• Wed, 30 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

۱۰۰؍فیصد امریکی ٹیرف کی دھمکی کے باوجود ہندوستان روسی تیل سے مکمل کنارہ کشی نہیں کریگا

Updated: September 30, 2026, 4:08 PM IST | New Delhi

امریکہ کی جانب سے روسی خام تیل خریدنے والے ممالک پر ۱۰۰؍ فیصد تک درآمدی محصولات عائد کرنے کی دھمکی کے باوجود ہندوستان روسی تیل سے مکمل طور پر کنارہ کشی اختیار کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ ہندوستان نے حالیہ عرصے میں مشرق وسطیٰ سے خام تیل کی خریداری میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔

Oil Import.Photo:INN
تیل کی درآمد۔ تصویر:آئی این این

امریکہ کی جانب سے روسی خام تیل خریدنے والے ممالک پر ۱۰۰؍ فیصد تک درآمدی محصولات عائد کرنے کی دھمکی کے باوجود ہندوستان روسی تیل سے مکمل طور پر کنارہ کشی اختیار کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ ہندوستان نے حالیہ عرصے میں مشرق وسطیٰ سے خام تیل کی خریداری میں نمایاں اضافہ کیا ہے، تاہم روس اب بھی ہندوستان کی توانائی ضروریات اور خام تیل درآمدی نظام کا ایک اہم حصہ برقرار ہے۔
تجارتی مشاورتی ادارے کیپلر کے مطابق ستمبر میں مشرق وسطیٰ سے ہندوستان کو روزانہ تقریباً ۳۰؍لاکھ بیرل  خام تیل موصول ہوا، جو عراق، سعودی عرب اور کویت جیسے اہم تیل پیدا کرنے والے ممالک سے آیا۔ کیپلر کے مطابق یہ مقدار بڑی حد تک روس-یوکرین جنگ سے قبل کی سطح کے قریب پہنچ گئی ہے۔
کیپلر کے اعداد و شمار کے مطابق ستمبر میں اب تک ہندوستان کی مجموعی خام تیل درآمدات تقریباً ۵۳؍ لاکھ بیرل یومیہ  رہی ہیں۔ یہ اگست کے مقابلے میں تقریباً ۶؍ لاکھ بیرل یومیہ  زیادہ اور گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں تقریباً  ۷؍لاکھ بیرل یومیہ  زیادہ ہے۔ اس اضافے میں سب سے نمایاں کردار مشرق وسطیٰ سے آنے والی سپلائی کا ہے۔ دوسری جانب روسی خام تیل کی ہندوستان کو درآمد ستمبر میں کم ہوکر تقریباً ۵ء۱۷؍ لاکھ بیرل یومیہ  رہ گئی، جو اپریل کے بعد کی سب سے کم سطح ہے۔تاہم تجزیہ کاروں کے مطابق روسی تیل کی خریداری میں کمی کو ہندوستان کی جانب سے روس سے مکمل طور پر دوری اختیار کرنے کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔
کیپلر کے لیڈ تجزیہ کار سمت رٹولیا  کے مطابق روس اب بھی ہندوستان کی خام تیل درآمدات کا مرکزی حصہ ہے اور حالیہ کمی کا مطلب یہ نہیں کہ ہندوستان روسی خام تیل کی خریداری مکمل طور پر بند کرنے جا رہا ہے۔  روسی تیل کی خریداری پر ہندوستان کو امریکہ کی جانب سے تجارتی دباؤ کا سامنا ہے۔ امریکی صدر  ڈونالڈ ٹرمپ  نے رواں ماہ کے اوائل میں ایسی قانون سازی پر دستخط کیے جس کے تحت امریکہ کو روسی تیل اور گیس کے پانچ بڑے خریداروں سے درآمد ہونے والی اشیا پر ۱۰۰؍ فیصد تک محصولات عائد کرنے کا اختیار حاصل ہے۔ اس اقدام کے ممکنہ اثرات میں ہندوستان اور چین خاص طور پر اہم ہیں، کیونکہ دونوں ممالک روسی توانائی مصنوعات کے بڑے خریدار رہے ہیں۔ اس کے باوجود ہندوستان اپنی توانائی ضروریات کے لیے مختلف ذرائع سے خام تیل حاصل کرنے کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:مودی کے سابق وزیر بھی ایس آئی آر کیخلاف میدان میں اُترے

ہندوستان کی مشرق وسطیٰ سے تیل خریداری میں اضافے کے پیچھے آبنائے  ہرمز  کے ذریعے خام تیل کی نقل و حرکت میں اضافہ بھی اہم عامل ہے۔ عمان کے قریب جہاز سے جہاز میں تیل کی منتقلی اور دیگر رسد و ترسیل کے انتظامات نے بھی سپلائی کو برقرار رکھنے میں مدد دی ہے۔عراق اور کویت جیسے ممالک کے لیے آبنائے ہرمز عالمی منڈی تک تیل پہنچانے کا ایک اہم راستہ ہے۔ خطے میں سیکوریٹی خطرات کے باوجود برآمد کنندگان اور شپنگ کمپنیوں نے اپنے راستوں اور آپریشنل طریقوں میں تبدیلی کرکے تیل کی ترسیل جاری رکھی ہے۔
عالمی تیل منڈی میں مسلسل اتار چڑھاؤ کے باعث ہندوستان ریفائنریز مختلف ممالک سے خام تیل خریدنے کی پالیسی اختیار کر رہی ہیں۔ خام تیل کی قیمت، دستیابی، شپنگ کے خطرات اور کسی مخصوص قسم کے خام تیل کا ریفائنری کے لیے موزوں ہونا خریداری کے فیصلوں میں اہم عوامل ہیں۔ہندوستان نے روس اور مشرق وسطیٰ کے علاوہ  افریقہ، وینزویلا، امریکہ اور برازیل  سمیت دیگر ممالک سے بھی خام تیل کی خریداری کی ہے۔
 دریں اثنا، روسی خام تیل کی خریداری کے معاملے میں چین بھی ہندوستان کے لیے اہم مسابقتی خریدار بن گیا ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ شروع ہونے کے بعد چین کی تیل خریداری میں عارضی طور پر نمایاں کمی آئی تھی، جس سے ہندوستان کو روسی تیل کی کچھ اضافی کھیپ حاصل کرنے کا موقع ملا۔ تاہم چینی طلب میں دوبارہ اضافہ ہوا ہے، جس کے بعد ہندوستانی ریفائنریزکو دستیاب روسی خام تیل کی کھیپوں کے لیے چینی خریداروں کے ساتھ زیادہ مسابقت کا سامنا ہے۔ اس کے ساتھ ہی روسی خام تیل کی دستیابی میں بھی کچھ کمی آئی ہے اور وہ بڑی رعایتیں بھی بڑی حد تک ختم ہوگئی ہیں جنہوں نے گزشتہ برسوں میں روسی تیل کو بھارتی ریفائنرز کے لیے انتہائی پرکشش بنایا تھا۔

یہ بھی پڑھئے:فلم ’دل چاہتا ہے‘ کی موسیقی محض ساڑھے ۳؍ دنوں میں تیار ہو گئی تھی

۲۰۲۲ءمیں روس کے یوکرین پر حملے سے قبل مشرق وسطیٰ ہندوستان کی خام تیل درآمدات کا سب سے بڑا ذریعہ تھا۔ روس پر مغربی پابندیوں کے بعد عالمی تیل تجارت کا منظرنامہ تبدیل ہوا اور ہندوستان رعایتی روسی خام تیل کے بڑے خریداروں میں شامل ہوگیا۔ اب تازہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ہندوستانی ریفائنریز ایک مرتبہ پھر اپنی خریداری کو متعدد ممالک میں تقسیم کر رہے ہیں تاکہ کسی ایک ملک یا راستے پر انحصار کم رکھا جاسکے۔ ہندوستان دنیا کا  تیسرا سب سے بڑا تیل صارف  ہے اور اپنی خام تیل کی ضروریات کا تقریباً ۹۰؍ فیصد درآمد کرتا ہے۔ تاہم ہندوستان میں خام تیل کی طلب صرف ملکی کھپت کے لیے نہیں ہے۔ ملک کی بڑی ریفائنریز خام تیل کو پیٹرول، ڈیزل، ایوی ایشن ٹربائن فیول  اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات میں تبدیل کرکے بیرون ملک بھی برآمد کرتی ہیں۔کیپلر کے مطابق برآمدات پر توجہ مرکوز کرنے والی ہندوستانی ریفائنریز بلند شرح پر کام کر رہی ہیں تاکہ بین الاقوامی منڈی میں پیٹرولیم مصنوعات سے حاصل ہونے والے مضبوط منافع اور عالمی سطح پر مصنوعات کی محدود دستیابی سے فائدہ اٹھایا جاسکے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK