انڈونیشیا میں جنگلات کی آگ پر قابو پانےکیلئے فائر فائٹرز کی مدد کرنے والے۱۵؍ سالہ لڑکے نے سپرمین کا لباس پہن کر سب کی توجہ حاصل کرلی۔ اس کم عمر ’’سپرمین‘‘ کا جذبۂ خدمت اور اپنی بستی کی حفاظت کا عزم سوشل میڈیا پر لوگوں کیلئے متاثرکن مثال بن گیا۔
EPAPER
Updated: August 18, 2026, 8:01 PM IST | Jakarta
انڈونیشیا میں جنگلات کی آگ پر قابو پانےکیلئے فائر فائٹرز کی مدد کرنے والے۱۵؍ سالہ لڑکے نے سپرمین کا لباس پہن کر سب کی توجہ حاصل کرلی۔ اس کم عمر ’’سپرمین‘‘ کا جذبۂ خدمت اور اپنی بستی کی حفاظت کا عزم سوشل میڈیا پر لوگوں کیلئے متاثرکن مثال بن گیا۔
انڈونیشیا کے ایک۱۵؍ سالہ لڑکے نے اُس وقت انٹرنیٹ صارفین کی توجہ حاصل کرلی جب اسے انڈونیشیا کے صوبے وسطی کلیمانتان کے شہر پالانگکا رایا میں جنگلات کی آگ پر قابو پانے کیلئے فائر فائٹرز کی مدد کرتے ہوئے سپرمین کا لباس پہنے ہوئے دیکھا گیا۔ رودیانسہ کو سپر ہیرو کا لباس پہنے آگ سے متاثرہ علاقے میں شعلوں کو بجھانے میں مدد کرتے ہوئے دیکھا گیا۔ اپنی کم عمری کے باوجود یہ نوجوان باقاعدگی سے اسکول کے بعد آگ بجھانے کی کارروائیوں میں حصہ لیتا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ وہ اپنے فارغ وقت میں موبائل فون پر کھیلنے کے بجائے اپنی برادری کی حفاظت میں مدد کرنا پسند کرتا ہے۔
انڈونیشیائی لڑکے نے جنگلات کی آگ بجھانے کیلئےسپرمین کا لباس پہن لیا
رودیانسہ نے رائٹرز کی ایک ویڈیو میں کہا، ’’میرے پاس یہ لباس کافی عرصے سے ہے۔ میں نے اسے کچھ عرصہ پہلے خریدا تھا۔ اسے استعمال نہ کرنے کے بجائے میں نے اسے پہن کر آگ بجھانے کا فیصلہ کیا۔ ‘‘اس نے مزید کہا، ’’اسکول کے بعد میں گھر پر رہ کر موبائل فون پر کھیلنے کے بجائے مدد کرنا پسند کرتا ہوں۔ میں فائر فائٹنگ ٹیم کے ساتھ شامل ہونا زیادہ پسند کرتا ہوں، کیونکہ یہ میرا گھر ہے۔ ‘‘رودیانسہ کے والد، ملیادی، نے بتایا کہ عملے کے ساتھ رہ کر کام کرنے کے تجربے کی وجہ سے ان کا بیٹا آگ بجھانے کی کارروائیوں سے اچھی طرح واقف ہوگیا ہے۔ ملیادی نے کہا، ’’میرا بیٹا ان کارروائیوں کو سمجھتا ہے، کیونکہ اسکول کے بعد جب اس کے پاس کرنے کو کچھ نہیں ہوتا تو وہ ہمارے ساتھ آگ بجھانے کیلئے شامل ہوجاتا ہے۔ اس لئے اسے معلوم ہوتا ہے کہ کیا کرنا ہے۔ ‘‘
یہ بھی پڑھئے: پاکستان سپریم کورٹ کا سابق وزیراعظم عمران خان کو جیل سے اسپتال منتقل کرنے کا حکم
سوشل میڈیا پر ردِعمل
نوجوان کے لباس کے غیر معمولی انتخاب نے آن لائن لوگوں کی توجہ حاصل کی اور اس پر متعدد ردِعمل سامنے آئے۔ کئی صارفین نے اسے دوسروں کیلئے قابلِ تقلید مثال قرار دیا۔ ایک صارف نے لکھا، ’’یہ واقعی متاثر کن ہے کہ انڈونیشیا کے شہری کس طرح بلا جھجھک آگے بڑھ کر کام سنبھال لیتے ہیں اور حکومت کو اپنا اصل کام کرنے کی بھاری ذمہ داری سے بچا لیتے ہیں۔ ‘‘ ایک اور صارف نے تبصرہ کیا، ’’لباس پہن کر وہ جنگلات کی آگ کی جانب زیادہ توجہ مبذول کراتا ہے اور دوسرے علاقوں میں رہنے والے لوگوں میں بھی اس حوالے سے بیداری پیدا کرتا ہے۔ شاباش!‘‘
ایک تیسرے صارف نے ردِعمل دیتے ہوئے کہا، ’’یہ سپرمین خود سبیانٹومان (انڈونیشیا کے صدر پرابوو سوبیانتو) سے کہیں بہتر ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: جیسن آرڈے کی موت پر لندن میں ہزاروں افراد کا خراجِ عقیدت، اہل خانہ کا ردعمل
دی گارڈین کی ایک رپورٹ کے مطابق، انڈونیشیا میں اگست کے پہلے۱۳؍ دنوں کے دوران جنگلات میں آگ لگنے کے مقامات کی تعداد گزشتہ پورے اگست کے مقابلے میں تین گنا سے بھی زیادہ ریکارڈ کی گئی۔ یہ صورتحال جنوری سے جولائی کے دوران ریکارڈ تعداد میں لگنے والی آگ کے بعد سامنے آئی ہے۔ حکام نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ آگ نہ لگائیں اور چوکس رہیں، کیونکہ آگ لگنے کا موسم عموماً ستمبر اور اکتوبر میں اپنے عروج پر ہوتا ہے۔