Updated: October 16, 2026, 10:04 PM IST
| Washington
مینن نے اپنی فٹنس کو مزید بہتر بنانے کا سہرا اپنے ساتھی خلاءباز، امریکی بحریہ کے کیپٹن جیک ہیتھ وے کے سر باندھا۔ مینن نے سخت تربیتی فلسفے کیلئے مشہور امریکی ایتھلیٹ ڈیوڈ گوگنز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ”کیپٹن جیک ہیتھ وے ایک دوست اور بعض اوقات ایک ذاتی ٹرینر اور کوچ رہے ہیں جنہوں نے ڈیوڈ گوگنز کی طرح مجھے نئی بلندیوں تک پہنچایا۔“
انیل مینن (دائیں) اپنے خلاءباز ساتھیوں کے ساتھ۔ تصویر: ایکس
ناسا کے ہند نژاد خلاء باز انیل مینن نے بین الاقوامی خلائی اسٹیشن (آئی ایسی ایس) پر قیام کے دوران جسمانی ضروریات اور چیلنجز سے آگاہی فراہم کی ہے۔ مینن نے اپنے خلاء باز ساتھیوں کے ساتھ ورزش کا ایک ویڈیو شیئر کرتے ہوئے وضاحت کی کہ خلابازوں کی صحت کیلئے روزانہ ورزش کیوں ناگزیر ہے۔ مینن نے ویڈیو کے ساتھ کیپشن لکھا، ”ڈٹے رہیں!“ (!Stay Hard)۔ انہوں نے زمین کے گرد مدار میں چکر لگاتے ہوئے جسمانی فٹنس کو برقرار رکھنے کیلئے درکار توجہ اور عزم پر زور دیا اور کہا کہ ”اسٹیشن پر ورزش کیلئے توجہ، عزم اور ہمت کی ضرورت ہوتی ہے۔“
مینن کے مطابق، ورزش کے بغیر خلاء باز ہر ماہ ہڈیوں کی کثافت (bone mass) کا تقریباً ۳ فیصد اور پٹھوں کے حجم (muscle mass) اور جسمانی وزن کا ۱۰ سے ۱۵ فیصد حصہ کھو سکتے ہیں۔ انہوں نے جسمانی سرگرمی کے دوران آکسیجن استعمال کرنے کی جسم کی صلاحیت کے اہم پیمانے، VO2 max میں بھی ۱۰ فیصد سے زیادہ کمی کی نشان دہی کی۔
یہ بھی پڑھئے: کوئی تقسیم نہیں، کوئی سرحد نہیں: فرانسیسی خلا نورد کا زمین کو دیکھ کر تاثر
خلاء میں ورزش اتنی اہمیت کیوں رکھتی ہے؟
مائیکرو گریوٹی یعنی نہایت کم کششِ ثقل کی موجودگی میں جسم کو زمین کی طرح کششِ ثقل کے خلاف کام نہیں کرنا پڑتا، جس کا مطلب ہے کہ ہڈیاں اور پٹھے کم مکینیکل دباؤ محسوس کرتے ہیں، جو ہڈیوں کے زوال اور پٹھوں کی کمزوری (atrophy) کا سبب بنتا ہے۔ دل اور دورانِ خون کی صحت (cardiovascular fitness) میں بھی کمی آ سکتی ہے۔ یہ اثرات طویل خلائی مشنز کے دوران ورزش کو انتہائی اہم بنا دیتے ہیں، جس کی وجہ سے خلاءباز اپنی طاقت، ہڈیوں کی صحت اور قوتِ برداشت کو برقرار رکھنے کیلئے مزاحمتی اور قلبی تربیت کے مخصوص آلات کا استعمال کرتے ہیں، تاکہ زمین کی کششِ ثقل میں واپسی کی جسمانی ضروریات کیلئے تیاری کی جا سکے۔
یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ کا نیا خیال: بحرِ اوقیانوس یا بحرالکاہل کا نام ’ٹرمپ اوشین‘ رکھنے کی تجویز
ایک خلاء باز کا فٹنس چیلنج
مینن نے اپنی فٹنس کو مزید بہتر بنانے کا سہرا اپنے ساتھی خلاءباز، بحریہ کے کیپٹن جیک ہیتھ وے کے سر باندھا۔ مینن نے سخت تربیتی فلسفے کیلئے مشہور امریکی ایتھلیٹ ڈیوڈ گوگنز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ”کیپٹن جیک ہیتھ وے ایک دوست اور بعض اوقات ایک ذاتی ٹرینر اور کوچ رہے ہیں جنہوں نے ڈیوڈ گوگنز کی طرح مجھے نئی بلندیوں تک پہنچایا۔“
یہ بھی پڑھئے: اورکٹ کے بانی نے ’صاف ستھرا‘ سوشل میڈیا واپس لانے کیلئے آن لائن پٹیشن شروع کی
خلاء میں فٹنس کو برقرار رکھنا محض ایتھلیٹک کارکردگی سے کہیں بڑھ کر ہے۔ خلابازوں کو مشن کے کٹھن کام انجام دینے اور واپسی پر زمین کی کششِ ثقل کے ساتھ دوبارہ ہم آہنگ ہونے کیلئے مناسب طاقت اور قوتِ برداشت کی ضرورت ہوتی ہے۔ چونکہ خلائی ایجنسیاں چاند اور بالآخر مریخ کیلئے طویل مشنز کی منصوبہ بندی کر رہی ہیں، اس لئے خلابازوں کی جسمانی صحت کا تحفظ ایک نازک چیلنج بنا ہوا ہے، اس کے چلتے باقاعدہ ورزش زمین سے باہر زندگی کیلئے ایک ناگزیر تیاری بن جاتی ہے۔