کرایہ کا ۸۰؍ فیصد حصہ ڈرائیوروں کو ملے گا، ڈومیسائل سرٹیفکیٹ ہونا، بیج حاصل کرنا اور مراٹھی جاننا لازمی۔
EPAPER
Updated: July 17, 2026, 12:07 PM IST | Shahab Ansari | Mumbai
کرایہ کا ۸۰؍ فیصد حصہ ڈرائیوروں کو ملے گا، ڈومیسائل سرٹیفکیٹ ہونا، بیج حاصل کرنا اور مراٹھی جاننا لازمی۔
محکمہ ٹرانسپورٹ نے ’ایپ‘ سے بکنگ کرکے چلائی جانے والی اولا، اوبر اور ریپیڈو جیسی ٹیکسیوں کو چلانے کیلئے نئی پالیسی کا مسودہ متعارف کرایا ہے جس کے تحت کمپنیوں اور ڈرائیوروں کیلئے نئی شرائط عائد کی گئی ہیں۔ اس پالیسی کا مقصد ان ٹیکسیوں میں مسافروں خصوصاً خواتین کے تحفظ، کرایہ کی حد طے کرنا، حکومت کیلئے بھی آمدنی کے ذرائع پیدا کرنا اور مراٹھی مانس یعنی مقامی نوجوانوں کیلئے روزگار کے نئے مواقع فراہم کرنا بتایا گیا ہے۔ اس پالیسی میں پہلی مرتبہ ’کار پولنگ‘ کو بھی قانونی حیثیت دے دی گئی ہے۔ ڈرائیوروں کے مفادات کا خیال رکھتے ہوئے ڈرائیوروں کو کُل کرایے کا کم از کم ۸۰؍ فیصد حصہ ملنے کو یقینی بنایا گیا ہے اور کمیشن کی غیر منصفانہ وصولی کو بھی روکا جائے گا۔ مسافر ڈرائیوروں کی درجہ بندی کرسکیں گے اور ڈرائیوروں کے ساتھ مسافروں کیلئے بھی انشورنس کرایا جائے گا۔
یہ بھی پڑھئے: سیٹ پر سونے کے تنازع میں لوکل ٹرین کے ۳؍ مسافروں میں تصادم
محکمہ ٹرانسپورٹ کا دعویٰ ہے کہ اس پالیسی کے نافذ ہونے سے ’ایگریگیٹر گاڑیوں‘ کے ڈرائیوروں اور کمپنیوں کے ذریعہ من مانا کرایہ وصول کرنے پر قدغن لگے گا کیونکہ بنیادی کرایہ ریجنل ٹرانسپورٹ اتھاریٹی کے ذریعے طے کیا جائے گا۔ کرایہ میں اضافے کی قیمتوں کا تعین محدود کر دیا گیا ہے اور قیمتوں میں غیر معقول کمی یا مراعات کے نام پر اضافی کرایوں کو کنٹرول کیا جائے گا۔ سہولت چارجز کیلئے بھی زیادہ سے زیادہ حد مقرر کی گئی ہے۔ اس طرح مسافروں کو شفاف اور منصفانہ نرخوں پر خدمات دستیاب ہوں گی۔ چونکہ اس شعبے میں اب تک یکساں ضوابط نہیں تھے اس لئے من مانے کرایے اور دیگر شکایتوں کے ازالے میں تاخیر ہوتی تھی۔نئی پالیسی کے تحت پورے مہاراشٹر میں کام کرنے والی ہر ایگریگیٹر کمپنیوں کیلئے ’اسٹیٹ ٹرانسپورٹ اتھاریٹی‘ کو مقررہ فیس ادا کرکے لائسنس حاصل کرنا لازمی ہوگا۔
وزیر ٹرانسپورٹ پرتاپ سرنائک نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ ایگریگیٹر پالیسی کسی بڑے کاروباری گروپ کے مفاد میں نہیں بلکہ عام گاڑیوں کے مالکان کو مواقع فراہم کرنےکے مقصد سے بنائی گئی ہے اس لئے ممبئی، پونے، ناسک اور ناگپور میں کسی بھی گاڑی کے مالک کے ذریعے ایک ایپ پلیٹ فارم پر رجسٹرڈ گاڑیوں کی تعداد ۵۰؍ سے زیادہ نہیں ہوگی جبکہ ریاست کے دیگر حصوں میں یہ حد ۲۵؍ گاڑیوں کی ہوگی۔ تاہم ہر پلیٹ فارم پر ’وینڈر فلیٖٹ‘ کیلئے یہ حد علاحدہ ہوگی۔
اب ان گاڑیوں کے ڈرائیوروں کیلئے بھی بیج کو لازمی قرار دیا گیا ہے اور بیج حاصل کرنے کیلئے ڈرائیور کے پاس مہاراشٹر میں رہائش کا ثبوت (ڈومیسائل) کے ساتھ دیگر ضروری دستاویز اور مراٹھی زبان کا جاننا لازمی ہوگا۔ البتہ مسافروں کی سہولت کیلئے ہر کمپنی کے ایپ اور ویب سائٹ کیلئے ۳؍ زبانوں، مراٹھی، ہندی اور انگریزی میں تفصیلات فراہم کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: بھیونڈی: بند ٹول ناکہ کا خستہ ڈھانچہ شہریوں کیلئے وبالِ جان، حادثے کا خدشہ
پہلی مرتبہ ’کارپُولنگ سروس‘ کو قانونی فریم ورک فراہم کیا گیا ہے۔ نجی گاڑیوں کے ذریعے کارپولنگ کی اجازت دی گئی ہے لیکن منافع کمانے کی ممانعت ہے۔ تاہم سفر کے اخراجات کو شریک مسافروں کے درمیان تقسیم کی اجازت دی گئی ہے تاکہ شہریوں کو سستے سفر کی سہولت میسر آسکے۔ خواتین کے تحفظ کے پیش نظر ’رائیڈ پولنگ سروس‘ خاتون مسافروں کو صرف ایک خاتون ڈرائیور یا خاتون ساتھی مسافر کے ساتھ سفر کرنے کا اختیار فراہم کرے گی۔ اس سے خواتین کے محفوظ اور پُر اعتماد سفر کو تقویت ملے گی۔
ریاستی حکومت ایک آن لائن پورٹل تیار کرگے گی جس کے ذریعہ ایگریگیٹر گاڑیوں کی جی پی ایس سے نقل و حمل کی نگرانی کی جاسکے گی۔
ہر ایگریگیٹر کیلئے ۲۴؍ گھنٹے کا کال سینٹر، شکایتوں کے ازالے کیلئے ایک افسر کی تقرری اور مدت طے کرنے کو لازمی قرار دیا جائے گا۔ ڈرائیوروں کو لگاتار ۱۲؍ گھنٹے سے زیادہ گاڑی چلانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔