Updated: March 09, 2026, 9:57 PM IST
| Geneva
اقوام متحدہ کی حمایت یافتہ تنظیم انٹر پارلیمینٹری یونین کی تازہ رپورٹ کے مطابق دنیا بھر کی پارلیمانوں میں خواتین کی نمائندگی میں اضافہ انتہائی سست ہو گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق سال کے آغاز پر عالمی سطح پر پارلیمانی نشستوں میں خواتین کا حصہ ۵ء۲۷؍ فیصد رہا، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں صرف ۳ء۰؍ فیصد زیادہ ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ تقریباً ایک دہائی میں خواتین کی سیاسی نمائندگی میں سب سے کم رفتار سے ہونے والا اضافہ ہے۔
اقوام متحدہ کی حمایت یافتہ تنظیم Inter-Parliamentary Union نے دنیا بھر میں پارلیمانوں میں خواتین کی نمائندگی سے متعلق اپنی تازہ رپورٹ جاری کی ہے۔ ویمن اِن پارلیمنٹ ۲۰۲۵ء کے عنوان سے جاری ہونے والی اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ عالمی سطح پر پارلیمانی نشستوں میں خواتین کا تناسب ۵ء۲۷؍ فیصد تک پہنچ گیا ہے۔ اگرچہ یہ گزشتہ سال کے مقابلے میں اضافہ ہے، تاہم یہ اضافہ صرف ۳ء۰؍ فیصد ہے، جو گزشتہ تقریباً دس برسوں میں سب سے کم شرح نمو قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ رپورٹ عالمی یوم خواتین کے موقع پر جاری کی گئی۔
یہ بھی پڑھئے: توانائی بحران: بنگلہ دیش میں یونیورسٹیاں بند،ایندھن کی راشننگ شروع
خواتین قیادت میں کمی
رپورٹ کے مطابق پارلیمانی قیادت میں خواتین کی موجودگی میں کمی بھی دیکھنے میں آئی ہے۔ گزشتہ سال دنیا بھر میں مقرر ہونے والے ۷۵؍ پارلیمانی اسپیکرز میں سے صرف ۱۲؍ خواتین تھیں، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ قیادت کے عہدوں تک خواتین کی رسائی اب بھی محدود ہے۔
کوٹہ سسٹم کا اثر
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خواتین کے لیے مخصوص کوٹہ کئی ممالک میں پارلیمان میں ان کی نمائندگی بڑھانے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ گزشتہ سال ۴۹؍ ممالک میں ہونے والے انتخابات کے جائزے سے معلوم ہوا کہ جن پارلیمانوں میں کسی نہ کسی شکل میں کوٹہ نظام موجود تھا وہاں خواتین کی نمائندگی اوسطاً ۳۱؍ فیصد رہی۔ اس کے مقابلے میں جن پارلیمانوں میں کوٹہ موجود نہیں تھا وہاں خواتین کی نمائندگی صرف ۲۳؍ فیصد رہی۔
مختلف خطوں میں صورتحال
رپورٹ کے مطابق عالمی سطح پر خواتین کی پارلیمانی نمائندگی مختلف خطوں میں مختلف ہے۔ امریکہ میں خواتین کی نمائندگی سب سے زیادہ رہی جہاں پارلیمان کے ۶ء۳۵؍ فیصد ارکان خواتین ہیں۔ اسی طرح کرغیزستان نے اپنی پارلیمان میں خواتین کی نمائندگی میں ۹ء۱۲؍ فیصد اضافہ ریکارڈ کیا، جبکہ سینٹ ونسنٹ اینڈ دی گرینڈینس میں ۳ء۱۲؍ فیصد اضافہ دیکھا گیا۔ اس کے برعکس مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ میں خواتین کی نمائندگی سب سے کم رہی جہاں پارلیمانی نشستوں میں خواتین کا اوسط حصہ صرف ۲ء۱۶؍ فیصد ہے۔
رپورٹ کے مطابق تین ممالک ایسے بھی ہیں جہاں پارلیمان میں ایک بھی خاتون رکن موجود نہیں ہے، جن میں شامل ہیں عمان، توالو، اور یمن شامل ہیں۔
یہ بھی پھڑھئے: اسرائیل نے لبنان میں سفید فاسفورس استعمال کیا: ہیومن رائٹس واچ
خواتین سیاستدانوں کو درپیش خطرات
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ خواتین ارکان پارلیمنٹ کو عوامی سطح پر دھمکیوں اور ہراسانی کا سامنا مرد سیاستدانوں کے مقابلے میں زیادہ کرنا پڑتا ہے۔ سیاسی تشدد سے متعلق ایک حالیہ سروے کے مطابق ۷۶؍ فیصد فیصد خواتین قانون سازوں نے کسی نہ کسی شکل میں دھمکی یا ہراسانی کا سامنا کیا جبکہ ۶۸؍ فیصد مرد سیاستدانوں نے ایسے تجربات کی اطلاع دی۔ آئی پی یو نے ایک بیان میں کہا کہ اس طرح کے رجحانات بعض خواتین کو سیاست میں حصہ لینے سے روک سکتے ہیں، جس سے خواتین کی سیاسی نمائندگی میں مزید رکاوٹیں پیدا ہو سکتی ہیں۔
سیاست میں خواتین کے خلاف تشدد
آئی پی یو میں یورپی وفد کے ساتھ وابستہ اطالوی رکن پارلیمنٹ ویلینتینا گریپو نے حال ہی میں یو این نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج کے دور میں سیاستدانوں کو سخت عوامی ردعمل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’اگر آپ ایسی بات کہیں جو لوگوں کی توقعات کے مطابق نہ ہو تو آپ کو متعدد حملوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: ایران جنگ: ۱۵؍ اہم واقعات، عالمی سیاست، معیشت اور سلامتی پر اثرات
تشدد کے خلاف اقدامات
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ کچھ ممالک نے سیاست میں خواتین کے خلاف تشدد کو روکنے کے لیے اقدامات شروع کیے ہیں۔ مثال کے طور پر کولمبیا کی پارلیمان نے ایک قانون منظور کیا ہے جس کا مقصد سیاست میں خواتین کے خلاف تشدد کو روکنا اور اس کے ذمہ دار افراد کو سزا دینا ہے۔ ماہرین کے مطابق ایسے اقدامات مستقبل میں خواتین کی سیاسی شرکت کو محفوظ اور مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔