• Wed, 21 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

پینے کے صاف پانی کے حوالے سے ہندوستان۱۲۲؍ ممالک میں۱۲۰؍ ویں نمبر پر

Updated: January 21, 2026, 3:28 PM IST | New Delhi

پینے کےصاف پانی کے حوالے سے ہندوستان۱۲۲؍ ممالک میں۱۲۰؍ ویں نمبر پر ، صرف دو ممالک اس سے بدتر ہیں، خواتین اس کا اضافی بوجھ اٹھانے پر مجبور۔

Picture: INN
تصویر: آئی این این

چوتھی بڑی معیشت ہونے کا دعویٰ اس وقت تک ایک کھوکھلا نعرہ رہے گا جب تک بچے غیر محفوظ پانی پیتے رہیں گے، خواتین غیر متناسب بوجھ اٹھاتی رہیں گی۔ ہندوستان آج صاف پینے کے پانی کی دستیابی کے لحاظ سے۱۲۲؍ ممالک میں۱۲۰؍ ویں نمبر پر کھڑا ہے۔ صرف دو ممالک اس سے بدتر ہیں۔ یہ کوئی معمولی اعدادوشمار نہیں، یہ زندگی کی اولین ضرورت  ہے۔  جہاں دیہی علاقے نلکے، محفوظ پانی کی کمی ۸۴؍ فیـصدسے غیر متناسب طور پر متاثر ہیں اور زیرزمین پانی پر بہت زیادہ انحصار کرتے ہیں، جبکہ شہری علاقوں میں تیزی سے کمی، گٹر/صنعتی آلودگی، اور ناکافی ٹریٹمنٹ جیسے مسائل درپیش ہیں، جو ہیضہ اور ٹائیفائیڈ جیسے صحت کے مسائل کو بڑھا رہے ہیں۔ حکومتی کوششوں جیسے جل جیون مشن کے باوجود، شہر اور گاؤں کے بنیادی نظام اور معیار میں واضح فرق نظر آتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: دہلی کے نظم و نسق پر ریاست کی اپوزیشن لیڈر آتشی کا اظہار تشویش

دیہی علاقے:
 زیرزمین پانی پر بہت زیادہ انحصار (۸۵؍ فیصد سپلائی)، جس کی وجہ سے تیزی سے کمی اور آلودگی پھیل رہی ہے؛ بہت سے گھروں میں نلکے کا پانی نہیںجس سے خواتین اور لڑکیوں پربوجھ بڑھتا ہے۔
شہری علاقے:
 باوجود کچھ عوامی نلوں تک رسائی کے چیلنجوں سے نمٹنا کوئی آسان کام نہیں۔ اس کے لیے سنجیدہ سیاسی عزم کی ضرورت ہے۔ 
 آلودگی: 
سطحی اور زیرزمین پانی دونوں میں آلودگی کی بلند سطحیں پانی کو غیر محفوظ بنا رہی ہیں۔

زیرزمین پانی کی سطح میں کمی:
 ہندوستان زیرزمین پانی کا دنیا میں سب سے بڑا استعمال کنندہ ہے، جس کی وجہ سے پانی کی سطح میں تیزی سے گراؤٹ آ رہی ہے۔
بنیادی نظام کی خامیاں:
دیہی علاقوں میں نلکے کے پانی کا فقدان اور شہروں میں حد سے زیادہ بوجھل نظام اس خامی کو مزید گہرا کررہا ہے۔
عوامی صحت پر اثرات: 
پانی کا خراب معیار براہ راست ہیضہ، ٹائیفائیڈ، اور اسہال جیسی بیماریوں کا سبب بن رہا ہے، خاص طور پر کم ترقی یافتہ علاقوں  میں۔
دریں اثناء ہندوستان کو آلودہ دریاؤں، آلودہ زیرزمین پانی (کچھ جائزوں میں۷۰؍ فیصد تک)، اور ناکافی گندے پانی کے ٹریٹمنٹ جیسے بڑے مشکلات کا سامنا ہے، جو کروڑوں لوگوں کو متاثر کر رہے ہیں۔جس سے ہر سال لاکھوں اموات ہوتی ہیں۔صحت، تعلیم، پیداواریت، صنفی مساوات، اور وقار بھی اس سے متاثر ہوتے ہیں۔ ہندوستان کے گاؤں میں، خواتین آج بھی پانی کے لیے کئی کلومیٹر پیدل چلتی ہیں۔ شہری بستیوں میں، خاندان میونسپل ٹینکروں کے لیے قطار لگاتے ہیں، بے یقینی کے عالم میں کہ سپلائی آئے گی بھی یا نہیں۔ ان شہروں میں زیرزمین پانی کی سطح گر رہی ہے اور نل کا پانی پینے کے لیے تیزی سے ناقابل استعمال ہوتا جا رہا ہے۔ یہاں تک کہ متوسط طبقے کے گھرانے نجی فلٹرز، بوتل بند پانی، یا مہنگے ٹینکروں پر انحصار کرتے ہیں، خاموشی سے اس بحران کو معمول بنا رہے ہیں۔ پانی کو ایک عوامی بھلائی اور آئینی حق سمجھنے کے بجائے، اسے ایک شے بنا دیا گیا ، جس کی قیمت لگائی جاتی ہے، نجکاری کی جاتی ہے، اور غیر مساوی طور پر تقسیم کیا جاتا ہے۔ جو ادا کر سکتے ہیں، وہ زندہ رہتے ہیں۔ جو نہیں کر سکتے، خاموشی سے جھیلتے ہیں۔ قابل اعتماد پانی اور صفائی کے بغیر اسکولوں میں ڈراپ آؤٹ کی شرح زیادہ ہوتی ہے، خاص طور پر لڑکیوں میں۔ پانی کی قلت کے دوران حاضری کم ہو جاتی ہے۔ملازمت اور روزگار بھی یکساں متاثر ہوتے ہیں۔ کسان پانی کے دباؤ، فصل کی ناکامی، اور بڑھتی لاگت کا سامنا کرتے ہیں۔ شہری کارکن اجرت کمانے کے بجائے پانی کی فراہمی میں گھنٹے ضائع کرتے ہیں۔ غیر رسمی بستیاں جو ہندوستان کی لیبر فورس کی ریڑھ کی ہڈی ہیں سب سے زیادہ پانی کی عدم تحفظ کا شکار ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: نوئیڈا سڑک حادثہ: یوپی حکومت کا ایس آئی ٹی کو ۵؍ دن میں رپورٹ پیش کرنے کا حکم

ہندوستان میگا پراجیکٹس، ہائی اسپیڈ کوریڈورز، اور بین الاقوامی سربراہی اجلاسوں کا انعقاد کرتا ہے جبکہ پانی کا انفراسٹرکچر فرسودہ یا غیر موجود ہے۔ ریاست بنیادی سہولیات یقینی بنانے سے پہلے اعزازات ،درجہ بندی، تحسین تلاش میں ہے۔ محفوظ پانی میں۱۲۲؍ میں سے۱۲۰؍ ویں نمبر پر ہونا شبیہہ کا معاملہ نہیں ہے۔ یہ بقا، انصاف، اور اخلاقی ذمہ داری کا معاملہ ہے۔عدم مساوات اس بحران کو تیز کرتی ہے۔ امیر لوگ نجی حل کے ذریعے خود کو محفوظ کر لیتے ہیں۔ غریب نتائج بھگتتے ہیں۔ جب پانی غیر محفوظ ہو، تو مساوات ناممکن ہو جاتی ہے۔اگر ہندوستان واقعی ایک عالمی طاقت کے طور پر سنجیدگی سے لیا جانا چاہتا ہے، تو اسے پہلے اپنے عوام کو سنجیدگی سے لینا ہوگا۔ پانی کو پالیسی کے کنارے سے اس کے مرکز میں لانا ہوگا۔ عوامی سرمایہ کاری، غیر مرکوز پانی کا انتظام، آلودگی پر قابو، زیر زمین پانی کے ذخائر کا تحفظ، اور موسمیاتی لچک اختیاری نہیں ہیںوہ بنیادی ہیں۔چوتھی بڑی معیشت ہونے کا دعویٰ اس وقت تک ایک کھوکھلا نعرہ رہے گا جب تک بچے غیر محفوظ پانی پیتے رہیں گے، خواتین غیر متناسب بوجھ اٹھاتی رہیں گی، اور لاکھوں لوگ قلت کے گرد اپنی زندگیوں کا نظام بنائے رکھیں گے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK