Updated: June 08, 2025, 4:04 PM IST
| Washington
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے مئی۲۰۲۵ء کی سرحدی جھڑپوں کے دوران ہندوستان اور پاکستان کے درمیان جنگ بندی کرانے کا ایک بار پھر دعویٰ کیا ہے۔ اپنی تازہ ترین گفتگو میں، ٹرمپ نے پاکستان کی قیادت کی تعریف کی اور ہندوستان کی جانب سے ان کے مبینہ کردار کو تسلیم نہ کئے جانے پر ناراضی کا اظہار کیا۔
ڈونالڈ ٹرمپ۔ تصویر: آئی این این۔
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے مئی۲۰۲۵ء کی سرحدی جھڑپوں کے دوران ہندوستان اور پاکستان کے درمیان جنگ بندی کرانے کا ایک بار پھر دعویٰ کیا ہے، حالانکہ ہندوستان مسلسل کسی بھی غیر ملکی ثالثی کے کردار کی سختی سے تردید کرتا رہا ہے۔ اپنی تازہ ترین گفتگو میں، ٹرمپ نے پاکستان کی قیادت کی تعریف کی اور ہندوستان کی جانب سے ان کے مبینہ کردار کو تسلیم نہ کئے جانے پر ناراضی کا اظہار کیا۔
ٹرمپ کی پاکستان کی تعریف، ہندوستان پر بالواسطہ تنقید
ٹرمپ نے کہا:’’پاکستان کی قیادت بہت مضبوط ہے۔ کچھ لوگوں کو یہ سننا اچھا نہیں لگتا، لیکن حقیقت یہی ہے۔ انہوں نے جنگ کو روکا۔ میں ان پر فخر محسوس کرتا ہوں۔ کیا مجھے اس کا کریڈٹ مل رہا ہے؟ نہیں۔ وہ مجھے کسی بات کا کریڈٹ نہیں دیتے۔ ‘‘اگرچہ ٹرمپ نے ہندوستان کا نام نہیں لیا لیکن انہوں نے۱۰؍ مئی کو ہونے والی جنگ بندی کا حوالہ دیا جو چار دن کی شدید سرحدی جھڑپوں کے بعد عمل میں آئی۔ ان کے بقول، پاکستان نے ان کی امن اپیل پر مثبت ردعمل دیا، جبکہ ہندوستان نے کوئی اعتراف نہیں کیا۔
ہندوستان کا ٹرمپ کے دعوؤں پر موقف
ہندوستان نے ٹرمپ کے بیانات کو بارہا مسترد کیا ہے۔ نئی دہلی کے مطابق، جنگ بندی ہندوستان کا یکطرفہ فیصلہ تھا، جس کا مقصد ۷؍ مئی کو پہلگام میں ہونے والے دہشت گرد حملے کے بعد ’’آپریشن سندور‘‘ کے تحت محدود فوجی کارروائی کے بعد حالات کو مزید بگڑنے سے روکنا تھا۔ کانگریس کے رکن پارلیمنٹ ششی تھرور، جو امریکہ میں ایک آل پارٹی وفد کی قیادت کر رہے تھے، نے بھارت کے مستقل مؤقف پر زور دیا۔
انہوں نے کہا:’’ہم نے ابتدا ہی سے واضح کر دیا تھا کہ ہندوستان کو تنازع کو طول دینا مقصود نہیں تھا۔ یہ ایک دہشت گردی کے حملے کا محدود اور تدبیری ردعمل تھا۔ اس میں کوئی ثالثی شامل نہیں تھی۔ ‘‘
یہ بھی پڑھئے: کولمبیا کے صدارتی امیدوار پر سرعام حملہ، سر میں۳؍ گولی لگی، آئی سی یو میں داخل
ٹرمپ کا ’جوہری جنگ ٹالنے‘ کا دعویٰ
یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ ٹرمپ نے جنوبی ایشیا میں اپنے مبینہ کردار کے حوالے سے متنازع دعویٰ کیا ہو۔ وہ پہلے بھی اس جنگ بندی کو اپنی سب سے بڑی کامیابی قرار دے چکے ہیں اور یہ بھی کہا کہ ان کی مداخلت سے ممکنہ’’جوہری جنگ‘‘ کو روکا گیا۔ ایک علاحدہ تقریب میں انہوں نے کہا:’’میرے خیال میں جس ڈیل پر مجھے سب سے زیادہ فخر ہے وہ یہی ہے کہ ہم ہندوستان اور پاکستان کے ساتھ معاملہ کر رہے تھے اور ہم نے گولیوں کے بجائے تجارت کے ذریعے ممکنہ جوہری جنگ کو روکنے میں کامیابی حاصل کی۔ ‘‘دوسری طرف، ٹرمپ کے بیانات نے ہندوستان میں سیاسی ہلچل پیدا کر دی ہے۔ اپوزیشن نے وزیراعظم نریندر مودی کی خاموشی پر سوال اٹھائے ہیں، جبکہ سرکاری حکام نے ٹرمپ کے دعوؤں کو مسترد کر دیا ہے۔