انڈونیشیا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس کی جانب سے یقین دہانی کے بعد اے آئی چیٹ بوٹ گروک پر عائد پابندی اٹھا لی ہے۔ وزارتِ مواصلات نے خبردار کیا ہے کہ اگر مستقبل میں خلاف ورزیاں سامنے آئیں تو پابندی دوبارہ عائد کی جا سکتی ہے۔
EPAPER
Updated: February 02, 2026, 10:03 PM IST | Jakarta
انڈونیشیا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس کی جانب سے یقین دہانی کے بعد اے آئی چیٹ بوٹ گروک پر عائد پابندی اٹھا لی ہے۔ وزارتِ مواصلات نے خبردار کیا ہے کہ اگر مستقبل میں خلاف ورزیاں سامنے آئیں تو پابندی دوبارہ عائد کی جا سکتی ہے۔
انڈونیشیا نے مصنوعی ذہانت پر مبنی چیٹ بوٹ گروک پر عائد عارضی پابندی ختم کر دی ہے۔ یہ فیصلہ اس وقت کیا گیا جب سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس کی جانب سے حکام کو اس بات کی یقین دہانی کرائی گئی کہ یہ ٹول ملکی قوانین اور ڈجیٹل ضوابط کے مطابق کام کرے گا۔ انادولو ایجنسی کے مطابق انڈونیشیا کی وزارتِ مواصلات و انفارمیشن ٹیکنالوجی نے کہا ہے کہ گروک کو دوبارہ فعال کرنے کی اجازت نگرانی کے ساتھ دی گئی ہے۔ وزارت نے واضح کیا کہ اگر کسی بھی مرحلے پر مواد، ڈیٹا کے استعمال یا شفافیت سے متعلق خلاف ورزیاں سامنے آئیں تو اس اے آئی ٹول پر دوبارہ پابندی عائد کی جا سکتی ہے۔ وزارت کے ترجمان کے مطابق گروک کے آپریشنز کا مسلسل جائزہ لیا جائے گا تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ یہ پلیٹ فارم ملکی قوانین، خاص طور پر ڈجیٹل مواد، غلط معلومات اور صارفین کے تحفظ سے متعلق ضوابط کی خلاف ورزی نہ کرے۔ بیان میں کہا گیا کہ ڈجیٹل آزادی کے ساتھ ذمہ داری لازم ہے۔
یہ بھی پڑھئے: سوڈان: جنگ کے بعد پہلی بار خرطوم ہوائی اڈے سے اندرونی پروازیں بحال
گروک جو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس سے منسلک ایک اے آئی چیٹ بوٹ ہے، حالیہ دنوں میں انڈونیشیا میں اس وقت زیرِ نگرانی آیا جب حکام نے اس کے بعض جوابات اور مواد پر سوالات اٹھائے۔ اس کے بعد حکومتی اداروں نے احتیاطی طور پر اس کی رسائی محدود کر دی تھی۔ حکام کا کہنا ہے کہ ایکس نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ گروک کے مواد کے نظام میں بہتری لائی جائے گی، شفافیت برقرار رکھی جائے گی اور مقامی قوانین کے مطابق ضروری فلٹرز نافذ کیے جائیں گے۔ اسی بنیاد پر پابندی ہٹانے کا فیصلہ کیا گیا۔ انڈونیشیا میں ڈجیٹل پلیٹ فارمز پر سخت ضابطے نافذ ہیں، جہاں حکومت آن لائن مواد، ڈیٹا کے تحفظ اور عوامی مفادات سے متعلق معاملات پر کڑی نظر رکھتی ہے۔ ماضی میں بھی کئی بین الاقوامی پلیٹ فارمز کو قواعد کی خلاف ورزی پر وارننگز یا عارضی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ایران کی بندرعباس بندرگاہ پردھماکے کے بعد ایرانی نیول کمانڈر کے قتل کی افواہیں
وزارتِ مواصلات نے واضح کیا ہے کہ اے آئی ٹیکنالوجی کے استعمال کی اجازت صرف اسی صورت دی جا سکتی ہے جب وہ قومی قوانین، سماجی اقدار اور صارفین کے تحفظ کے اصولوں سے ہم آہنگ ہو۔ بیان میں کہا گیا کہ حکومت اختراع کی حامی ہے، مگر نگرانی اور جوابدہی کے بغیر کوئی ٹیکنالوجی قابلِ قبول نہیں۔ ڈجیٹل پالیسی ماہرین کے مطابق گروک پر پابندی کا خاتمہ ایک محتاط پیش رفت ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ انڈونیشیا اے آئی ٹیکنالوجی کے لیے دروازے بند نہیں کر رہا، تاہم کسی بھی ممکنہ خطرے پر فوری کارروائی کا اختیار محفوظ رکھے گا۔