں کو فضا میں ہی تباہ کر دیا۔ایک امریکی عہدیدار کے مطابق امریکی افواج نے اتوار کے روز لارک جزیرے پر دو ایرانی لانچروں کو نشانہ بنایا۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ایرانی پاسداران انقلاب کے اہلکار آبنائے ہرمز میں بحری بارودی سرنگیں نصب کرنے والے راکٹ لانچ کرنے کی تیاری کر رہے تھے۔

 

یہ بھی پڑھئے: ایرانی افواج نے متحدہ عرب امارات میں امریکی اڈے کو نشانہ بنایا اور امریکی ڈرون مار گرایا: رپورٹ

ایران کی نیم سرکاری نیوز ایجنسی ’تسنیم ‘نے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا کہ امریکہ نے ایرانی جزیرے پر ڈرون حملہ کیا۔یہ کارروائی جولائی کے اواخر کے بعد سے ایران کے خلاف امریکہ کا پہلا معلوم فوجی حملہ ہے۔ صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر کہا کہ ایران کے توانائی کے اہم مرکز خارگ جزیرے کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے، تاہم انہوں نے اس بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔ فوری طور پر ایسی کوئی دوسری رپورٹ سامنے نہیں آئی جس میں خارگ جزیرے پر حملے کی تصدیق کی گئی ہو۔ٹرمپ انتظامیہ گزشتہ کئی ہفتوں سے ایران اور اس کے کاروباری شراکت داروں پر سخت اقتصادی پابندیاں عائد کر کے تہران کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے کی کوشش کر رہا تھا۔

ایران کا جوابی حملہ

ایران کے پاسداران انقلاب نے پیر۳۱؍ اگست کو دعویٰ کیا کہ انہوں نے لارک جزیرے پر امریکی حملے کے جواب میں اردن میں قائم دو امریکی فوجی اڈوں کو بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا۔ایرانی میڈیا کے مطابق پاسداران انقلاب نے کہا کہ یہ حملہ امریکی فوجی کارروائی کے جواب میں کیا گیا۔دوسری جانب اردن کی مسلح افواج نے کہا ہے کہ انہوں نے اردن کی فضائی حدود میں داخل ہونے والے۸؍ میزائلوں کو فضا میں ہی تباہ کر دیا۔اردن کی سرکاری نیوز ایجنسی پیٹرا کے مطابق اردن کی فوج نے ایک بیان میں کہا کہ فضائی دفاعی نظام نے پیر کی صبح ملک کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرنے والے۸؍ میزائلوں کو روک دیا ۔ ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق پاسداران انقلاب نے کہا کہ امریکی حملے میں متعدد فوجی اور شہری ہلاک یا زخمی ہوئے ہیں اور تہران اس کا ’جواب اور سزا‘ دے گا۔حالیہ ہفتوں میں ٹرمپ انتظامیہ نے فوجی کارروائی کے بجائے اقتصادی دباؤ پر زیادہ توجہ مرکوز کی تھی اور ایران کے خلاف سخت پابندیوں کے ذریعے تہران پر دباؤ بڑھایا جا رہا تھا۔ تاہم تازہ حملوں کے بعد دونوں ممالک کے درمیان اور خطے میں بھی مجموعی فوجی کشیدگی ایک بار پھر بڑھ گئی ہے۔

اگر میں امریکہ کا صدر نہ ہوتا تو اسرائیل ختم ہوچکا ہوتا: ڈونالڈ ٹرمپ

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف معاشی دباؤ مؤثر ثابت ہو رہا ہے اور ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہوں گے۔ڈونالڈ ٹرمپ نے فاکس نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں ۲۸؍ فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں سے شروع ہونے والی جنگ کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ ٹرمپ  نے دعویٰ کیا کہ تہران کے خلیجی ممالک پر حملے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اگر اس کے پاس جوہری ہتھیار ہوتے تو وہ انہیں استعمال کرتا، اس سے مشرقِ وسطیٰ اور اسرائیل تباہ ہو جاتے  اور یورپ اور امریکہ اگلا ہدف بن  جاتے۔انہوں نے کہا  کہ اگر میں امریکہ کا صدر نہ ہوتا تو اسرائیل ختم ہو چکا ہوتا، ممکن ہے مشرقِ وسطیٰ بھی نہ رہتا۔ٹرمپ نے  ایران کے خلاف معاشی دباؤ کو مؤثر قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران زوال پذیر ملک ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK