عالمی ادارے کے مطابق اس سال بھی ہندوستان کا شمار دنیا کی سب سے تیزی سے بڑھنے والی معیشتوں میں ہوگا۔
EPAPER
Updated: April 10, 2026, 1:14 PM IST | Mumbai
عالمی ادارے کے مطابق اس سال بھی ہندوستان کا شمار دنیا کی سب سے تیزی سے بڑھنے والی معیشتوں میں ہوگا۔
ورلڈ بینک نے جمعرات کو کہا کہ موجودہ مالی سال یعنی ۲۷۔۲۰۲۶ء میں ہندوستانی معیشت ۶ء۶؍ فیصد کی شرح سے بڑھے گی اور ایک بار پھر دنیا کی سب سے تیزی سے بڑھنے والی بڑی معیشت بنے گی۔ ورلڈ بینک کی یہاں جاری کردہ ’انڈیا ڈیولپمنٹ اپڈیٹ‘ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مغربی ایشیا کے بحران کی وجہ سے ایندھن کی اونچی قیمتوں اور سپلائی چین میں آئی رکاوٹ کا معاشی سرگرمیوں پر اثر پڑے گا، لیکن اس سست روی کے باوجود ہندوستان دنیا کی سب سے تیزی سے بڑھنے والی بڑی معیشت بنا رہے گا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ معیشت کی مضبوط بنیاد اور پالیسی اقدامات کی وجہ سے ہندوستان پر مغربی ایشیا میں پیدا ہوئے جیو پالیٹکل بحران کا اثر اتنا زیادہ نہیں ہوگا۔ ہندوستان کے پاس وافر غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر ہیں، افراط زر کی شرح کم ہے، سرکاری قرضوں کا بڑا حصہ روپے میں ہے، مالیاتی شعبہ مضبوط ہے اور بیرونی چیلنجوں کا سامنا کرنے میں تجارت میں تنوع مددگار ثابت ہو رہی ہے۔
ورلڈ بینک نے رواں مالی سال میں ہندوستان کی مجموعی گھریلو پیداوار کی شرح نمو ۶ء۶؍ فیصد رہنے کا تخمینہ ظاہر کیا ہے۔ یہ گزشتہ مالی سال کی ۷ء۶؍ فیصد کی ترقی کی شرح سے کم ہے جو ہندوستان نے امریکہ کی جانب سے ۵۰؍ فیصد درآمدی ڈیوٹی عائد کئے جانے کے باوجود حاصل کی تھی۔ اس سے قبل بدھ کو ریزرو بینک نے اس سال ملک کی معاشی شرح ۶ء۹؍ فیصد رہنے کا تخمینہ ظاہر کیا تھا۔
یہ بھی پڑھئے: آر بی آئی نے موجودہ مالی سال میں مہنگائی کی شرح ۶ء۴؍ فیصد رہنے کا اندازہ لگایا
ہندوستان میں ورلڈ بینک کے ایگزیکٹیوپال پروسی نے رپورٹ جاری کرتے ہوئے کہا کہ معیشت کو استحکام فراہم کرنے میں نجی شعبے کی قیادت میں ترقی اور نوجوانوں کی لیبر فورس میں مزید شراکت داری کا اہم رول ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ وکست بھارت( ترقی یافتہ ہندوستان) کا ہدف حاصل کرنے کیلئے توانائی اور بنیادی ڈھانچے، مینوفیکچرنگ، سیاحت، صحت کی دیکھ ریکھ اور زراعت سے متعلق شعبوں میں سرمایہ کاری میں اضافہ کرنے اور روزگار کی فراہمی کی ضرورت ہوگی۔ یہ سب تبھی ممکن ہے جب مستحکم اور کاروبار کے موافق ماحول فراہم کیا جائے۔ رپورٹ میں اس سال جنوبی ایشیا کی شرح نمو کیلنڈر سال ۲۰۲۵ءکے ۷؍ فیصد سے کم ہوکر ۶ء۳؍ فیصد رہنے کا تخمینہ ظاہر کیا گیا ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ سال ۲۰۲۷ء میں جنوبی ایشیا میں ۶ء۹؍ فیصد کی ترقی کی شرح رہنے کا امکان ہے۔