Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایران کے اسکول پر حملہ: امریکی تحقیقات میں ممکنہ امریکی کردار کا اعتراف

Updated: March 06, 2026, 6:02 PM IST | Minab

جنوبی ایران میں لڑکیوں کے ایک اسکول پر ہونے والے تباہ کن حملے کے بعد امریکی تحقیقات میں یہ امکان تسلیم کیا گیا ہے کہ اس حملے میں امریکی افواج ملوث ہو سکتی ہیں۔ اس واقعے میں ۱۵۰؍ سے زیادہ طالبات ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئیں۔ یہ حملہ اس وقت ہوا جب امریکہ اور اسرائیل، ایران کے خلاف وسیع فضائی کارروائیاں کر رہے تھے۔ ایران نے اس واقعے کو جنگی جرم قرار دیتے ہوئے عالمی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

The girls` school that was bombed by the US and Israel. Photo: X
لڑکیوں کا وہ اسکول جس پر امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے بمباری کی گئی تھی۔ تصویر: ایکس

جنوبی ایران کے شہر میناب میں واقع شجرہ طیبہ گرلز ایلیمنٹری اسکول پر ہونے والے حملے نے عالمی سطح پر شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔ ابتدائی طور پر اس حملے کی ذمہ داری کے بارے میں مختلف دعوے سامنے آئے، تاہم امریکی تحقیقات کے دوران اس امکان کو بھی زیر غور رکھا جا رہا ہے کہ اس حملے میں امریکی افواج ملوث ہو سکتی ہیں۔ رائٹرز کے مطابق دو امریکی حکام نے بتایا ہے کہ ابتدائی جائزوں سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ حملہ ممکنہ طور پر امریکی کارروائی کا نتیجہ ہو سکتا ہے، تاہم تحقیقات ابھی مکمل نہیں ہوئیں۔ حکام نے خبردار کیا کہ مزید شواہد سامنے آنے کے بعد صورتحال واضح ہو سکے گی اور حتمی نتیجہ ابھی اخذ نہیں کیا جا سکتا۔

یہ بھی پرھئے: اسرائیل پر ہائپر سونک میزائل سے حملہ

یہ حملہ ۲۸؍ فروری کو اس وقت ہوا جب ایران کے مختلف حصوں میں امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں کا سلسلہ جاری تھا۔ ایرانی حکام کے مطابق اس حملے میں ۱۵۰؍ سے زیادہ طالبات ہلاک ہوئیں جبکہ متعدد دیگر زخمی ہوئیں۔ اسکول کی عمارت کو بھی شدید نقصان پہنچا۔ امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے بدھ کواس واقعے کی تحقیقات کی تصدیق کی۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اس واقعے کا جائزہ لے رہا ہے تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ حملہ کس کی جانب سے کیا گیا۔ تاہم انہوں نے اس مرحلے پر مزید تفصیلات فراہم کرنے سے گریز کیا۔ تحقیقات کرنے والے حکام کے مطابق ابھی کئی اہم سوالات کے جواب باقی ہیں۔ تفتیش کار یہ تعین کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ حملے میں کون سا ہتھیار استعمال کیا گیا، حملے کی منظوری کس نے دی اور اسکول کو نشانہ کیوں بنایا گیا۔ ان سوالات کے جواب ابھی تک واضح نہیں ہو سکے۔
اقوام متحدہ میں ایران کے سفیر علی بحرینی نے اس واقعے کو سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے ’’غیر منصفانہ‘‘ اور ’’مجرمانہ‘‘ قرار دیا ہے۔ انہوں نے یکم مارچ کو اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ کو خط لکھ کر اس حملے کی آزادانہ بین الاقوامی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کے ترجمان کیپٹن ٹموتھی ہاکنز نے اس بارے میں کہا کہ چونکہ تحقیقات جاری ہیں اس لیے اس مرحلے پر تبصرہ کرنا مناسب نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ مکمل حقائق سامنے آنے تک کسی نتیجے پر پہنچنا قبل از وقت ہوگا۔ اس سے قبل وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے دعویٰ کیا تھا کہ اس حملے کے پیچھے ایرانی حکومت کا ہاتھ ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ امریکی فوج عام شہریوں کو نشانہ نہیں بناتی، جبکہ ایرانی حکومت پر شہریوں کو نشانہ بنانے کا الزام عائد کیا جاتا رہا ہے۔ تاہم بعد میں امریکی تحقیقات میں اس امکان کو بھی شامل کیا گیا کہ حملے میں امریکی کردار ہو سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: یورپی قانون سازوں کا انتباہ، اسرائیل ایران جنگ کو بطور ڈھال استعمال کرسکتا ہے

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی اس معاملے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ جان بوجھ کر کسی اسکول کو نشانہ نہیں بنائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر تحقیقات میں امریکی کردار ثابت ہوتا ہے تو پینٹاگون اس کی مکمل تحقیقات کرے گا۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر نے اس واقعے کی آزادانہ تحقیقات پر زور دیا ہے۔ ادارے کی ترجمان روینا شمداسانی نے کہا کہ ایسے واقعات کی تحقیقات کرنا ان فورسز کی ذمہ داری ہے جنہوں نے یہ کارروائی کی۔
دریں اثنا ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن نے متاثرہ طالبات کے جنازوں کی تصاویر نشر کیں۔ رپورٹوں کے مطابق چھوٹے تابوت ایرانی پرچم میں لپیٹے گئے تھے اور بڑی تعداد میں لوگ جنازوں میں شریک ہوئے۔ بین الاقوامی انسانی قانون کے مطابق اسکولوں، ہسپتالوں اور دیگر شہری تنصیبات کو جان بوجھ کر نشانہ بنانا جنگی جرم تصور کیا جا سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر تحقیقات میں امریکی کردار کی تصدیق ہو جاتی ہے تو یہ واقعہ حالیہ دہائیوں میں مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی کارروائیوں سے منسلک سب سے بڑے شہری جانی نقصانات میں شمار ہو سکتا ہے۔ امریکی اسرائیلی حملوں کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے اور عالمی سطح پر اس جنگ کے انسانی اور سیاسی اثرات پر شدید بحث جاری ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK