وزارت خارجہ نے امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان طے پانے والے دو ہفتوں کے جنگ بندی کے معاہدے کا خیر مقدم کیا ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ یہ تنازعات سے گھرے مغربی ایشیا میں ’’مستقل امن‘‘ کی راہ ہموار کرے گا۔
EPAPER
Updated: April 08, 2026, 3:56 PM IST | New Delhi
وزارت خارجہ نے امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان طے پانے والے دو ہفتوں کے جنگ بندی کے معاہدے کا خیر مقدم کیا ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ یہ تنازعات سے گھرے مغربی ایشیا میں ’’مستقل امن‘‘ کی راہ ہموار کرے گا۔
وزارت خارجہ نے بدھ کے روز امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان طے پانے والے دو ہفتوں کے جنگ بندی کے معاہدے کا خیر مقدم کیا ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ یہ تنازعات سے گھرے مغربی ایشیا میں ’’مستقل امن‘‘ کی راہ ہموار کرے گا۔ایک سرکاری بیان میں، ہندوستان نے ’’کشیدگی میں کمی، مذاکرات اور سفارت کاری‘‘ کی وکالت کرنے والے اپنے مستقل موقف کا اعادہ کیا ہے، جو جاری دشمنی کے جلد خاتمے کا واحد قابل عمل راستہ ہے۔
تنازع کے وسیع تر اثرات کو اجاگر کرتے ہوئے، وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ طویل کشیدگی نے جہاں شہریوں کو ’شدید مصائب‘ سے دوچار کیا ہے، وہیں عالمی توانائی کی فراہمی اور تجارتی نیٹ ورکس کو بھی نمایاں طور پر متاثر کیا ہے۔ ہندوستان نے ’جہاز رانی کی بلا روک ٹوک آزادی‘ کو برقرار رکھنے اورا سٹریٹجک لحاظ سے اہم آبنائے ہرمز کے ذریعے عالمی تجارت کے ہموار بہاؤ کو یقینی بنانے کی اہمیت پر بھی زور دیا، جو بین الاقوامی تیل کی ترسیل کے لیے ایک اہم راستہ ہے۔
یہ بیان عالمی سطح پر معاشی اور سکیورٹی مضمرات پر بڑھتی ہوئی تشویش کے درمیان مغربی ایشیا میں استحکام کے لیے نئی دہلی کی مسلسل کوششوں کی عکاسی کرتا ہے۔ جنگ بندی کا اعلان پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے کیا، جس میں کہا گیا کہ اسلامی جمہوریہ ایران اور ریاستہائے متحدہ امریکہ نے اپنے اتحادیوں کے ساتھ لبنان سمیت تمام محاذوں پر فوری اور جامع جنگ بندی پر اتفاق کیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:جے رام رمیش نے مودی حکومت پر تنقید کی، مغربی ایشیا میں جنگ بندی عالمی توجہ کا مرکز
امریکہ اور ایران دونوں کے وفود ۱۰؍ اپریل کو اعلیٰ سطح کے مذاکرات کے لیے اسلام آباد کا دورہ کر سکتے ہیں۔ `اسلام آباد ٹاکس کے نام سے منسوب اس مجوزہ مذاکرات میں دیرینہ تنازعات کو حل کرنے کے لیے ایک جامع اور پائیدار معاہدے پر توجہ مرکوز کیے جانے کی توقع ہے۔
یہ بھی پڑھئے:سلمان خان کو راحت، راجستھان ہائی کورٹ نے ضمانتی وارنٹ پر روک لگا دی
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے بھی کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کے لیے واشنگٹن کی حمایت کا اشارہ دیا ہے، جس سے ان امیدوں کو تقویت ملی ہے کہ یہ جنگ بندی مغربی ایشیا میں وسیع تر سفارتی تبدیلی کا آغاز ثابت ہو سکتی ہے۔ توقع ہے کہ امریکی صدر کے خصوصی مندوبین اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کے ساتھ ساتھ نائب صدر جے ڈی وینس اسلام آباد میں ایران کے ساتھ ہونے والے مذاکرات میں حصہ لیں گے۔ وینس اس وقت ہنگری کے دورے پر ہیں اور اس کے بعد وہ پاکستان میں ہونے والے مذاکرات کے لیے روانہ ہو سکتے ہیں۔