• Wed, 07 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ہندوستان کا کوئک کامرس بازار ۲۰۳۱ء تک ۹۰؍ ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع

Updated: October 07, 2026, 10:04 PM IST | New Delhi

ہندوستان میں تیزی سے مقبول ہونے والا فوری تجارت یعنی کوئک کامرس بازار آنے والے برسوں میں غیر معمولی رفتار سے بڑھنے کی توقع ہے۔ ایک تازہ رپورٹ کے مطابق ملک میں فوری تجارت کا حجم مالی سال ۲۰۲۶ء میں تقریباً ۱۳؍ ارب ڈالر سے بڑھ کر مالی سال ۲۰۳۱ء تک ۹۰؍ ارب ڈالر تک پہنچ سکتا ہے۔

Quick Commerce.Photo:INN
کوئک کامرس۔ تصویر:آئی این این

ہندوستان میں تیزی سے مقبول ہونے والا فوری تجارت یعنی کوئک کامرس بازار آنے والے برسوں میں غیر معمولی رفتار سے بڑھنے کی توقع ہے۔ ایک تازہ رپورٹ کے مطابق ملک میں فوری تجارت کا حجم مالی سال ۲۰۲۶ء میں تقریباً ۱۳؍ ارب ڈالر سے بڑھ کر مالی سال ۲۰۳۱ء تک ۹۰؍ ارب ڈالر تک پہنچ سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ہر ماہ خریداری کرنے والے صارفین کی تعداد بھی ۱۰؍ کروڑ سے تجاوز کرنے کا اندازہ ہے۔
گوگل اور ریڈسیئر اسٹریٹیجی کنسلٹنٹس کی جانب سے جاری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ قلیل مدت میں فوری تجارت کے شعبے میں مضبوط نمو برقرار رہنے کا امکان ہے۔ رواں تہوار کے موسم میں فوری تجارت کے ذریعے فروخت میں سالانہ بنیاد پر تقریباً ۱۱۰؍ فیصد اضافہ متوقع ہے، جو آن لائن تہوار کے دوران ہونے والے مجموعی اخراجات کا تقریباً ۱۸؍ فیصد ہو سکتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق فوری تجارت کی قلیل مدتی ترقی کو بڑے شہروں میں صارفین کے خوردہ اخراجات میں اس شعبے کے بڑھتے ہوئے حصے اور صارفین کی تیزی سے بڑھتی تعداد سے تقویت مل رہی ہے۔ مالی سال ۲۰۳۱ء تک فوری تجارت کی اضافی نمو میں بڑے شہروں کا حصہ تقریباً ۶۰؍ فیصد رہنے کی توقع ہے۔

یہ بھی پڑھئے:آرکٹک اوپن: پی وی سندھو آسانی سے دوسرے راؤنڈ میں، اُنّتی اور اشمیتا باہر

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بڑے شہروں کے مجموعی خوردہ اخراجات میں فوری تجارت کا حصہ موجودہ تقریباً ۶؍فیصد سے بڑھ کر ۲۰؍ سے ۲۳؍ فیصد تک پہنچ سکتا ہے۔ اسی عرصے میں بڑے شہروں میں فوری تجارت کے صارفین کی تعداد ۸ء۲؍ کروڑ سے تقریباً دُگنی ہو کر۵؍ کروڑ کے قریب پہنچنے کا اندازہ ہے۔ شہری علاقوں میں خریداری کی عادات پر مضبوط گرفت بنانے کے بعد فوری تجارت اب مصنوعات کی اقسام اور جغرافیائی رسائی کو وسیع کرنے کے اگلے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے۔ اس تبدیلی کے نتیجے میں صرف چند منٹوں میں روزمرہ اشیا کی ترسیل تک محدود یہ شعبہ اب گھریلو راشن، اشیائے خورونوش، ذاتی استعمال کی مصنوعات اور دیگر بڑی خریداریوں تک اپنی رسائی بڑھا سکتا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگلے مرحلے کی ترقی سے فائدہ اٹھانے کے لیے فوری تجارت کے پلیٹ فارم اور برانڈز کو گھریلو راشن کے شعبے میں مزید گہری رسائی بنانا ہوگی۔ صارفین کو صرف ضرورت کے وقت اضافی سامان منگوانے والی خریداری سے آگے بڑھا کر ہر ماہ گھر کے راشن اور باورچی خانے کی ضروری اشیا کی باقاعدہ دوبارہ خریداری کی طرف راغب کرنا اہم ہوگا۔
اس مقصد کے لیے برانڈز کو مصنوعات کی تازگی، سپلائی کے نظام میں شفافیت، بڑے پیک کی دستیابی اور قیمت کے اعتبار سے بہتر پیکنگ پر توجہ دینے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ پلیٹ فارم اور برانڈز صارفین کو دوبارہ خریداری کی یاد دہانی کرانے اور ان کی ضروریات کے مطابق اشیا کی تجویز دینے والی تشہیری حکمت عملی استعمال کر سکتے ہیں، تاکہ باقاعدہ دوبارہ خریداری کی عادت پیدا ہو۔

یہ بھی پڑھئے:چیک باؤنس کیس: راجپال یادو کو۸۵؍ لاکھ روپے جمع کرانے کیلئے ۱۳؍ اکتوبر تک مہلت

گوگل انڈیا میں فوری تجارت اور غذائی ٹیکنالوجی کے شعبے کے سربراہ کرن دُگل نے کہا کہ  ہندوستان میں فوری تجارت اب کسی ایک کاروباری ماڈل تک محدود نہیں رہی۔ بڑے اور غیر بڑے شہروں میں صارفین کے خریداری کے طریقوں میں تیزی سے تبدیلی آ رہی ہے اور اس میں روزمرہ استعمال کی ضروری اشیا سے لے کر مہنگے برقی آلات تک مختلف مصنوعات شامل ہو رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جیسے جیسے یہ صنعت ہر ماہ لین دین کرنے والے ۱۰؍ کروڑ صارفین کے اہم سنگ میل کی طرف بڑھ رہی ہے، کامیابی ان برانڈز کو ملے گی جو مختلف صارفین کے درمیان موجود معمولی فرق اور خریداری کی باریکیوں کو سمجھ سکیں۔ ان کے مطابق برانڈز کے لیے نئے صارفین کے ساتھ اعتماد قائم کرنا، پہلے سے موجود صارفین کو درست انداز میں دوبارہ اپنی جانب متوجہ کرنا اور طویل مدت میں برانڈ سے وابستگی پیدا کرنا اہم ہوگا۔
رپورٹ کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہندوستان میں فوری تجارت اب صرف تیز تر ترسیل کی سہولت نہیں رہی بلکہ یہ شہری صارفین کے خریداری کے طریقہ کار میں ایک اہم تبدیلی کا حصہ بن رہی ہے۔ اگر موجودہ رفتار برقرار رہتی ہے تو مالی سال ۲۰۳۱ء تک ۹۰؍ ارب ڈالر کا بازار اور۱۰؍ کروڑ سے زیادہ ماہانہ صارفین اس شعبے کو ہندوستانی خوردہ تجارت کے اہم ستونوں میں شامل کر سکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK