متعدد تنظیموں کا مشترکہ پلیٹ فارم ’مہاراشٹر ایس آئی آر جاگرتی ابھیان‘ کی جانب سےالیکشن کمیشن آف انڈیا کو مکتوب روانہ کیا گیا۔
EPAPER
Updated: July 17, 2026, 12:01 PM IST | Saeed Ahmed Khan | Mumbai
متعدد تنظیموں کا مشترکہ پلیٹ فارم ’مہاراشٹر ایس آئی آر جاگرتی ابھیان‘ کی جانب سےالیکشن کمیشن آف انڈیا کو مکتوب روانہ کیا گیا۔
مختلف سماجی ورفاہی تنظیموں کے پلیٹ فارم ’مہاراشٹر ایس آئی آر جاگرتی ابھیان‘ کی جانب سے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو جمعرات ۱۶؍جولائی کو ایک تفصیلی مکتوب روانہ کیا گیاہے جس میں ممبئی اور پونے میں رائے دہندگان اور بی ایل او کےمسائل کا تذکرہ کرتے ہوئے اس کام میں دو ماہ کی توسیع کا مطالبہ کیا گیاہے ساتھ ہی دیگر ریاستوں میں ۱۲؍ سے ۱۵؍ دن کی توسیع کا حوالہ بھی دیا گیا ۔اسی کے ساتھ گیانیش کمار سے ان کے ممبئی اور پونے کے ممکنہ دورے میں ملاقات کا وقت بھی مانگا گیاہے۔ خط میں یہ تشویش ظاہر کی گئی ہےکہ جس انداز میں یہ کام جاری ہے، اس سے بڑی تعداد میں مجاز رائے دہندگان کا نام رہ جانے کا اندیشہ ہے۔
یہ بھی پڑھئے: سیٹ پر سونے کے تنازع میں لوکل ٹرین کے ۳؍ مسافروں میں تصادم
’ایس آئی آر جن جاگرتی ابھیان‘ کے ذریعے خط میں یہ نشاندہی کی گئی ہے کہ شدید بارش، انتظامی مشکلات اوربی ایل او کے احتجاج کے باعث اندراجی عمل تاخیر سے شروع ہوا۔ مزید برآں اسکول اساتذہ اور آنگن واڑی کارکنان کو ان کی معمول کی ذمہ داریوں کے ساتھ اضافی طور پرایس آئی آر کا کام سونپا گیا ہے جس سے ان پر غیر معمولی دباؤ پڑ رہا ہے۔خط میں خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ وقت کی کمی کے باعث متعدد مقامات پر فارم گھر گھر جا کر تقسیم کرنے کے بجائے جلد بازی اور غیر منظم انداز میں تقسیم کئے جا رہے ہیں جس کے نتیجے میں اہل ووٹروں کے نام ووٹر لسٹ سے خارج ہونے یا غلط طور پر حذف کئے جانے کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔اسی طرح ۳۰؍دن کی موجودہ مدت اس بڑے عمل کو منصفانہ اور مؤثر انداز میں مکمل کرنے کےلئے ناکافی ہے۔ تنظیموں نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ الیکشن کمیشن نے حال ہی میں کرناٹک، تلنگانہ، پنجاب اور دہلی میں ایس آئی آر کے شیڈول میں ۱۰؍سے ۱۲؍ دن کی توسیع کی ہے، لہٰذا مہاراشٹر کو بھی اسی طرح کی رعایت دی جانی چاہئے۔ اس مہم کی حمایت کرنے والی تنظیموں میں جماعت اسلامی ہند (ممبئی)، پیپلز یونین فار سول لبرٹیز ، اسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس ، بامبے کیتھولک سبھا، انڈین کرسچن ویمنز موومنٹ، راحت لیگل فاؤنڈیشن، بھارت جوڑو ابھیان اور دیگر تنظیمیں شامل ہیں۔