Updated: September 02, 2026, 9:08 PM IST
| New Delhi
جے سنگھ نے کہا کہ یہ مسئلہ عدلیہ کے درجہ بندی والے کلچر سے جنم لیتا ہے، جہاں جونیئر خاتون ججوں سے سینئر مرد ججوں کے سامنے سر تسلیم خم کرنے کی توقع کی جاتی ہے۔ انہوں نے ڈسٹرکٹ کورٹ کی ایک خاتون جج کے حوالے سے ایک ایسے رواج کا تذکرہ کیا جس میں ریٹائرمنٹ کی تقریبات کے دوران خاتون ججوں کو قطار میں کھڑا کیا جاتا، ایک جیسی ساڑھی پہنائی جاتی اور مرد ججوں پر پھول برسانے کیلئے کہا جاتا تھا۔
اندرا جے سنگھ۔ تصویر: ایکس
معروف وکیل اندرا جے سنگھ نے الزام لگایا ہے کہ مرد ساتھیوں کے ہاتھوں خاتون ججوں کی جنسی ہراسانی ہندوستانی عدلیہ کا ”گھناؤنا راز“ ہے، جسے نظام کے اندر گہرائی تک سرایت کر جانے والے طبقاتی اور جاگیردارانہ طور طریقوں نے ممکن بنایا ہے۔ ’۲۰۴۷ء عیسوی میں میرے خوابوں کا ہندوستان‘ کے موضوع پر منعقدہ ۲۹ ویں ڈی ایس بورکر میموریل لیکچر میں خطاب کرتے ہوئے جے سنگھ نے کہا کہ انہوں نے ایسی متعدد خاتون ججوں کی نمائندگی کی ہے جو ہراسانی کی شکایات لے کر ان کے پاس آئی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ ”یہ خاتون جج مرد ججوں کے ہاتھوں جنسی ہراسانی کی شکایات لے کر میرے پاس آئی ہیں، یہی وجہ ہے کہ میں نے اپنی کتاب میں لکھا ہے: جنسی ہراسانی ہندوستانی عدلیہ کا ایک گھناؤنا راز ہے۔ کوئی بھی اس پر بات نہیں کرنا چاہتا۔“
یہ بھی پڑھئے: نئی دہلی: بسوں کیلئے سخت حفاظتی ضابطے، پردے اور غیر مجاز اسٹاپ پر پابندی
جے سنگھ نے کہا کہ یہ مسئلہ عدلیہ کے درجہ بندی والے کلچر سے جنم لیتا ہے، جہاں جونیئر خاتون ججوں سے سینئر مرد ججوں کے سامنے سر تسلیم خم کرنے کی توقع کی جاتی ہے۔ انہوں نے ڈسٹرکٹ کورٹ کی ایک خاتون جج کے حوالے سے ایک ایسے رواج کا تذکرہ کیا جس میں ریٹائرمنٹ کی تقریبات کے دوران خاتون ججوں کو قطار میں کھڑا کیا جاتا، ایک جیسی ساڑھی پہنائی جاتی اور مرد ججوں پر پھول برسانے کیلئے کہا جاتا تھا۔ جے سنگھ نے بتایا کہ بعد ازاں اسی جج کو ایک سینئر مرد جج کی شادی کی سالگرہ میں شرکت کرنے اور ”آئٹم نمبر“ پر ڈانس کرنے کی فرمائش مسترد کرنے پر اپنی نوکری سے ہاتھ دھونا پڑا۔
سینئر وکیل اور دہلی ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس ایس مرلی دھر نے بھی اس تقریب سے خطاب کیا اور ایسے خدشات کا اظہار کیا۔ انہوں نے عدلیہ کے جاگیردارانہ طریقوں پر تنقید کی اور خاتون ججوں کو درپیش جنسی اشاروں کنایوں کے بڑھتے ہوئے واقعات کا حوالہ دیا۔
یہ بھی پڑھئے: تیز طرار آئی اے ایس افسر دیویا متل نے محض ۱۳؍ سال میں استعفیٰ کیوں دیا؟
جے سنگھ نے عدالتی وسائل کے عام شہریوں کے بجائے کارپوریٹ مدعیان کی جانب سے غیر متناسب طور پر استعمال کئے جانے پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے حلقہ بندیوں کو خواتین کے ریزرویشن سے جوڑنے، وفاقی ڈھانچے سے متعلق غیر یقینی صورتحال اور ”ایک قوم، ایک الیکشن“ کی تجویز کا حوالہ دیتے ہوئے ہندوستان کے آئینی ڈھانچے کو تبدیل کرنے کی کوششوں کے خلاف مزید متنبہ کیا۔ انہوں نے پارٹی کے انتخابی نشانات باغی دھڑوں کو دوبارہ سونپنے کے عمل پر بھی تنقید کرتے ہوئے دلیل دی کہ اس سے حزبِ اختلاف کی نمائندگی کمزور ہو سکتی ہے، اور آئینی ترامیم کیلئے درکار حد (threshold) کو بڑھانے کی تجاویز پر تشویش کا اظہار کیا۔ جے سنگھ نے کہا کہ مستقبل میں تبدیلی کیلئے آئین بدستور ان کی امید کا ذریعہ ہے۔