• Fri, 04 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

مالی سال ۲۰۲۷ ءمیں ہندوستان کا ادائیگی توازن ۷۵ ارب ڈالر کے قریب رہنے کا امکان

Updated: September 04, 2026, 7:04 PM IST | New Delhi

ہندوستانی ریزرو بینک (آر بی آئی) کی جانب سے غیر ملکی کرنسی کو ملک میں راغب کرنے کے لیے کیے گئے مختلف اقدامات کے نتیجے میں مالی سال ۲۰۲۷ میں ہندوستان کاادائیگی توازن (بیلنس آف پیمنٹ) ۶۵ سے ۷۵ ارب ڈالر کے درمیان رہنے کا امکان ہے۔

RBI Office.Photo:INN
آر بی آئی آفس: تصویر:آئی این این

ہندوستانی ریزرو بینک (آر بی آئی) کی جانب سے غیر ملکی کرنسی کو ملک میں راغب کرنے کے لیے کیے گئے مختلف اقدامات کے نتیجے میں مالی سال ۲۰۲۷ میں ہندوستان کا  ادائیگی توازن (بیلنس آف پیمنٹ)  ۶۵ سے ۷۵ ارب ڈالر کے درمیان  رہنے کا امکان ہے۔ یہ اندازہ بینک آف بڑودہ  کی ایک رپورٹ میں ظاہر کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، خدمات کی برآمدات اور بیرون ملک مقیم ہندوستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی رقوم یعنی  ریمیٹنس  میں مضبوطی برقرار رہنے کی توقع ہے۔ اس کے نتیجے میں مالی سال ۲۰۲۷ ءکے دوران ہندوستان کا  کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ (سی اے ڈی ) (CAD)  مجموعی گھریلو پیداوار(جی ڈی پی )  کے تقریباً ۱ سے  ۲۵ء۱؍فیصد کے درمیان رہ سکتا ہے۔
بینک آف بڑودہ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آر بی آئی کی جانب سے غیر ملکی کرنسی کو راغب کرنے کے لیے شروع کی گئی اسکیموں سے ہندوستان میں بڑے پیمانے پر غیر ملکی زرِمبادلہ آیا ہے۔ ان اسکیموں کے تحت تقریباً   ۱۳۶ء۴؍ارب ڈالر  کا ان فلو حاصل ہوا، جس سے ملک کے غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر کو مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ ہندوستانی روپے پر پڑنے والے دباؤ کو کم کرنے میں بھی مدد ملی ہے۔
رپورٹ میں ہندوستانی معیشت کے مستقبل کو مثبت قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ اگرچہ  مشرق وسطیٰ کی صورتحال  کے حوالے سے اب بھی غیر یقینی صورتحال برقرار ہے، تاہم ہندوستان بیرونی معاشی جھٹکوں کا مقابلہ کرنے کے لیے پہلے کے مقابلے میں زیادہ مضبوط پوزیشن میں ہے۔رپورٹ کے مطابق ہندوستان کے غیر ملکی زرمبادلہ کے اثاثوں میں۴۷ء۹؍ ارب ڈالرس کا اضافہ ہوا، جس کے بعد ملک کے مجموعی غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر بڑھ کر ریکارڈ ۷۲۹ء۳؍ ارب ڈالر  تک پہنچ گئے۔

یہ بھی پڑھئے:امیتابھ بچن نے سَیف علی خان سے اپنے خاندانی رشتے کا انکشاف کیا

آر بی آئی کی جانب سے جون میں ڈالر اور دیگر غیر ملکی کرنسی کو ہندوستان کی جانب راغب کرنے کے لیے شروع کی گئی اسکیموں میں  فارن کرنسی نان ریزیڈنٹ (بینک) یعنی بی ایف سی این آر   ڈپازٹس  کا اہم کردار رہا۔ رپورٹ کے مطابق بی ایف سی این آر ڈپازٹس کے ذریعے تقریباً۱۲۷ء۲؍  ارب ڈالر  حاصل کیے گئے، جو مجموعی ان فلو کا ۹۰ فیصد سے زیادہ ہے۔ اس کے علاوہ  اوورسیز فارن کرنسی بونڈز(او ایف سی بی) کے ذریعے تقریباً۵ء۳؍  ارب ڈالرس اور  ایکسٹرنل کمرشیل بوروئنگز (ای سی بی )  کے ذریعے تقریباً ۳ء۹؍ ارب ڈالر  حاصل کیے گئے۔
 رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ متعدد بینکوں نے تین سے پانچ سال کی مدت کےبی ایف سی این آر ڈپازٹس  پر شرح سود میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔ پہلے جہاں شرح سود تقریباً ۲؍ سے ۴؍ فیصد کے درمیان تھی، اسے بڑھا کر تقریباً  ۶ ؍سے ۷ ؍فیصد  تک کر دیا گیا۔شرح سود میں اس اضافے کے نتیجے میں ایف سی این آر ڈپازٹس بیرون ملک مقیم ہندوستانیوں (این آر آئی) کے لیے زیادہ پرکشش ہوگئے ہیں، جس سے ملک میں غیر ملکی کرنسی کے آنے کا عمل مزید مضبوط ہونے کی توقع ہے۔

یہ بھی پڑھئے:اسمرتی مندھانا کی ریکارڈ سنچری اننگز سے ہندوستان ناک آؤٹ میں

 بینک آف بڑودہ کی رپورٹ کے مطابق آر بی آئی ملک کے مالیاتی نظام میں موجود اضافی لیکویڈیٹی کو بھی فعال طور پر جذب کر رہا ہے۔ مرکزی بینک نے۶؍ اگست سے ۲؍ ستمبر  کے درمیان مجموعی طور پر۵۳ء۵؍ لاکھ کروڑ روپے  کی ویری ایبل ریٹ ریورس ریپو(وی آر آر آر)  نیلامیوں کا اعلان کیا۔ ان اقدامات کا مقصد مالیاتی نظام میں لیکویڈیٹی کا مناسب توازن برقرار رکھنا اور غیر ملکی سرمایہ کے بڑھتے ہوئے ان فلو کے درمیان مالیاتی استحکام کو یقینی بنانا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK