Updated: July 03, 2026, 5:34 PM IST
| New Delhi
صارفین کی پرائیویسی بڑھانے کیلئے متعارف کرائے گئے وہاٹس ایپ کے نئے یوزرنیم فیچر پر حکومتِ ہند نے سخت موقف اختیار کر لیا ہے۔ اسی سلسلے میں حکومت نے ٹیلی گرام اور سگنل سے بھی وضاحت طلب کرتے ہوئے آن لائن فراڈ اور فرضی شناخت کے خدشات پر رپورٹ مانگ لی ہے۔
وہاٹس ایپ کے نئے یوزرنیم فیچر پر نوٹس جاری کرنے کے چند روز بعد، حکومتِ ہند نے اسی نوعیت کے فیچر کے حوالے سے میسجنگ پلیٹ فارمز ٹیلی گرام اور سگنل کو بھی نوٹس جاری کر دیئے ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق حکومت نے دونوں پلیٹ فارمز سے یوزرنیم فیچر کی تفصیلات پر مبنی رپورٹ طلب کی ہے اور یہ بھی پوچھا ہے کہ صارفین کی حفاظت اور سیکوریٹی کو یقینی بنانے کیلئے کون سے اقدامات کئے گئے ہیں۔ ٹیلی گرام میں یوزرنیم کا فیچر پہلے سے موجود ہے، جبکہ سگنل میں یہ سہولت اختیاری (Optional) ہے۔ حکومت کو خدشہ ہے کہ فون نمبر کو خفیہ رکھنے کیلئے متعارف کرایا جانے والا یہ فیچر آن لائن جعل سازی، فرضی شناخت (Impersonation)، سائبر فراڈ اور نام نہاد ’’ڈجیٹل گرفتاری‘‘ جیسے جرائم میں اضافے کا سبب بن سکتا ہے۔ حکومت کی کارروائی کے بعد زوہو کے شریک بانی اور چیف سائنسداں سری دھر ویمبو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اعلان کیا کہ کمپنی ضابطہ جاتی تبدیلیوں کی تعمیل کرتے ہوئے اپنی میسجنگ ایپ’’ Arattai‘‘ میں یوزرنیم پر مبنی اکاؤنٹ فیچر کو بند کر دے گی۔
یہ بھی پڑھئے: پربھنی : ۲؍ نوجوانوں کی حاضر دماغی سے بچے کی جان بچ گئی
وہاٹس ایپ کا نیا فیچر کیا ہے اور حکومت نے کیا کہا؟
حکومتِ ہند نے میٹا کو باضابطہ نوٹس جاری کرتے ہوئے ہدایت دی ہے کہ وہ وہاٹس ایپ کے نئے یوزرنیم فیچر کی وضاحت کرے اور مزید مشاورت مکمل ہونے تک اس فیچر کو ہندوستان میں متعارف نہ کرایا جائے۔ یہ اقدام اس وقت سامنے آیا جب پرائیویسی ماہرین اور سائبر سیکوریٹی کے ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا کہ ایک جیسے یا ملتے جلتے یوزرنیم جعل سازوں کو دوسروں کی شناخت اختیار کرکے فراڈ کرنے کا موقع فراہم کر سکتے ہیں۔ وزارتِ الیکٹرانکس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی (MeitY) نے میٹا کو تین دن کی مہلت دی ہے کہ وہ اس پرائیویسی پر مبنی فیچر کے طریقۂ کار، حفاظتی اقدامات اور اس کے ممکنہ اثرات پر ایک تفصیلی رپورٹ پیش کرے۔ حکومت کو تشویش ہے کہ اس فیچر سے فرضی شناخت، آن لائن دھوکہ دہی اور مجرموں کا سراغ لگانے کے عمل (Traceability) میں مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: بنگلور: پتھر کی کان میںکام کررہے مزدوروں پرچٹان گری، ۹؍ ہلاک
دوسری جانب میٹا نے اس فیچر کو صارفین کی رازداری کے تحفظ کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس میں متعدد حفاظتی اقدامات شامل ہیں، جن میں عوامی شخصیات، مشہور شخصیات اور سرکاری اداروں کیلئے مخصوص یوزرنیم محفوظ رکھنا، رابطے کی درخواستوں پر پابندیاں اور یوزرنیم کی کوئی عوامی ڈائریکٹری نہ ہونا شامل ہے۔ وہاٹس ایپ کے سربراہ کنال شاہ نے اس فیچر کو صارفین کے لیے ’’زیادہ محفوظ اور نجی انداز میں رابطہ قائم کرنے کا نیا ذریعہ‘‘ قرار دیا ہے۔