Inquilab Logo Happiest Places to Work

پیپر لیٖک اور نوجوانوں کے مسائل پر آزاد میدان میں زبردست احتجاج

Updated: July 17, 2026, 11:57 AM IST | Saeed Ahmed Khan | Mumbai

کاکروچ جنتا پارٹی کے جنترمنترپر جاری احتجاج اورسونم وانگ چک کی بھوک ہڑتال کی حمایت اوریکجہتی میں احتجاجی مظاہرہ ۔ ۵؍اہم مطالبات کئے۔

Students protesting against the government in Azad Maidan. (Photo: PTI)
آزادمیدان میں طلباء وطالبات حکو مت کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے۔ (تصو یر: پی ٹی آئی)

پیپر لیٖک ، امتحانات میں بے ضابطگی اور نوجوانوں کے دیگرمسائل پرحکومت کی توجہ مبذول کرانے کیلئے جمعرات ۱۶؍جولائی کو آزادمیدان پرزبردست احتجاج کیاگیا۔یہ احتجاج اسٹوڈنٹس یونین اوربائیں بازوکی جماعتوں کے اشترا ک سے’ممبئی کاکروچز‘ کے حوالے سے کیا گیا اورجنترمنتر پر جاری احتجاج اور بھوک ہڑتال کی حمایت کرتے ہوئے سونم وانگ چک کے ساتھ یکجہتی کا اعلان کیاگیا ۔اس موقع پر اظہار خیال بھی کیا گیا اور طلبہ کے گروپ نے گانے گاکربھی اپنی ناراضگی کا اظہار کیا  نیز یہ عہد کیا کہ نا انصافی اورتعلیمی نظام میںجاری بدعنوانی کوکسی صورت برداشت نہیںکیاجائے گا ۔ اس موقع پرمظاہرین میں سے امول آسولکر، پرنے اہیر ، اندرجیت موہیتے اور بھیماجی شندے کی جانب سے وزیراعلیٰ کے دفتر میں میمورنڈم دیا اور اس میں۵؍مطالبات کئے گئے۔احتجاج میں پیش پیش رہنے والے عامر قاضی نے کہاکہ احتجاج کا یہ سلسلہ یہیں ختم نہیںہوگا ،اسے مزید دراز کیاجائے گا ۔

یہ بھی پڑھئے: مدارس کے حساب کتاب میں شفافیت اور نظام کو مستحکم کرنا وقت کی اہم ضرورت

  میمورنڈم کے ذریعے وزیراعلیٰ کو متوجہ کرتے ہوئے لکھا گیا کہ مہاراشٹر میں لاکھوں طلبہ کو تعلیمی اور مسابقتی امتحان کے نظام میں سنگین خامیوں کی وجہ سے بے پناہ نفسیاتی، تعلیمی اور مالی بحران کا سامنا ہے۔ بار بار امتحان میں ہونے والی بے ضابطگی نے حکومت پر طلباء کا اعتماد متزلزل کر دیا ہے۔ٹی ای ٹی  کے پرچہ لیٖک معاملہ، ایم پی ایس سی امتحانات میں مسلسل نقائص، امتحانی عمل میں تاخیر، شفافیت کا فقدان اور طلبہ کے مستقبل کے ساتھ جاری کھیل انتہائی تشویش کا باعث ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ کئی طلبہ برسوں کی محنت، وقت اور پیسہ خرچ کرنے کے باوجود انصاف سے محروم ہیں۔ ریاستی حکومت طلبہ کے مستقبل سے جڑے ان سنگین مسائل کو موثر طریقے سے حل کرنے میں ناکام رہی ہے۔ اس لئے ہم سب پُرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ ریاستی وزیر تعلیم دادا بھسے کو ان تمام معاملات کی اخلاقی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے  فوری طور پر استعفیٰ دے دینا چاہئے ۔ہم مہاراشٹر حکومت سے توقع کرتے ہیں کہ وہ ہمارے احتجاج کا سنجیدگی سے نوٹس لے اور طلبہ کو انصاف دینے کیلئے فوری ٹھوس قدم اٹھائے۔

یہ بھی پڑھئے: سیٹ پر سونے کے تنازع میں لوکل ٹرین کے ۳؍ مسافروں میں تصادم

۵؍اہم مطالبات کیا ہیں؟

 (۱) مہاراشٹر کے وزیر تعلیم دادا بھسے استعفیٰ دیں(۲)ٹی ای ٹی امتحان  میں ہونے والی بدعنوانی اور ایم پی ایس سی امتحانات میں ہونے والی تمام بے ضابطگیوں کی اعلیٰ سطحی اور غیر جانبدارانہ انکوائری کرائی جائے (۳)خاطیوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کرتے ہوئے طلبہ کو انصاف فراہم کیا جائے (۴) مسابقتی امتحانات کے عمل کو مکمل طور پر شفاف، بروقت اور قابل اعتماد بنانے کے لئے مستقل اصلاحات کی جائیں (۵) طلباء کے مستقبل سے متعلق تمام مسائل پر فوری مثبت فیصلے کئے جائیں۔طلبہ کے مستقبل کا مسئلہ کسی بھی سیاست سے بڑا ہے۔ اس لئے حکومت فوراً ایکشن لے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK