ہندوستان: پانی سے بنے ہائیڈروجن سے چلے گا چولہا، ایل پی جی کا ممکنہ متبادل
Updated: October 09, 2026, 4:07 PM IST
| Mumbai
ہندوستان میں ایل پی جی کی قیمتوں اور سپلائی کے مسائل کے درمیان پانی سے ہائیڈروجن تیار کرکے کھانا پکانے والا چولہا توجہ کا مرکز بن رہا ہے۔ گرین وائز کا تیار کردہ یہ چولہا پانی کو الیکٹرولائسز کے ذریعے ہائیڈروجن اور آکسیجن میں تقسیم کرکے ہائیڈروجن سے شعلہ پیدا کرتا ہے۔
تصویر: آئی این این
وکاس کمار ایسے گھر میں پلے بڑھے جہاں کھانا پکانا ہمیشہ ایک مشکل کام رہا۔ کبھی لکڑیوں کے گٹھے یا گوبر کے اپلے کا انتظام کرنا پڑتا تو کبھی ایل پی جی سلنڈر کیلئے ادھر اُدھر بھاگنا پڑتا۔ بہار کے ویشالی ضلع میں ۳۳؍ سالہ وکاس کے گھرانے کیلئے مغربی ایشیا کے تنازع کے بعد پیدا ہونے والے ایل پی جی بحران نے یہ مسئلہ کئی گنا بڑھا دیا۔ خاندان کو ایک سلنڈر کیلئے ۸؍ ہزار روپے تک خرچ کرنے پڑے۔ وکاس کہتے ہیں، ’’ہمیں کئی گھنٹے قطار میں کھڑا رہنا پڑتا تھا۔ اسلئے میں نے سوچا کہ کیوں نہ ایک مرتبہ سرمایہ کاری کرلی جائے تاکہ ہر ماہ بار بار گیس کی قطار میں کھڑا نہ ہونا پڑے۔‘‘ اسی دوران انہوں نے انسٹاگرام اور یوٹیوب پر ہائیڈروجن سے چلنے والے چولہوں کے بارے میں دیکھا۔ یہ چولہے فریدآباد کی ایک تحقیق پر مبنی کمپنی نے تیار کیے ہیں، جو جدید ماحول دوست ٹیکنالوجی کے ذریعے کاربن کے اخراج کو کم کرنے کیلئے کام کر رہی ہے۔ یہ چولہا پانی استعمال کرتا ہے اور ایچ ٹو او (H₂O) کو ہائیڈروجن ایندھن میں منتقل کرتا ہے، جسے روزانہ روٹی سبزی پکانے کیلئے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ یہ چولہا ان تجرباتی مصنوعات میں سے ایک ہے جن کے ذریعے کائنات میں سب سے زیادہ پایا جانے والا عنصر ہائیڈروجن زیادہ مؤثر طریقے سے استعمال کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ کمپنیاں ہائیڈروجن کو فوسل فیول کے صاف توانائی والے متبادل کے طور پر فروغ دینا چاہتی ہیں۔ اس کی ایک وجہ موسمیاتی بحران اور کاربن کے اخراج میں کمی کا وہ مسئلہ ہے جسے صرف بجلی اور بیٹریوں کے ذریعے آسانی سے حل نہیں کیا جاسکتا، جبکہ حالیہ عرصے میں مغربی ایشیا کے تنازع نے بھی کھانا پکانے کی گیس کی قیمتوں میں اضافہ کرکے ہائیڈروجن کی ضرورت کو اجاگر کیا ہے۔
وکاس جیسے کروڑوں ہندوستانیوں کیلئے یہ ٹیکنالوجی اہم ثابت ہوسکتی ہے۔ ہندوستان اپنی ایل پی جی کی تقریباً ۶۰؍ فیصد ضرورت درآمد کرتا ہے اور اس درآمد کا ۹۰؍ فیصد سے زیادہ آبنائے ہرمز کے راستے آتا ہے۔ مغربی ایشیا کے تنازع نے ایل پی جی کی سپلائی کو نمایاں طور پر متاثر کیا۔ ہندوستان کی ماہانہ ایل پی جی درآمدات ۲۰؍ لاکھ ٹن سے گھٹ کر ۱۰؍ لاکھ ٹن سے بھی کم رہ گئیں، یعنی ۵۰؍ فیصد سے زیادہ کمی واقع ہوئی۔ دنیا بھر میں تقریباً ۱ء۲؍ ارب افراد اب بھی لکڑی، کوئلے یا مٹی کے تیل سے کھانا پکاتے ہیں، جس کے صحت پر سنگین اثرات مرتب ہوتے ہیں، خاص طور پر خواتین اور بچوں پر۔ ایل پی جی ٹھوس ایندھن کے مقابلے میں صاف تر ہے، لیکن اس کا انحصار فوسل فیول کی سپلائی چین اور قیمتوں میں اتار چڑھاؤ پر رہتا ہے۔ ہائیڈروجن سے کھانا پکانے میں، اگر ہائیڈروجن قابلِ تجدید ذرائع سے تیار کی گئی ہو، تو اس کے جلنے سے صرف پانی کے بخارات پیدا ہوتے ہیں، جس سے گھر کے اندر فضائی آلودگی اور کاربن کے اخراج کو ختم کیا جاسکتا ہے۔
ہائیڈروجن سے کھانا پکانے کے شعبے میں کام کرنے والی کمپنیوں کیلئے امکانات بہت وسیع ہیں، لیکن چیلنجز بھی کم نہیں۔ مئی ۲۰۲۶ء میں روٹرڈیم میں منعقدہ ورلڈ ہائیڈروجن سمٹ کے دوران ہندوستانی ڈیپ ٹیک کمپنی وژن میکاٹرونکس اور نیدرلینڈز کی کمپنی ہائی کوکر بی وی نے ہائیڈروجن سے چلنے والے چولہوں کی بین الاقوامی تجارتی فروخت کیلئے اسٹریٹجک تعاون کے معاہدے پر دستخط کیے۔ اس معاہدے کے تحت آتم نربھر بھارت پروگرام کے تحت ہندوستان کو ہائیڈروجن چولہوں کی تیاری کا مرکز بنانے اور صنعتی پیمانے پر پیداوار کے ذریعے لاگت کم کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ اس شعبے میں کام کرنے والوں میں آئی آئی ٹی بامبے کے شعبۂ انرجی سائنس اینڈ انجینئرنگ کے پروفیسر پرکاش چندر گھوش بھی شامل ہیں۔ وہ پَوائی کی کمپنی زیسٹ کلین پاور پرائیویٹ لمیٹڈ کے ساتھ مل کر مقامی طور پر تیار کردہ اور بین الاقوامی طور پر پیٹنٹ شدہ ٹیکنالوجی کے ذریعے ہائیڈروجن چولہے دیہات تک پہنچانے پر کام کر رہے ہیں۔ جرمنی سے ہائیڈروجن ٹیکنالوجی میں پی ایچ ڈی کرنے والے اور ۲۰؍ برس سے زیادہ کا تجربہ رکھنے والے گھوش الکلائن الیکٹرولائسز کے ذریعے ہائیڈروجن ککنگ سسٹم تیار کر رہے ہیں، جس میں کمیونٹی سطح کے حل پر توجہ دی جارہی ہے۔
گھوش کے مطابق، ’’حالیہ مغربی ایشیا کے بحران کے دوران آئی آئی ٹی بامبے میں شمسی توانائی سے چلنے والے ۲۵؍ کلو واٹ کے گرین ہائیڈروجن پیداواری یونٹ کا مظاہرہ کیا گیا۔ ہم نے دکھایا کہ یہ روزانہ ۵ء۲؍ سے ۳؍ کلو گرام گرین ہائیڈروجن تیار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جس سے ۲۰۰؍ سے ۲۵۰؍ افراد کیلئے کھانا تیار کیا جاسکتا ہے۔ آئی آئی ٹی بامبے کی کینٹین نے روزانہ کھانا تیار کرنے کیلئے اس نظام پر انحصار کیا۔‘‘ انہوں نے کہا کہ حکمت عملی کے لحاظ سے یہ ٹیکنالوجی درآمد شدہ فوسل فیول پر انحصار کم کرتی اور ملک کی توانائی سلامتی کو مضبوط بناتی ہے۔ ان کی تحقیق کے مطابق یہ ٹیکنالوجی گھر کے اندر فضائی آلودگی ختم کرتی، کھانا پکانے کے درجۂ حرارت کو کم کرکے گرمی کے دباؤ میں کمی لاتی اور صنفی مساوات کو فروغ دیتی ہے۔ صارفین کا کہنا ہے کہ اگرچہ اس وقت یہ مصنوعات کچھ مہنگی ہیں، لیکن ان میں سرمایہ کاری فائدہ مند ہوسکتی ہے۔ وکاس نے چند ماہ قبل گرین وائز کا گھریلو ڈبل برنر ماڈل خریدا اور ان کا ماننا ہے کہ یہ سرمایہ کاری قابلِ قدر رہی۔ وہ کہتے ہیں، ’’اس کا ڈیزائن اور استعمال بہت آسان ہے۔ یہ بھاری بھرکم نہیں اور زیادہ جگہ بھی نہیں گھیرتا۔ مجھے گیس ختم ہونے یا اس کے مہنگا ہوجانے کی فکر نہیں کرنی پڑتی۔‘‘
ہائیڈروجن کائنات میں سب سے زیادہ پایا جانے والا عنصر ہے، لیکن زمین پر یہ تقریباً ہمیشہ دوسرے عناصر کے ساتھ جڑا ہوا ملتا ہے، جن میں پانی سب سے عام ہے۔ ہائیڈروجن توانائی کا ذریعہ نہیں بلکہ توانائی کا ایک حامل ہے، یعنی اسے پہلے تیار کرنا پڑتا ہے۔ جب اسے قابلِ تجدید بجلی استعمال کرکے تیار کیا جاتا ہے تو اسے ’’گرین ہائیڈروجن‘‘ کہا جاتا ہے۔ ہائیڈروجن کو جلانے پر اس کا واحد ضمنی مادہ پانی کے بخارات ہوتا ہے۔ گرین وائز کمپنی اپنے ہائیڈروجن چولہے میں اسی خصوصیت سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہی ہے۔ اس چولہے میں ہائیڈروجن بنانے کا نظام اندر ہی نصب ہے۔ کمپنی کے شریک بانی سنجیو کمار مکینیکل انجینئر ہیں اور انہوں نے ڈیزائن انجینئرنگ میں ایم ٹیک کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے روایتی کھانا پکانے والی گیس کے پائیدار متبادل کی تلاش شروع کی تھی، جو بالآخر انہیں ہائیڈروجن توانائی پر مبنی مصنوعات تک لے گئی۔ سنجیو کہتے ہیں، ’’جیسا کہ آج کل ہم دیکھ رہے ہیں کہ ایل پی جی، فوسل فیول اور خلیجی ممالک پر بہت زیادہ انحصار ہے، اسلئے ہم طویل عرصے سے کسی متبادل کی تلاش میں تھے۔ دو سال قبل ہم نے یہ سوچ کر کام شروع کیا کہ کچھ بھی درآمد کرنے کی ضرورت نہ ہو اور ہمیں بیرونی ممالک پر انحصار نہ کرنا پڑے۔‘‘
اس چولہے کا طریقۂ کار نسبتاً آسان ہے۔ چولہے کے اندر موجود ٹینک میں پانی ڈالا جاتا ہے۔ اس میں نصب پروٹون ایکسچینج میمبرین (PEM) الیکٹرولائزر بجلی کی مدد سے پانی کو ہائیڈروجن اور آکسیجن میں تقسیم کرتا ہے۔ اس کے بعد ہائیڈروجن برنر تک پہنچنے سے پہلے حفاظتی اور کنڈیشننگ کے مختلف مراحل سے گزرتی ہے، جن میں ببلر، بفر ٹینک اور ملٹی اسٹیج فلیم بیک اریسٹر شامل ہیں۔ آخر میں ہائیڈروجن کیٹالیٹک برنر میں جلتی ہے اور دھوئیں سے پاک شعلہ پیدا کرتی ہے۔ الیکٹرولائسز، جو اس چولہے کے نظام کا بنیادی عمل ہے، استعمال ہونے والی ٹیکنالوجی کے لحاظ سے عموماً ۶۲؍ سے ۸۶؍ فیصد کارکردگی کے ساتھ کام کرتی ہے۔ پی ای ایم الیکٹرولائزر پانی کو تقسیم کرنے کیلئے پولیمر میمبرین استعمال کرتے ہیں۔ یہ کمپیکٹ ڈیزائن اور مختلف سطح کے بوجھ پر کام کرنے کی صلاحیت کیلئے جانے جاتے ہیں، تاہم ان کیلئے زیادہ خالص پانی درکار ہوتا ہے۔ چولہا آن کرنے اور مطلوبہ آپریٹنگ حالات مکمل ہونے کے بعد تقریباً ۳۰؍ سیکنڈ میں ہائیڈروجن کی پیداوار شروع ہوجاتی ہے۔
سنجیو کے مطابق ہائیڈروجن جلنے کے نتیجے میں صرف خالص پانی کے بخارات پیدا ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ آکسیجن بھی ہوا میں خارج ہوتی ہے، جو گھر کے اندر ہوا کے معیار کو بہتر بنانے میں مددگار ہوسکتی ہے۔ کمپنی کے پاس ہائیڈرو آکسی اور الکلائن الیکٹرولائزر کی دیگر اقسام بھی ہیں، جو اسی مقصد کیلئے استعمال ہوتی ہیں۔ سنجیو نے بتایا کہ انہوں نے ۲۰۲۴ء میں کمپنی کے قیام کا تصور پیش کیا تھا۔ ہائیڈروجن ہی کو منتخب کرنے کی وجہ بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس میں بہت سے مختلف شعبوں میں استعمال ہونے کی صلاحیت موجود ہے۔ وہ کہتے ہیں، ’’ہم یہ جاننا چاہتے تھے کہ ہائیڈروجن کو ایک ابھرتے ہوئے صاف توانائی کے تصور سے روزمرہ توانائی کی ضروریات کے قابلِ استعمال حل میں کیسے تبدیل کیا جاسکتا ہے۔ کھانا پکانا اور صنعتی حرارت کے دو ایسے شعبے ہیں جہاں اب بھی ایل پی جی، پی این جی اور دیگر روایتی ایندھن استعمال ہوتے ہیں۔ اگر یہاں بھی ہائیڈروجن کو صاف ایندھن کے طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے تو اسے صرف بڑے صنعتی پلانٹس، لیبارٹریوں یا نقل و حرکت کے شعبے تک محدود کیوں رکھا جائے؟‘‘
واضح ہو کہ فی الحال یہ آلہ مہنگا ہے۔ ۳؍ لیٹر ٹینک والے گھریلو ماڈل کی قیمت سنگل برنر کیلئے ۱؍ لاکھ ۵؍ ہزار روپے اور ڈبل برنر کیلئے ۱؍ لاکھ ۵۰؍ ہزار روپے ہے، جبکہ کمرشل چولہے کی قیمت ۳؍ لاکھ ۵۰؍ ہزار روپے ہے۔ وکاس جیسے عام صارف کیلئے ۳؍ لیٹر ٹینک تقریباً ایک ماہ تک چلتا ہے۔ گرین وائز کا اندازہ ہے کہ اس سے سالانہ تقریباً ۳؍ ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج میں کمی ہوسکتی ہے اور بیرونی ہائیڈروجن اسٹوریج یا ایل پی جی سلنڈر کی ضرورت ختم ہوجاتی ہے۔ کمپنی باضابطہ طور پر جنوری ۲۰۲۵ء میں رجسٹر ہوئی۔ دو سال اور کئی حفاظتی آزمائشوں کے بعد گرین وائز نے مارچ ۲۰۲۶ء میں اپنا پہلا ہائیڈروجن چولہا ہندوستانی فوج کو فروخت کیا۔ سنجیو کے مطابق، ’’فوج کا چولہا اس وقت جموں کے بلند علاقوں میں استعمال کیا جارہا ہے۔‘‘ کمپنی ہائیڈروجن ڈسپنسر، ہائیڈروجن فیول سیل سسٹم، بایوماس پاور پلانٹس اور پریشر سوئنگ ایڈزورپشن (PSA) آکسیجن اور نائٹروجن جنریٹر بھی فروخت کرتی ہے۔
ہائیڈروجن چولہوں کا مستقبل
ہندوستان اپنے نیشنل گرین ہائیڈروجن مشن کے تحت ۲۰۳۰ء تک ۵؍ ملین ٹن گرین ہائیڈروجن تیار کرنے، ۱۰؍ سے ۱۰۰؍ گیگا واٹ الیکٹرولائزر کی صلاحیت نصب کرنے اور ۵؍ لاکھ نئے گرین روزگار پیدا کرنے کا ہدف رکھتا ہے۔ مرکزی حکومت نے الیکٹرولائزر اور گرین ہائیڈروجن کی پیداوار کی حوصلہ افزائی کیلئے ۲۰۳۰ء تک ۱۷؍ ہزار ۴۹۰؍ کروڑ روپے مختص کیے ہیں۔ گرین وائز نے بایوٹیکنالوجی اگنیشن گرانٹ اسکیم (BIG) کیلئے بھی درخواست دی ہے، جو بایوٹیکنالوجی کے شعبے میں جدت اور تحقیق کرنے والے نئے اسٹارٹ اپس کی مدد کرتی ہے۔ سنجیو کا ماننا ہے کہ یہ گرانٹ کمپنی کو اپنی پیداوار بڑھانے کے ساتھ معیار بہتر بنانے میں بھی مدد دے گی۔ وہ کہتے ہیں، ’’ہم اسمارٹ ٹیکنالوجی اور اے آئی کو مربوط کرکے ایک اسمارٹ چولہا بنانا چاہتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوگا کہ چولہا وائی فائی نیٹ ورک سے منسلک ہوسکے گا، موبائل فون پر ایپ کے ذریعے اسے کنٹرول کیا جاسکے گا اور اس میں وائس انٹیگریشن کی سہولت بھی موجود ہوگی۔‘‘
اگست میں بیورو آف انڈین اسٹینڈرڈز (BIS) اور اسٹینڈرڈز آسٹریلیا (SA) کے اشتراک سے آسٹریلیا-انڈیا اسٹینڈرڈز ٹریڈ انیبلنگ پروجیکٹ (AI-STEP) کے تحت منعقدہ ایک ورکشاپ میں گرین وائز کے ہائیڈروجن چولہوں کو کیس اسٹڈی کے طور پر پیش کیا گیا۔ کمپنی مالدیپ سے آغاز کرتے ہوئے دیگر ممالک میں بھی ہائیڈروجن چولہے تقسیم کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔ فی الحال اس ٹیکنالوجی کے سامنے کئی رکاوٹیں ہیں، جن میں سب سے اہم اس کی زیادہ قیمت ہے۔ سنجیو بھی تسلیم کرتے ہیں کہ یہ ایک چیلنج ہوسکتا ہے، تاہم ان کا کہنا ہے کہ اس مسئلے پر قابو پانے کی گنجائش موجود ہے۔ وہ کہتے ہیں، ’’اگر کوئی چیز محدود پیمانے پر دستیاب ہو تو عموماً مہنگی ہوتی ہے۔ اسے سستا بنانے کیلئے بڑے پیمانے پر دستیاب کرنا ہوگا۔ جب بڑے پیمانے پر پیداوار شروع ہوگی تو ہم قیمت کم کردیں گے۔‘‘ اس کے علاوہ مرمت اور پرزوں کی تبدیلی کے اخراجات بھی ایک مسئلہ ہیں۔ کمپنی کے مطابق یہ اخراجات مختلف مصنوعات پر منحصر ہیں، تاہم طویل مدتی استعمال سے متعلق ابھی کافی اعداد و شمار دستیاب نہیں ہیں۔
سنجیو سمجھتے ہیں کہ کمپنی کو خاص طور پر پیداوار بڑھانے کے معاملے میں ابھی طویل سفر طے کرنا ہے۔ ان کے مطابق، ’’کمپنی ابھی منافع بخش مرحلے تک نہیں پہنچی ہے۔ اس وقت ترجیح یہ ہے کہ پہلے اسے تجارتی طور پر قابلِ عمل مصنوعات کے طور پر قائم کیا جائے اور اس کے بعد پیداوار میں اضافہ کیا جائے۔‘‘ ان کے صارفین بھی اس ٹیکنالوجی سے مطمئن نظر آتے ہیں۔ میگھالیہ کے ویسٹ جینتیا ہلز کے ایک چھوٹے شہر کھلیہتیرشی میں اپنے ریسٹورنٹ میں الپنا بارہ اور ان کے شوہر مارفلانگکی چیرمینگ گزشتہ چند ماہ سے گرین وائز کا کمرشل ہائیڈروجن چولہا استعمال کر رہے ہیں۔ الپنا کہتی ہیں، ’’یہ چولہا ہمارے پہلے استعمال ہونے والے ایل پی جی چولہے کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے کام کرتا ہے اور والوز کی حفاظت بھی نظام میں ہی شامل ہے، جو ایک اضافی فائدہ ہے۔ ایل پی جی بحران پیدا ہونے کے بعد ہم نے دو کمرشل سنگل برنر چولہے خریدے اور ہمیں یہ کافی کفایت شعار ثابت ہوئے ہیں۔‘‘
This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience
and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree
to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK