• Fri, 23 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

رتنا گیری: ہر نئی ساحل پر نایاب سمندری مخلوق ’بومبے ڈوریڈ سلگ‘ دیکھی گئی، محققین بھی حیران

Updated: October 23, 2026, 3:48 PM IST | Siraj Sheikh | Ratnagiri

اس نوع کےگھونگھے کی موجودگی کا پہلا باقاعدہ ریکارڈ۔ماہر کے مطابق ایسی مخلوقات کے تحفظ کیلئے ساحلی ماحولیاتی نظام کو آلودگی سے محفوظ رکھنا ضروری۔

Image of a rare marine creature. Photo: INN
نایاب سمندری مخلوق کی تصویر۔ تصویر: آئی این این

ریاست کے ضلع رتناگیری میں داپولی کے قریب واقع ہرنئی ساحل  پر ایک انتہائی نایاب اور خوبصورت سمندری مخلوق ’بومبے ڈوریڈ سلگ‘ دیکھی گئی ہے۔ اس ساحلی علاقے میں اس نوع کی سمندری گونگھے کی موجودگی کا یہ پہلا باقاعدہ ریکارڈ ہے، جس نے سمندری حیات کے ماہرین اور محققین کو حیرت میں ڈال دیا ہے۔ اس ضمن میں ملنے والی اطلاعات کے مطابق نامی سمندری مخلوقات سے’جے این کے مرین ایکوا لائف‘نامی ادارے کیلئے کام کرنے والے فہد جمعدار معمول کے مطابق ہر نئی بیچ پر معائنہ کر رہے تھے کہ اسی دوران انہیں یہ مخلوق نظر ائی۔

سمندری حیاتیاتی تنوع  کے معروف محقق اور ماہر فہد جمعدار نے ہرنئی کے پتھریلے ساحل پر اس رنگ برنگی مخلوق کا مشاہدہ کیا اور اس کی تصدیق کی۔ انہوں نے بتایا کہ اس سے قبل یہ نایاب سلگ بنیادی طور پر ممبئی اور اس کے قریبی سمندری حصوں میں ہی رپورٹ ہوتی رہی ہے۔

یہ بھی پڑھئے:فرانس کے بعد یونان میں بھی احتجاج شروع، اسکولوں میں۱۵؍ ہزار ٹیچروں کی کمی

کوکن کی ساحلی پٹی پر رتناگیری کے مقام پر اس کی پہلی بار موجودگی کا ریکارڈ ہونا اس خطے کی مالامال سمندری زندگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ان کے مطابق رتناگیری کے ہر نئی ساحل پر بومبے ڈوریڈ سلگ کا ملنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ کوکن کی ساحلی پٹی حیاتیاتی تنوع کے لحاظ سے کتنی زیادہ زرخیز ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس طرح کی نایاب مخلوقات کے تحفظ کے لیے ساحلی ماحولیاتی نظام کو آلودگی اور انسانی مداخلت سے محفوظ رکھنا انتہائی ضروری ہے۔

’بومبے ڈوریڈ سلگ‘ کیا ہے؟

یہ بغیرخول والے سمندری گھونگھوں کے گروہ سے تعلق رکھتا ہے۔ اس جاندار کو سب سے پہلے برطانوی دور میں۱۹۴۶ء میں ممبئی (تب کے بمبئی) کے قلابہ ساحل سے دریافت کیا گیا تھا، جس کی وجہ سے اس کا نام ’بومبے ڈوریڈ‘ رکھا گیا۔ بعد ازاں یہ دہائیوں تک سائنسی ریکارڈ سے غائب رہی اور ۲۰۱۸ءمیں اسے دوبارہ ممبئی میں دیکھا گیا۔ یہ دیکھنے میں ایک شاندار قدرتی شاہکار کی مانند ہے۔ اس کا جسم ہلکا سفید یا مائل بہ کریم ہوتا ہے جس پر گہرے جامنی یا نارنجی رنگ کے خوبصورت دھبے اور حاشیہ بنا ہوتا ہے۔ چونکہ ان کے اوپر کوئی حفاظتی خول نہیں ہوتا، اسلئے یہ شکاریوں سے بچنے کیلئے اپنے تیز رنگوں اور جسم میں موجود زہریلے کیمیکلز کا سہارا لیتے ہیں۔ یہ زیادہ تر سمندری اسفنج  کھا کر گزارا کرتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK