Updated: June 03, 2026, 2:55 PM IST
| New Delhi
ہندوستان میں شرحِ پیدائش مسلسل کم ہو رہی ہے اور ملک کی مجموعی شرحِ افزائشِ نسل ۹ء۱؍ تک پہنچ گئی ہے، جو آبادی کو مستحکم رکھنے کیلئے درکار سطح ۱ء۲؍ سے کم ہے۔ لائیو منٹ کی رپورٹ کے مطابق جنوبی ریاستوں میں یہ کمی زیادہ نمایاں ہے اور نوجوان جوڑوں میں کم بچے پیدا کرنے کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر یہ رجحان جاری رہا تو ہندوستان کو مستقبل میں عمر رسیدہ آبادی، افرادی قوت کی کمی اور معاشی دباؤ جیسے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ہندوستان میں شرح پیدائش میں مسلسل کمی ریکارڈ کی جا رہی ہے اور تازہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک کی مجموعی شرحِ افزائشِ نسل (ٹوٹل فرٹیلٹی ریٹ) ۹ء۱؍ تک پہنچ گئی ہے، جو آبادی کو مستحکم رکھنے کیلئے ضروری سطح ۱ء۲؍ سے بھی کم ہے۔ معاشی اخبار لائیو منٹ کی ایک تفصیلی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صورتحال سرخیوں میں نظر آنے والے اعداد و شمار سے بھی زیادہ تشویشناک ہوسکتی ہے کیونکہ نئی نسل کی تعداد اب پچھلی نسل کی مکمل جگہ لینے کیلئے ناکافی ہوتی جا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ہندوستان کی امیگریشن قوانین میں تبدیلی،۱۸۰؍ دنوں سے زائد قیام پر اندراج لازمی
رپورٹ کے مطابق ہندوستان میں۹۹ء۔۱۹۹۸ء کے دوران شرحِ افزائشِ نسل ۹ء۲؍ تھی جو اب گھٹ کر ۹ء۱؍ رہ گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ محض ایک عددی تبدیلی نہیں بلکہ ملک کے آبادیاتی ڈھانچے میں ایک بڑی تبدیلی کی علامت ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اوسطاً ہر خاتون اتنے بچوں کی ماں نہیں بن رہی ہے جس سے آبادی طویل مدت میں اپنی موجودہ سطح برقرار رکھ سکے۔ تازہ سیمپل رجسٹریشن سسٹم (ایس آر ایس) ۲۰۲۴ء اور نیشنل فیملی ہیلتھ سروے ۲۴ء۔۲۰۲۳ء کے ابتدائی نتائج بھی اسی رجحان کی تصدیق کرتے ہیں۔ ملک کی بیشتر ریاستیں اب متبادل سطح (Replacement Level) سے نیچے جا چکی ہیں۔ صرف چند ریاستیں، جن میں بہار، اتر پردیش، مدھیہ پردیش، راجستھان، جھارکھنڈ اور چھتیس گڑھ شامل ہیں، اب بھی اس سطح سے اوپر ہیں۔ بہار میں شرحِ افزائشِ نسل سب سے زیادہ ۹ء۲؍ جبکہ دہلی میں سب سے کم ۲ء۱؍ ریکارڈ کی گئی ہے۔
رپورٹ میں خاص طور پر جنوبی ہندوستان کی ریاستوں کی صورتحال پر توجہ دلائی گئی ہے۔ آندھرا پردیش اور کرناٹک جیسی ریاستوں میں شرحِ افزائشِ نسل بالترتیب ۶۸ء۱؍ اور ۶۷ء۱؍ تک گر چکی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آندھرا پردیش حکومت نے تیسرا اور چوتھا بچہ پیدا کرنے والے والدین کیلئے مالی اور دیگر مراعات دینے کی تجویز پیش کی ہے۔ یہ قدم اس ملک کیلئے غیرمعمولی سمجھا جا رہا ہے جہاں کئی دہائیوں تک آبادی پر قابو پانے کی پالیسیاں نافذ کی جاتی رہی ہیں۔ لائیو منٹ کے مطابق اصل مسئلہ صرف کم شرح پیدائش نہیں بلکہ بدلتی سماجی ترجیحات بھی ہیں۔ شہری علاقوں میں نوجوان جوڑے کم بچے پیدا کرنا چاہتے ہیں، جبکہ تعلیم، روزگار، رہائش کے بڑھتے اخراجات، خواتین کی اعلیٰ تعلیم، دیر سے شادی اور کریئر پر توجہ جیسے عوامل خاندان کے حجم کو محدود کر رہے ہیں۔ رپورٹ کا کہنا ہے کہ کئی معاملات میں لوگوں کی خواہش کردہ بچوں کی تعداد بھی موجودہ شرحِ پیدائش سے کم ہو رہی ہے، جس سے مستقبل میں آبادی میں مزید سست روی یا کمی کے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: مسلمانوں کی گائے کو قومی جانور قرار دینے کے مطالبے کی یوگی آدتیہ ناتھ کی مخالفت
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ شرحِ پیدائش میں مسلسل کمی کے نتیجے میں ہندوستان کو مستقبل میں عمر رسیدہ آبادی، افرادی قوت کی کمی، پنشن اور صحت کے نظام پر بڑھتے دباؤ اور معاشی ترقی کی رفتار میں سست روی جیسے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ بعض ریاستوں میں آبادی کے تناسب میں کمی مستقبل کی حلقہ بندیوں اور پارلیمانی نمائندگی پر بھی اثر ڈال سکتی ہے۔ رپورٹ میں یہ نکتہ بھی اٹھایا گیا ہے کہ عملی طور پر ہندوستان کیلئے آبادی کو برقرار رکھنے کی مطلوبہ شرح ۱ء۲؍ سے کچھ زیادہ ہوسکتی ہے کیونکہ صنفی تناسب اور بعض دیگر آبادیاتی عوامل کو مدنظر رکھا جائے تو نئی نسل کی تعداد کو پچھلی نسل کی مکمل جگہ لینے کیلئے مزید بچوں کی ضرورت پڑتی ہے۔ اسی لئے ماہرین کا خیال ہے کہ ملک کی آبادیاتی تبدیلی سرکاری اعداد و شمار سے کہیں زیادہ تیزی سے وقوع پذیر ہو رہی ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر موجودہ رجحان برقرار رہا تو ہندوستان کی آبادی آئندہ دہائیوں میں پہلے مستحکم ہوگی اور پھر بتدریج کمی کی طرف بڑھ سکتی ہے، جس سے ملک کی سماجی، معاشی اور سیاسی ترجیحات میں بھی نمایاں تبدیلیاں رونما ہونے کا امکان ہے۔