Inquilab Logo Happiest Places to Work

صحافتی آزادی کی فہرست ۲۶ء: ہندوستان ۱۵۷؍ ویں نمبر پر پھسل گیا

Updated: May 01, 2026, 4:00 PM IST | Paris

رپورٹرس ودآؤٹ بارڈرز Reporters Without Borders کی جانب سے جاری کردہ ورلڈ پریس فریڈم انڈیکس ۲۰۲۶ء میں ہندوستان چھ درجے تنزلی کے بعد ۱۵۷؍ نمبر پر آ گیا ہے، جبکہ پاکستان ۱۵۳؍ ویں نمبر پر ہے۔ رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں صحافت کے حالات خراب ہو رہے ہیں، سیاسی دباؤ، قانونی کارروائیوں اور معاشی کمزوریوں نے میڈیا کی آزادی کو متاثر کیا ہے۔ ناروے بدستور پہلے نمبر پر جبکہ اریٹیریا آخری پوزیشن پر ہے۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این

عالمی میڈیا واچ ڈاگ رپورٹرس ودآؤٹ بارڈرس (آر ایس ایف) نے ورلڈ پریس فریڈم انڈیکس ۲۰۲۶ء جاری کر دیا ہے، جس میں ہندوستان کی درجہ بندی مزید گر کر ۱۸۰؍ ممالک میں ۱۵۷؍ ویں نمبر پر آ گئی ہے۔ گزشتہ سال ہندوستان ۱۵۱؍ ویں نمبر پر تھا، جس کا مطلب ہے کہ ایک سال میں چھ درجے تنزلی ہوئی ہے۔ دوسری جانب پاکستان کی درجہ بندی میں معمولی بہتری دیکھی گئی، جو گزشتہ سال کے ۱۵۸؍ ویں نمبر سے بڑھ کر ۱۵۳؍ ویں نمبر پر آ گیا ہے۔
آر ایس ایف نے اپنی رپورٹ میں واضح کیا کہ دنیا بھر میں صحافت کے حالات بگڑ رہے ہیں۔ تنظیم کے مطابق ’’یہ انڈیکس ایک ایسے وقت میں جاری کیا گیا ہے جب پریس پر سیاسی دباؤ بڑھ رہا ہے، آمرانہ رجحانات میں اضافہ ہو رہا ہے اور میڈیا کا معاشی ڈھانچہ کمزور ہو رہا ہے۔‘‘ رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ ۱۸۰؍ ممالک میں سے ۱۰۰؍ ممالک میں صحافتی آزادی کے اسکور میں کمی دیکھی گئی ہے، جو عالمی سطح پر بگاڑ کی واضح علامت ہے۔‘‘ یہ بھی پہلی بار ہوا ہے کہ دنیا کے نصف سے زائد ممالک کو ’’مشکل‘‘ یا ’’انتہائی سنجیدہ‘‘ کیٹیگری میں رکھا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: شاہ چارلس سے کہوں گا کہ کوہ نور واپس کریں: ظہران ممدانی کا رپورٹر کو جواب

ہندوستان سے متعلق اہم نکات
آر ایس ایف کے مطابق ہندوستان میں میڈیا کو درپیش بڑے مسائل میں شامل ہیں، عدالتی ہراسانی میں اضافہ، ہتک عزت اور قومی سلامتی جیسے قوانین کا استعمال اور صحافیوں کو براہ راست نشانہ بنانا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’’آزاد میڈیا کے خلاف قانونی کارروائیوں میں اضافہ ہو رہا ہے، خاص طور پر ایسے قوانین کے ذریعے جو صحافیوں کو نشانہ بناتے ہیں۔‘‘

پاکستان کی صورتحال
پاکستان کے حوالے سے آر ایس ایف نے کہا کہ وہاں میڈیا کو ایک پیچیدہ سیاسی ماحول میں کام کرنا پڑ رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ’’پاکستان میں پریس کو پابندیوں کی متعدد لہروں کا سامنا ہے، جہاں حکام بعض اوقات صحافتی مواد کو کنٹرول یا محدود کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔‘‘

امریکہ کی درجہ بندی میں بھی کمی
امریکہ بھی اس فہرست میں نیچے آیا ہے، جہاں اس کی درجہ بندی ۵۷؍ سے کم ہوکر ۶۴؍ ہو گئی۔ آر ایس ایف نے اس حوالے سے کہا کہ ’’صحافی پہلے ہی معاشی مسائل اور عوامی اعتماد کے بحران سے نبرد آزما تھے، اب انہیں ریاستی اداروں کے سیاسی استعمال جیسے چیلنجز کا بھی سامنا ہے۔‘‘ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ ’’مظاہروں کے دوران صحافیوں کو نشانہ بنایا گیا، جو آزادی صحافت کے لیے ایک سنگین بحران کی عکاسی کرتا ہے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: صمود فلوٹیلا پر اسرائیلی حملہ، ۵۰؍ کشتیاں ضبط، ۴۰۰؍ رضاکار حراست میں؛ ترکی، اسپین نےاسے’’قزاقی‘‘ کہا

سرفہرست اور آخری ممالک
ناروے مسلسل ۱۰؍ ویں سال پہلے نمبر پر اور ارتیریا مسلسل تیسرے سال آخری نمبر پر ہے۔ یہ نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ کچھ ممالک میں میڈیا کی آزادی مستحکم ہے، لیکن زیادہ تر دنیا میں حالات خراب ہو رہے ہیں۔

قانونی دباؤ اور بڑھتی پابندیاں
آر ایس ایف نے خاص طور پر قانونی اقدامات میں اضافے کو خطرناک قرار دیا۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ ’’۲۰۰۱ء کے بعد سے قومی سلامتی سے متعلق قوانین کی توسیع معلومات کے حق کو مسلسل محدود کر رہی ہے، حتیٰ کہ جمہوری ممالک میں بھی۔‘‘ مزید کہا گیا کہ ’’قانونی اشارے میں سب سے زیادہ کمی دیکھی گئی ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ صحافت کو دنیا بھر میں تیزی سے مجرمانہ بنایا جا رہا ہے۔‘‘
یہ رپورٹ واضح کرتی ہے کہ آزادی صحافت صرف آمریت کا مسئلہ نہیں رہا بلکہ جمہوری ممالک میں بھی دباؤ بڑھ رہا ہے۔ ہندوستان کی درجہ بندی میں کمی اور امریکہ جیسے ملک کی گراوٹ اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ قانونی نظام کا استعمال میڈیا کے خلاف ہو رہا ہے، سیاسی ماحول صحافت کے لیے مزید مشکل ہوتا جا رہا ہے اور معاشی بحران میڈیا اداروں کو کمزور کر رہا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK