امسال ۲۸؍ جولائی کو بامبے ہائی کورٹ نے قبرستان کی زمین کو محفوظ بنانے کی ہدایت دی تھی،اس کی یاد دہانی کیلئےمیونسپل کمشنر کو میمورنڈم دیا گیا۔
EPAPER
Updated: October 08, 2026, 1:32 PM IST | ZA Khan | Nanded
امسال ۲۸؍ جولائی کو بامبے ہائی کورٹ نے قبرستان کی زمین کو محفوظ بنانے کی ہدایت دی تھی،اس کی یاد دہانی کیلئےمیونسپل کمشنر کو میمورنڈم دیا گیا۔
شہر کے آسرا نگر میں واقع مسلم قبرستان کی حفاظت کا مسئلہ ایک بار پھر سامنے آیا ہے۔قبرستان کے اطراف حفاظتی دیوار اور تاروں کی فینسنگ نہ ہونے کے باعث قبرستان کی زمین غیر محفوظ ہے۔ مقامی افراد اور سماجی کارکنوں کی جانب سے قبروں کی بے حرمتی کے واقعات کے ساتھ ساتھ قبرستان کے بعض حصوں پر مبینہ ناجائز قبضوں کی بھی شکایات سامنے آتی رہی ہیں۔ موضع سانگوی کے سروے نمبر۱۷۱، وارڈ نمبر۲؍ میں واقع اس قبرستان کی مکمل مختص اراضی کو محفوظ بنانے کیلئے طویل عرصے سے ناجائز قبضے ہٹانے اور قبرستان کے اطراف مضبوط باؤنڈری وال یا تاروں کی فینسنگ تعمیر کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق میونسپل کارپوریشن کے۲۰۱۲ء کے جنرل باڈی اجلاس میں قبرستان کی ترقی اور باؤنڈری وال کی تعمیر کے لئے۳۰؍ لاکھ روپے کی منظوری دی گئی تھی۔ تاہم، منظوری کے باوجود آج تک اس کام کو مکمل نہیں کیا جا سکا، جس کے باعث قبرستان کی حفاظت کا مسئلہ برقرار ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ’’جلگاؤں کے بھنگار بازار کے ۱۱۷؍دکانداروں کو باعزت متبادل جگہ دیں‘‘
معاملہ حل نہ ہونے پر بعد میں عدالت سے رجوع کیا گیا اور اس سلسلے میں رِٹ پٹیشن داخل کی گئی۔ اس عرضداشت پر امسال ۲۸؍ جولائی کو ہائی کورٹ نے فیصلہ سناتے ہوئے متعلقہ حکام کو ضروری کارروائی کرنے کی ہدایت دی تھی۔ہائی کورٹ کے حکم کے بعد اب قبرستان کی زمین کو محفوظ بنانے اور عدالتی حکم پر فوری عملدرآمد کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے۔اسی سلسلے میں بدھ کو ضلع کلکٹر، میونسپل کارپوریشن کمشنر اور میئر کو میمورنڈم پیش کیا گیا۔اس موقع پر ایڈوکیٹ احمد صاحب، ساجد علی، چاند خان، آصف خان اور کارپوریٹر و سماجی کارکن شیخ ذاکر موجود تھے۔کارپوریٹرشیخ ذاکر نے میونسپل کمشنر سے ملاقات کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ قبرستان کی مکمل مختص اراضی کو ناجائز قبضوں سے پاک کیا جائے، قبرستان کی حفاظت کیلئے ہائی کورٹ کے حکم پر بلا تاخیر عمل کیا جائے۔ بتایا گیا ہے کہ میونسپل کمشنر نے ہائی کورٹ کے حکم کے مطابق ایک ماہ کے اندر قبرستان کی باؤنڈری اور حفاظتی دیوار کا کام مکمل کرنے کا یقین دلایا ہے۔اب اہم سوال یہ ہے کہ کیا میونسپل انتظامیہ واقعی مقررہ ایک ماہ کے اندر قبرستان کی زمین کو محفوظ بنانے کیلئے باؤنڈری وال کا کام مکمل کرے گی؟ یا پھر اس معاملے میں بھی عدالتی حکم پر عملدرآمد مزید تاخیر کا شکار ہوگا؟ مقامی افراد اور سماجی کارکنوں کی نظریں اب میونسپل انتظامیہ کی آئندہ کارروائی پر مرکوز ہیں۔