جرمنی ہندوستانی تارکینِ وطن کی پہلی ترجیح بن گیا، جس کی وجہ۹۰؍ فیصد ویزا منظوری کی شرح اور تیز مستقل رہائش ہے، جہاں ایک جانب جرمنی جانے کی درخواستوں میں اضافہ ہوا ہے، دوسری جانب امریکہ جانے کی درخواستوں میں کمی آئی ہے۔
EPAPER
Updated: June 10, 2026, 7:02 PM IST | Berlin
جرمنی ہندوستانی تارکینِ وطن کی پہلی ترجیح بن گیا، جس کی وجہ۹۰؍ فیصد ویزا منظوری کی شرح اور تیز مستقل رہائش ہے، جہاں ایک جانب جرمنی جانے کی درخواستوں میں اضافہ ہوا ہے، دوسری جانب امریکہ جانے کی درخواستوں میں کمی آئی ہے۔
کئی دہائیوں تک ہندوستانی متوسط گھرانوں میں بیرون ملک جانے کی بات امریکہ سے شروع اور ختم ہوتی تھی۔ لیکن اب یہ صورتِ حال تیزی سے بدل رہی ہے۔ گلوبل ٹیلنٹ موبلٹی پلیٹ فارم TerraTern کے سروے کے مطابق۲۰۲۵ء میں جرمنی جانے کے لیے ہندوستانی درخواستوں میں۳۲؍ اعشاریہ ۶؍ فیصد اضافہ ہوا، جبکہ امریکہ جانے کی درخواستوں میں۱۳؍ فیصد کمی آئی۔ بعد ازاں جرمنی نےکنیڈا کو پیچھے چھوڑتے ہوئے ہندوستانی طلبہ کے لیے مقبول ترین ملک کا درجہ حاصل کر لیا ہے۔ جہاں امریکہ ہندوستانی طلبہ کے۶۱؍ فیصد ویزا مسترد کر رہا ہے، وہیں جرمنی ۹۰؍ سے ۹۵؍ فیصد درخواستیں محض چھ دنوں میں منظور کر رہا ہے۔اس کے علاوہ جرمنی ہنر مند ہندوستانیوں کو فعال طور پر مدعو کر رہا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: جاپان کے بعد نیپال نےبھی ہندوستانی آموں کے اِمپورٹ پر پابندی لگادی
دریں اثناءہرسال تقریباً۹۰؍ ہزار ورک ویزا جاری کیے جا رہے ہیں۔ جرمنی کی ’’اپورچونٹی کارڈ‘‘ اسکیم خاص طور پر پرکشش ہے، جس میں ملازمت کی پیشکش کے بغیر بھی ملک میں داخلہ ممکن ہے۔ افراد ایک سال تک نوکری تلاش کر سکتے ہیں اور اس دوران ہفتے میں۲۰؍ گھنٹے پارٹ ٹائم کام بھی کر سکتے ہیں۔تنخواہوں کا موازنہ کریں تو جرمنی میں ہندوستانی پیشہ ور افراد کی اوسط سالانہ تنخواہ۴۵؍ ہزار سے ۶۵؍ ہزار یورو (تقریباً۴۴؍ سے۶۴؍ لاکھ روپے) ہے، جبکہ ہندوستان کے غیر میٹرو شہروں میں تجربہ کار آئی ٹی پیشہ ور کی تنخواہ۱۰؍ سے۱۵؍ لاکھ روپے سالانہ ہے۔
یہ بھی پڑھئے: جرمنی میں مسلم دشمنی میں۵۱؍ فیصد کا اضافہ، قومی امن کیلئے خطرہ: ماہرین کا انتباہ
اس کے علاوہ جرمنی میں مستقل رہائش کا راستہ بھی تیز ہے۔ای یو بلیو کارڈ کے ذریعے (جرمن زبان کی بی ون لیول کی شرط کے ساتھ) محض۲۱؍ ماہ میں مستقل رہائش حاصل کی جا سکتی ہے۔ساتھ ہی جرمنی میں ہنرمند کارکنوں کو مقامی ملازمین جیسی ہی تنخواہ ملتی ہے، سستی یا مفت صحت کی سہولت،۳۰؍ دن کی چھٹی مع تنخواہ اور خاندان کو ساتھ لانے کا حق بھی حاصل ہے۔واضح رہے کہ جرمنی کو ہر سال تقریباً۲؍ لاکھ۸۸؍ ہزار غیر ملکی کارکنوں کی ضرورت ہے ورنہ۲۰۴۰ء تک اس کی لیبر فورس میں۱۰؍ فیصد کمی آ سکتی ہے۔ فی الحال ایک لاکھ تیس ہزار سے زیادہ ہندوستانی جرمنی میں مقیم ہیں، جو ایک دہائی میں چھ گنا اضافہ ہے۔جبکہ ہندوستانی طلبہ کی تعداد۲۰۲۴ء میں۴۶؍ ہزار سے بڑھ کر ۲۰۲۵ء میں۵۴؍ ہزار ہو گئی، اور ماہرین کے مطابق۲۰۳۰ء تک یہ تعدادایک لاکھ ۱۴؍ ہزار کو پار کر سکتی ہے۔بعد ازاں جرمن وزیر خارجہ نے ہندوستانی پیشہ ور افراد کی موجودگی کو ’’حقیقی کامیابی کی داستان‘‘ قرار دیا ہے۔ ہندوستانی خاندان اب امریکہ کے مقابلے جرمنی کو زیادہ محفوذ، سستی اور مواقع سے بھرپور منزل سمجھ رہے ہیں۔