آر کے سنگھ سابق داخلہ سیکریٹری بھی ہیں، الیکشن کمیشن کے خلاف کھلا خط لکھا اور ایس آئی آر کے دوران انتخابی قوانین کی خلاف ورزی اور بے ضابطگی کا حوالہ دیا۔
EPAPER
Updated: September 30, 2026, 10:49 AM IST | Agency | New Delhi
آر کے سنگھ سابق داخلہ سیکریٹری بھی ہیں، الیکشن کمیشن کے خلاف کھلا خط لکھا اور ایس آئی آر کے دوران انتخابی قوانین کی خلاف ورزی اور بے ضابطگی کا حوالہ دیا۔
سابق مرکزی وزیر اور ریٹائرڈ آئی اے ایس افسر آر کے سنگھ نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار اور الیکشن کمیشن پر انتخابی فہرستوں کے خصوصی نظر ثانی (ایس آئی آر) کے دوران انتخابی قوانین کی خلاف ورزی کا سنگین الزام عائد کیا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایس آئی آر کے عمل کے نتیجے میں بڑی تعداد میں اہل ووٹروں کو انتخابی فہرستوں سے خارج کیا گیا ہے۔ انہوں نے عوام کے نام ایک کھلا خط لکھا جس میں ایس آئی آر کی قانونی حیثیت، ووٹرس کے ناموں کو ہٹانے کا عمل، فارم۶؍ میں کی گئی تبدیلیاں، اپیلیں زیر التوا ہونے کے دوران نئی ووٹر لسٹ کا استعمال اور الیکشن کمیشن کے فیصلہ سازی کے عمل کے بارے میں کئی سوالات اٹھائے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ’’ووٹ چوری کے ذمہ دار مودی اور شاہ، استعفیٰ دیں‘‘
عوامی نمائندگی ایکٹ۱۹۵۰ء کے دفعہ۲۱؍ کا حوالہ دیتے ہوئے، آر کے سنگھ نے دلیل دی کہ ایس آئی آر کسی خاص حلقے یا اس کے کسی حصے میں خاص حالات میں کرایا جا سکتا ہے لیکن ایسا کرتے ہوئے اس کی وجوہات کو تحریری طور پر درج کیا جانا ضروری ہے۔ اپنے خط میں انہوں نے لکھا کہ ملک بھر میں بیک وقت مکمل نظر ثانی کا حکم اس شق کی روح کے خلاف ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا ملک گیر ایس آئی آر کرنے کا فیصلہ مکمل الیکشن کمیشن نے کیا تھا یا یہ فیصلہ تنہا چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کا تھا۔ انہوں نے ووٹر لسٹ سے حذف کیے جانے کے خلاف زیر التواء اپیلوں کا مسئلہ بھی اٹھایا۔ انہوں نے استدلال کیا کہ جس وقت ایس آئی آر کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا تھا اس وقت نافذ الیکٹورل لسٹ کو نظرثانی کا پورا عمل اور متعلقہ اپیلیں مکمل ہونے تک استعمال کیا جانا چاہئے تھا۔ انہوں نے سوال کیا کہ اگر کسی ووٹر نے اپنا نام حذف کرنے کے خلاف اپیل کی ہے اور فیصلہ ابھی باقی ہے تو ایسے الیکشن میں نظرثانی شدہ ووٹر لسٹ کے استعمال کی کیا بنیاد ہے؟ آر کے سنگھ نے الزام لگایا کہ بہت سے ووٹرس کے نام ہٹانے سے قبل قانون کے مطابق ضروری جانچ اور متعلقہ شخص کو اپنا موقف پیش کرنے کا موقع نہیں دیا گیا۔ عوامی نمائندگی ایکٹ کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ووٹر لسٹ سے ناموں کو ہٹانے کی ذمہ داری الیکٹورل رجسٹریشن آفیسر (ای آر او) کی ہے اور اس کیلئے مقررہ طریقہ کار پر عمل کرنا بھی ضروری ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا ہر معاملے کی آزادانہ تفتیش کی گئی اور متعلقہ ووٹر کو ہٹانے کے عمل کے دوران مناسب موقع دیا گیا۔
آر کےسنگھ نے فارم۶؍ کے بارے میں بھی سنگین سوالات اٹھائے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ فارم۶؍ میں ایک اضافی ضمیمہ شامل کیا گیا، جس میں درخواست دہندگان سے۲۰۰۳ء کی ووٹر لسٹ میں درج ان کے والدین کے ناموں کے بارے میں معلومات طلب کی گئیں۔ انہوں نے دلیل دی کہ اس طرح کے اضافی تقاضے نئے ووٹرز کے اندراج کے عمل کو پیچیدہ بنا سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:دہلی: مساجد پر حملے، ایس آئی آر کے خلاف احتجاج، مسلم رکن پارلیمان حراست، رہائی
کانگریس نے بھی آر کے سنگھ کی تائید کی
کانگریس کے سینئر لیڈر پون کھیڑا نے اس کھلے خط کے پیش نظرالیکشن کمیشن اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار پر سنگین سوالات اٹھائے ہیں۔پون کھیڑا نے کہا کہ بی جے پی کے سابق لیڈر اور ایڈمنسٹریٹیو نظام کو اندر سے جاننے والے راج کمار سنگھ نے الیکشن کمیشن کے ایس آئی آر کے خلاف جو اعتراضات کئے ہیں وہ یقیناً درست ہیں۔ ان کےیہ خدشات محض ووٹر لسٹ کی تیاری تک محدود نہیں بلکہ ملک میں جمہوریت کے بنیادی اصولوں سے متعلق بھی ہیں۔
آر کے سنگھ کون ہیں؟
ان کا پورا نام راج کمار سنگھ ہے۔ ۲۰۱۹ء سے ۲۰۲۴ء تک مودی سرکار میں مرکزی وزیر کے طور پر خدمات انجام دیں۔ اس سے قبل۲۰۱۱ء سے۲۰۱۳ء تک مرکزی داخلہ سکریٹری تھے۔ سبکدوش ہوتے ہی انہوں نے ۱۳؍ دسمبر ۲۰۱۳ء کو بی جے پی میں شمولیت اختیار کی۔۲۰۱۴ء میں بہار کے ’آرہ‘ سے لوک سبھا الیکشن لڑا اور کامیابی حاصل کی۔
لیکن ان کی اصل پہچان ۱۹۹۰ءمیں بنی تھی جب انہوں نے لال کرشن اڈوانی کے رتھ کو بہار میں روکا تھا۔ اُس وقت لالو یادو کی حکومت نے انہیں یہ ذمہ داری سونپی تھی۔ اُس واقعے کے بعد آر کے سنگھ راتوں رات مشہور ہوگئے تھے۔