• Thu, 15 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ستمبر میں ہندوستان کا تجارتی خسارہ۲۱ء۳۰؍ ارب ڈالر رہا، درآمدات میں اضافے سے دباؤ بڑھا

Updated: October 15, 2026, 7:03 PM IST | Mumbai

وزارت تجارت کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، درآمدات میں اضافے نے برآمدات کی ترقی کے باوجود تجارتی خسارے کو بڑھا دیا۔ ستمبر میں ہندوستان کی اشیائی برآمدات ۴۰ء۴۴؍ ارب ڈالر رہیں جبکہ درآمدات بڑھ کر۶۱ء۷۴؍ ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔

Import.Photo:INN
درآمدات۔ تصویر:آئی این این

ہندوستان کا اشیائے تجارت کا خسارہ ستمبر ۲۰۲۶ء میں بڑھ کر۲۱ء۳۰؍ ارب ڈالر ہوگیا، جو اگست میں  ۸۶ء۲۶؍ ارب ڈالر تھا۔ وزارت تجارت کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، درآمدات میں اضافے نے برآمدات کی ترقی کے باوجود تجارتی خسارے کو بڑھا دیا۔ ستمبر میں  ہندوستان  کی اشیائی برآمدات ۴۰ء۴۴؍ ارب ڈالر رہیں  جبکہ درآمدات بڑھ کر۶۱ء۷۴؍ ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔ 

یہ بھی پڑھئے:شامی حجام نے کرسٹیانو رونالڈو سے اچانک ملاقات کی دلچسپ کہانی سنادی

ستمبر میں ہندوستان کی اشیائی برآمدات گزشتہ سال کے اسی مہینے کے مقابلے میں تقریباً ۲۳؍ فیصد بڑھ کر ۴۰ء۴۴؍ ارب ڈالر ہوگئیں۔ پٹرولیم مصنوعات، الیکٹرانک سامان، انجینئرنگ مصنوعات، گوشت، دودھ اور مرغی سے متعلق مصنوعات، دستکاری اور بعض زرعی اشیا کی برآمدات میں اضافے نے اس ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔ اگست میں برآمدات ۸۱ء۴۳؍ ارب ڈالر تھیں، اس طرح ماہانہ بنیاد پر بھی اضافہ درج کیا گیا۔ 
 ستمبر میں ہندوستان کی اشیائی درآمدات۶۱ء۷۴؍  ارب ڈالر رہیں، جبکہ اگست میں یہ ۶۷ء۷۰؍ ارب ڈالر تھیں۔ برآمدات کے مقابلے میں درآمدات کی مالیت زیادہ ہونے کے باعث تجارتی خسارہ بڑھ گیا۔ عالمی توانائی کی قیمتوں میں اضافہ، خام تیل کی مہنگائی اور مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی سے متعلق خدشات بھی درآمدی بل پر دباؤ ڈال رہے ہیں۔ ہندوستان اپنی توانائی کی ضروریات کے لیے بڑی مقدار میں تیل درآمد کرتا ہے، اس لیے خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ ملکی معیشت اور بیرونی تجارت دونوں پر اثر انداز ہوسکتا ہے۔ 
اپریل سے ستمبر ۲۰۲۶ء کے دوران ہندوستان کی اشیائی برآمدات بڑھ کر۸۹ء۲۵۹؍ ارب ڈالر ہوگئیں، جبکہ اسی مدت میں درآمدات۵۳ء۴۳۷؍  ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔ اس طرح رواں مالی سال کی پہلی ششماہی میں اشیائے تجارت کا مجموعی خسارہ۶۴ء۱۷۷؍  ارب ڈالر رہا۔ دوسری جانب، خدمات کی برآمدات نے بھی مجموعی تجارتی کارکردگی کو سہارا دیا۔ اپریل سے ستمبر کے دوران اشیا اور خدمات کو ملا کر مجموعی برآمدات  ۲۰ء۴۷۶؍ارب ڈالر اور درآمدات۱۳ء۵۵۱؍  ارب ڈالر رہیں۔ 

یہ بھی پڑھئے:رشمیکا کام کے بعد خود کو الگ کرلیتی ہیں، میں ایسا نہیں کر پاتا: وجے دیورا کونڈا

ہندوستان اپنی برآمدات کے لیے نئی منڈیاں تلاش کرنے اور موجودہ تجارتی شراکت داری کو مضبوط بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ امریکہ اپریل سے ستمبر کے دوران  ہندوستانی اشیائی برآمدات کی سب سے بڑی منزل رہا، جہاں بھیجی جانے والی اشیا کی مالیت۸۱ء۵۰؍ارب ڈالر تک پہنچ گئی۔ اس کے علاوہ نیوزی لینڈ کے ساتھ تجارتی معاہدے پر عمل درآمد کی تیاری، برطانیہ کے ساتھ پہلے سے نافذ معاہدے اور یورپی یونین کے ساتھ تجارتی مذاکرات کو بھی برآمدات میں اضافے کی کوششوں کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔ 
ماہرین کے مطابق، آنے والے مہینوں میں ہندوستان کے تجارتی خسارے کی سمت کا انحصار برآمدات کی رفتار، درآمدی اخراجات، خام تیل کی قیمتوں اور عالمی طلب پر ہوگا۔ اگر ہندوستانی مصنوعات کی بیرونی منڈیوں میں طلب برقرار رہتی ہے اور نئے تجارتی معاہدوں سے برآمد کنندگان کو بہتر مواقع ملتے ہیں تو برآمدات کو مزید تقویت مل سکتی ہے۔ تاہم، درآمدات میں تیز اضافہ اور عالمی توانائی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ تجارتی توازن کے لیے اہم چیلنج بنے رہیں گے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK