مکہ مکرمہ کی مسجد الحرام کے معروف مؤذن شیخ ابراہیم بن عادل حمزہ المدنی پیر ۲۱؍ ستمبر کی علی الصباح انتقال کر گئے۔ ان کی آخری اذان کی ویڈیو سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی، جبکہ نمازِ جنازہ نمازِ عصر کے بعد مسجد الحرام میں ادا کی جائے گی۔
EPAPER
Updated: September 21, 2026, 4:02 PM IST | Mecca
مکہ مکرمہ کی مسجد الحرام کے معروف مؤذن شیخ ابراہیم بن عادل حمزہ المدنی پیر ۲۱؍ ستمبر کی علی الصباح انتقال کر گئے۔ ان کی آخری اذان کی ویڈیو سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی، جبکہ نمازِ جنازہ نمازِ عصر کے بعد مسجد الحرام میں ادا کی جائے گی۔
مکہ مکرمہ کی مسجد الحرام کے مؤذن شیخ ابراہیم بن عادل حمزہ المدنی پیر ۲۱؍ ستمبر کی علی الصباح انتقال کر گئے۔ ان کے انتقال پر حرمین شریفین سے وابستہ افراد اور دیگر لوگوں نے سوشل میڈیا پر تعزیت اور افسوس کا اظہار کیا۔ سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی ایک ویڈیو میں انسائیڈ دی حرمین نے اسے مسجد الحرام میں شیخ ابراہیم المدنی کی آخری اذان قرار دیا۔ ویڈیو میں مسجد الحرام اور خانۂ کعبہ کے مناظر دکھائی دیتے ہیں جبکہ ان کی اذان مسجد کے لاؤڈ اسپیکروں سے گونج رہی ہے۔ یہ اذان پیر ۱۱؍ ربیع الاول ۱۴۴۸؍ ہجری کو دی گئی تھی۔ شیخ ابراہیم المدنی کی نمازِ جنازہ پیر کو نمازِ عصر کے بعد مسجد الحرام میں ادا کی جائے گی، جس کے بعد انہیں جنت المعلیٰ قبرستان میں سپرد خاک کیا جائے گا۔
انا لله وانا اليه راجعون
— Inside the Haramain (@insharifain) September 21, 2026
The final Adhan raised by Sheikh Ibrahim Al Madni in Masjid Al Haram on 11 Rabi Al Awwal 1448 pic.twitter.com/ymLbxdLRUW
شیخ ابراہیم المدنی کون تھے؟
شیخ ابراہیم المدنی ۱۹۷۶ء میں مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے اور ایک مذہبی گھرانے میں پرورش پائی۔ ان کے دادا حافظِ قرآن تھے اور ان کی شخصیت پر ان کا گہرا اثر تھا۔ بعد ازاں شیخ ابراہیم نے تعلیمِ قرآن حاصل کی۔ انہوں نے ۱۵؍ سال کی عمر میں مدینہ منورہ کی ایک محلہ مسجد میں مؤذن کی حیثیت سے خدمات کا آغاز کیا۔ وہ تین دیگر پڑوسیوں کے ساتھ باری باری اذان دیتے تھے اور کالج کی تعلیم مکمل ہونے تک یہ سلسلہ جاری رہا۔ بعد میں مدینہ سے باہر تدریسی مصروفیات کے باعث انہوں نے یہ ذمہ داری چھوڑ دی، تاہم ۱۴۲۸ھ (۲۰۰۷-۰۸ء) میں مسجد المداح میں دوبارہ اذان دینا شروع کی۔ وہاں ان کی خدمات کے نتیجے میں انہیں مسجد الحرام میں مؤذن کی حیثیت سے خدمت کا موقع ملا اور ۱۴۳۹ھ (۲۰۱۷-۱۸ء) میں انہیں باقاعدہ طور پر مسجد الحرام کا مؤذن مقرر کیا گیا۔
مکہ اور مدینہ کی اذان سے متاثر
مدینہ منورہ میں پرورش پانے کی وجہ سے شیخ ابراہیم المدنی وہاں کے روایتی اندازِ اذان سے بخوبی واقف تھے۔ والد کے ساتھ مکہ مکرمہ کے دوروں میں انہوں نے مکہ کے مخصوص اندازِ اذان کو بھی قریب سے سمجھا۔ شیخ ابراہیم مسجد الحرام کے ۲۴؍ مستقل مؤذنین میں شامل تھے۔ ان میں سے روزانہ ۶؍ مؤذن باری باری پانچوں نمازوں اور فجر کی پہلی اذان کے لیے اذان دیتے ہیں۔ وہ خاص طور پر فجر کی اذان اور تکبیرات کے لیے معروف تھے۔ اس کے علاوہ وہ تبلیغ کی ذمہ داری بھی انجام دیتے تھے، جس میں مسجد کے لاؤڈ اسپیکر نظام کے ذریعے امام کی تکبیرات اور حرکات کو نمازیوں تک پہنچانا شامل ہے۔
یہ بھی پڑھئے: پاکستان: عمران خان کی تینوں بہنیں تھری ایم پی او کے تحت ۳۰ ؍روز کیلئے نظر بند
مسجد الحرام میں پہلی اذان کی یاد
اشراقات پوڈکاسٹ کو دیے گئے ایک سابقہ انٹرویو میں شیخ ابراہیم المدنی نے مسجد الحرام میں اپنی پہلی اذان کا واقعہ یاد کیا تھا۔ انہوں نے بتایا تھا کہ جب انہوں نے اپنی آواز میں اذان دیتے ہوئے نمازیوں کو خانۂ کعبہ کے گرد طواف کرتے دیکھا تو وہ جذبات سے رو پڑے۔ انہوں نے کہا تھا، ’’میں کون ہوں کہ اس مقدس مقام پر اپنی آواز بلند کروں؟‘‘ انہوں نے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں اذان دینے کے انداز میں پائے جانے والے فرق پر بھی گفتگو کی تھی۔