• Tue, 22 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

حوثی حملوں کا مقابلے کیلئے برطانیہ فضاء میں ایندھن بھرنے والے طیارے فراہم کرےگا

Updated: September 22, 2026, 7:50 PM IST | London

برطانوی حکام نے ان مشنز کو ”دفاعی“ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ انتظام چند دنوں میں شروع ہو جائے گا جس میں آر اے ایف (RAF) کا ایک واحد وائجر طیارہ سعودی جیٹ طیاروں کو ایندھن فراہم کرے گا۔ حکام نے سعودی عرب کے ساتھ برطانیہ کی دیرینہ دفاعی شراکت داری کا ذکر کیا، اگرچہ وہ اس سے قبل آپریشنل تفصیلات پر تبصرہ کرنے سے گریز کرتے رہے تھے۔

Photo: X
تصویر: ایکس

برطانوی وزیرِ اعظم اینڈی برنہم نے پیر کے روز اعلان کیا ہے کہ یمن میں ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں کے نئے حملوں کے جواب میں برطانیہ نے سعودی عرب کو محدود فوجی امداد فراہم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ نیویارک میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کیلئے روانگی کے دوران صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے برنہم نے کہا کہ رائل ایئر فورس (آر اے ایف) چند ہفتوں پر محیط ایک معاہدے کے تحت سعودی طیاروں کو فضا ہی میں ایندھن (ایئر ٹو ایئر ری فیولنگ) فراہم کرے گی، اگرچہ اس معاہدے کا باقاعدگی سے جائزہ لیا جاتا رہے گا۔

یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ ایران کے خلاف مختلف متبادلات پرغور کر رہے ہیں، پزشکیان مذاکرات کے خواہاں

برطانیہ کا یہ اقدام ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حوثیوں اور یمن کی سعودی حمایت یافتہ حکومت کے درمیان لڑائی میں شدت آ گئی ہے۔ گزشتہ چند دنوں میں حوثیوں نے سعودی عرب پر کئی میزائل اور ڈرون حملے کئے ہیں، جن میں ہفتے کے روز ریاض کو نشانہ بنانے والا ایک ایسا حملہ بھی شامل ہے جسے فضا میں ہی ناکارہ بنا دیا گیا تھا۔ حوثیوں نے آبنائے باب المندب اور بحیرہ احمر کے راستے سعودی جہاز رانی کی ناکہ بندی بھی کر رکھی ہے اور وہ سعودی عرب سے منسلک بحری جہازوں اور تیل کی تنصیبات کو بھی نشانہ بنا رہے ہیں۔ اس ماہ کے اوائل میں، حوثی فورسیز نے یمن کے اندر پیش قدمی کرتے ہوئے ساحلی شہر مخا اور بحیرہ احمر کے اہم جزائر پر قبضہ کر لیا تھا، جس کے بعد انہیں جہاز رانی کی ان گزرگاہوں پر مزید کنٹرول حاصل ہوگیا ہے جہاں سے دنیا کی تقریباً ۱۲ فیصد تجارت گزرتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: افغانستان پرپاکستان کے فضائی حملوں میں ۲۸؍ جنگجو ہلاک

برنہم نے کہا کہ اس فیصلے کا مقصد برطانوی اور علاقائی مفادات کا تحفظ کرنا ہے۔ انہوں نے مزید رکاوٹوں کے خطرے کے پیشِ نظر تیل کی تجارتی گزرگاہوں کو کھلا رکھنے کی ضرورت کا حوالہ دیا۔ برطانیہ نے حوثی حملوں کی مذمت کی ہے اور علاقائی استحکام اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر رسائی کی حمایت کیلئے شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کرنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔

برطانوی حکام نے ان مشنز کو ”دفاعی“ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ انتظام چند دنوں میں شروع ہو جائے گا جس میں آر اے ایف (RAF) کا ایک واحد وائجر طیارہ سعودی جیٹ طیاروں کو ایندھن فراہم کرے گا۔ حکام نے سعودی عرب کے ساتھ برطانیہ کی دیرینہ دفاعی شراکت داری کا ذکر کیا، اگرچہ وہ اس سے قبل آپریشنل تفصیلات پر تبصرہ کرنے سے گریز کرتے رہے تھے۔

یہ بھی پڑھئے: مصر، سوڈان اور امریکی حکام کے درمیان سوڈان جنگ کے خاتمے پرگفتگو

امریکہ، جس نے بائیڈن اور ٹرمپ دونوں انتظامیہ کے تحت حوثیوں کے خلاف فضائی حملے کئے تھے، نے تاحال اس بات کا کوئی اشارہ نہیں دیا ہے کہ وہ موجودہ کشیدگی میں عسکری طور پر مداخلت کا ارادہ رکھتا ہے۔ اطلاعات کے مطابق سعودی عرب نے فرانس، پاکستان اور مصر سمیت متعدد اتحادیوں سے فضائی دفاعی مدد طلب کی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK