• Mon, 21 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ہندوستان کو ۱۷؍ سالوں کے بد ترین بارش کے خسارے کا سامنا، جبکہ مانسون قریب الختم

Updated: September 21, 2026, 12:09 PM IST | New Delhi

ہندوستان کو ۱۷؍ سالوں کے بدترین بارش کے خسارے کا سامنا ہے، جبکہ جنوب مغربی مانسون نے مغربی راجستھان سے نکلنا شروع کر دیا ہے، جس کے سبب فصل کے متاثر ہونے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

جنوب مغربی مون سون نے انتہائی مغربی راجستھان کے کچھ حصوں سے نکلنا شروع کر دیا ہے، جو مانسون کے اختتام کے آغاز کی نشاندہی کرتا ہے، یہاں تک کہ جب ہندوستان کو۱۷؍ سالوں میں اپنی بدترین خشک سالی کا سامنا ہے۔ محکمہ موسمیات ہند (IMD) نے کہا کہ انخلاء۱۷؍ ستمبر کی معمول کی تاریخ سے دیر سے شروع ہوا، اور اگلے تین سے چار دنوں میں راجستھان کے مزید علاقوں اور پنجاب اور گجرات کے کچھ حصوں تک پھیلنے کے لیے حالات سازگار ہیں۔دریں اثناء ایک مضبوط ال نینو کی وجہ سے، سیزن کے لیے ملک گیر بارش کی کمی۱۵؍ فیصد ہے، لیکن جنوبی جزیرہ نما سب سے زیادہ متاثر ہے، جس میں۲۸؍ فیصد کمی ہے۔ آندھرا پردیش۴۳؍ فیصد کے ساتھ سب سے زیادہ خراب تھا، اس کے بعد کرناٹک۳۱؍ فیصد، کیرالہ (۲۸؍ فیصد)، تمل ناڈو (۲۲؍ فیصد) اور تلنگانہ (۲۱؍ فیصد)۔

یہ بھی پڑھئے: خشک سالی جائزہ اجلاس میں کاجو بادام کھانے پر تنازع، اپوزیشن نے سخت تنقید کی

علاوہ ازیں بڑی کمی والی دیگر ریاستوں میں پنجاب، بہار، ہریانہ اور راجستھان شامل ہیں۔ مشرق اور شمال مشرق کے خطے میں۲۶؍ فیصد کمی ہے، میگھالیہ، منی پور، اروناچل پردیش اور آسام سب سے زیادہ متاثر ہیں۔ مانسون نے تاخیر سے شروع ہونے کے بعد۹؍ جولائی تک پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ جولائی واحد مہینہ تھا جس میں اضافی بارش ہوئی، اگرچہ تھوڑی سی۔ جون۳۵؍ فیصد خسارے کے ساتھ ختم ہوا اور اگست۱۶؍ فیصد کمی کے ساتھ۔ہندوستان کو اب۱۷؍ سالوں میں اپنے کمزور ترین مانسون اور سب سے زیادہ وسیع خشک سالی کے حالات کا سامنا ہے، جو۲۰۰۹ء کے بعد سب سے بدترین ہے، جب خسارہ۱۸؍ فیصد تھا۔ واضح رہے کہ سیزن روایتی طور پر۳۰؍ ستمبر کو ختم ہوتا ہے، لیکن موسمی نمونوں میں تبدیلی کی وجہ سے حالیہ برسوں میں انخلاء اکتوبر کے وسط سے آخر تک تاخیر کا شکار رہا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ناسک میں ہورڈنگ کیلئے ۵۵؍درختوں کو کاٹنے کا انکشاف!

بعد ازاں ماہرین موسمیات نے کہا کہ اگلے ہفتے خلیج بنگال میں ایک گہرا ڈپریشن بنے گا، جس سے اوڈیشہ اور آندھرا پردیش جیسی ساحلی ریاستوں میں بارش ہوگی۔ پھر بھی، اس سے قومی موسمی خسارے میں زیادہ فرق نہیں پڑے گا۔ جبکہ۱۵؍ فیصد خسارے نے خریف کی بوائی میں خلل ڈالا، جس سے کسان متاثر ہوئے۔ نیز سیزن کا آغاز انتہائی تاخیر اور جولائی میں مختصر بحالی کے ساتھ ہوا، اس کے بعد اہم خوراک، تیل اور فائبر کی فصلوں کے رقبے میں کمی واقع ہوئی۔
ال نینو کیا ہے؟
یہ بحرالکاہل کا غیر معمولی گرم ہونا ہے جو دنیا بھر میں موسمی نمونوں میں خلل ڈالتا ہے اور خسارے کی بارش کی بنیادی وجہ کے طور پر ابھرا ہے۔ سائنسدانوں کے مطابق، یہ ال نینو اب تک ریکارڈ کیے گئے سب سے شدید ترین میں سے ایک ہونے والا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK