Updated: August 18, 2026, 3:58 PM IST
| London
کیمبرج یونیورسٹی کے کم عمر ترین سیاہ فام پروفیسر جیسن آرڈے کی موت پر لندن میں ہزاروں افراد نے جمع ہوکر انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا۔ ان کے اہلِ خانہ نے کہا کہ آرڈے کو درپیش ’’عوامی سنگ دلی‘‘ ناقابلِ برداشت تھی اور لوگوں سے اپیل کی کہ انہیں ان کی کامیابیوں اور انسان دوستی کیلئے یاد رکھا جائے۔
جیسن آرڈے کو خراج عقیدت پیش کرنے ہزاروں لوگ پہنچے۔ تصویر: آئی این این
لندن کے ٹرافلگر اسکوائر میں دسیوں ہزار افراد جیسن آرڈے کو یاد کرنے اور انہیں خراجِ عقیدت پیش کرنے کیلئے جمع ہوئے۔ اس موقع پر ان کے اہلِ خانہ نے کہا کہ انہیں جس ’’عوامی سنگ دلی‘‘ کا سامنا کرنا پڑا، وہ ’’کسی بھی انسان کیلئے برداشت سے باہر‘‘ تھی، اور ان لوگوں کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے ان کی ’’تاریک ترین گھڑی‘‘ میں ان کا ساتھ دیا۔ جیسن آرڈے، جو کیمبرج یونیورسٹی کی تاریخ میں سب سے کم عمر سیاہ فام پروفیسر بنے تھے، جمعہ کو جنوبی لندن میں اپنے گھر میں مردہ پائے گئے۔ ان کی موت یونیورسٹی سے استعفیٰ دینے کے صرف نو دن بعد ہوئی۔ انہوں نے استعفیٰ ایک ایسی وسیع پیمانے پر تنقید کا نشانہ بننے والی مہم کے دوران دیا تھا، جس میں ان پر سرقۂ علمی کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ آرڈے نے کہا تھا کہ اس مہم کا ان کی ذہنی و جسمانی بہبود پر منفی اثر پڑ رہا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: جیرڈ کشنرکی حماس کے وفد سے ملاقات، اسرائیل کے انخلا کا وعدہ
ان کی موت سے قبل میڈیا کی جانب سے شدید تنقید اور کڑی جانچ پڑتال جاری رہی۔ میڈیا واچ ڈاگ نیوز کارڈ کے مطابق، ۲۴؍ جولائی سے۱۴؍ اگست کو ان کی موت تک۲۲؍ دنوں کے دوران۱۵؍ قومی ذرائع ابلاغ میں آرڈے کے بارے میں ۲۴۹؍مضامین شائع ہوئے، جن میں سے۱۸۸؍ مضامین ان کے استعفے کے بعد کے نو دنوں میں شائع ہوئے۔ نیوز کارڈ نے کہا کہ ان نو دنوں کے دوران روزانہ اوسطاً۲۰ء۹؍مضامین شائع ہوئے، جبکہ ان کی موت کے روز کم از کم ۲۷؍ مضامین شائع کئے گئے۔ کلاپہم اور برکسن ہل کی رکنِ پارلیمنٹ بیل ریبیرو-ایڈی، جہاں آرڈے کا خاندان رہتا ہے، نے بعد میں تعزیتی اجتماع کے دوران ان کے اہلِ خانہ کا ایک بیان پڑھ کر سنایا۔
یہ بھی پڑھئے: امریکہ: ایک ہی دن میں تین قیدیوں کو مہلک انجیکشن کے ذریعے سزائے موت دی گئی
اہلِ خانہ نے اپنے پیغام میں کہا، ’’جیسن کے ساتھ جو عوامی سنگ دلی روا رکھی گئی، وہ کسی بھی انسان کیلئےبرداشت سے باہر تھی۔ ‘‘انہوں نے کہا کہ ان کی موت کے بعد ’’محبت، حمایت اور غم‘‘ کا جو اظہار سامنے آیا، وہ ان کیلئے بے حد معنی رکھتا ہے، لیکن اس ردِعمل میں ایک تلخی بھی شامل ہے۔ انہوں نے کہا، ’’مہربانی صرف موت کے بعد نہیں بلکہ زندگی میں بھی ضروری ہے۔ ‘‘ ان کا کہنا تھا، ’’ہم کبھی نہیں جان سکیں گے کہ اگر جیسن کو اس وقت زیادہ مہربانی اور شفقت ملی ہوتی جب وہ ہمارے درمیان تھے، تو حالات کس قدر مختلف ہو سکتے تھے۔ ‘‘
اہلِ خانہ نے بالخصوص ان لوگوں کا شکریہ ادا کیا جو آرڈے کو ذاتی طور پر جانتے تھے اور مشکل ادوار میں ان کی مدد کرنے کی کوشش کرتے رہے۔ انہوں نے کہا، ’’ہم خاص طور پر ان لوگوں کا شکریہ ادا کرنا چاہتے ہیں جو جیسن کو زندگی میں جانتے تھے، جنہوں نے ان تک پہنچنے کی کوشش کی، ان کی تاریک ترین گھڑی میں ان کا ساتھ دیا اور اس خوفناک طوفان کے بیچ موجود انسان کو دیکھا۔ ‘‘اہلِ خانہ نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ آرڈے کو ان کی کامیابیوں اور ان کی اصل شخصیت کے حوالے سے یاد رکھیں، نہ کہ ان کے کردار سے متعلق ان ’’غلط بیانیوں ‘‘ کی بنیاد پر جن کا خاندان نے ذکر کیا۔ انہوں نے کہا، ’’سب سے بڑھ کر ہم چاہتے ہیں کہ جیسن کو اس شاندار انسان اور ان کی تمام کامیابیوں کیلئے یاد رکھا جائے جو انہوں نے حاصل کیں۔ ‘‘ خاندان نے انہیں ’’بے لوث اور نرم دل انسان‘‘ قرار دیا، جو ’’اپنے الفاظ اور اعمال کے ذریعے مسلسل دوسروں کی حوصلہ افزائی اور مدد کرتے رہے۔ ‘‘
یہ بھی پڑھئے: ’’جنگ بندی کی امریکی کوشش جنگ کے نئے مرحلہ کی تیاری ہے‘‘
اہلِ خانہ نے کہا، ’’ان کی کامیابیاں عظیم تھیں اور ہم نہیں چاہتے کہ ان کے کردار کے بارے میں غلط بیانیے ان کامیابیوں پر پردہ ڈال دیں۔ ‘‘ انہوں نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ جیسن کی یادیں اور ان مثبت تبدیلیوں کے واقعات دوسروں کے ساتھ شیئر کرتے رہیں جو انہوں نے اپنی زندگی میں پیدا کیں۔ انہوں نے جیسن کی یاد میں تقریبات منعقد کرنے والوں سے کہا کہ وہ انہیں ’’امن، احترام اور وقار‘‘ کے ساتھ خراجِ عقیدت پیش کریں۔ خاندان نے مزید کہا کہ وہ ’’چھوٹا اور غم زدہ‘‘ خاندان ہے، اس لئے وہ دوسروں کی جانب سے منعقد کی جانے والی تقریبات کا جائزہ لینے یا ان کی توثیق کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھئے: عرب خطے میں ۲۴؍ اگست سے موسم کی تبدیلی کا آغاز، سہیل ستارہ نمودار ہوگا
پروفیسر جیسن آرڈے کی یاد میں ٹرافلگر اسکوائر پر ہزاروں افراد تعزیتی اجتماع میں شریک ہوئے۔ مقررین نے ان لوگوں کی مذمت کی جنہوں نے مبینہ طور پر اس ماہرِ تعلیم کو مسلسل نشانہ بنایا اور کہا کہ ان کی موت کے بعد ان کے اہلِ خانہ کو بھی یاد رکھا جانا چاہئے۔ سیاہ فام برادری کی ممتاز شخصیات سمیت مقررین نے کہا کہ آرڈے کے خلاف مبینہ مہم کے ذمہ دار افراد کو ’’شرم سے سر جھکا لینا چاہئے‘‘، جبکہ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ’’محبت غالب آئے گی۔ ‘‘تعزیتی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے بیل ریبیرو-ایڈی نے کہا کہ بڑی تعداد میں لوگوں کی شرکت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ آرڈے نے لوگوں کی زندگیوں پر کتنا گہرا اثر ڈالا تھا۔ انہوں نے کہا، ’’یہ آپ کو بتاتا ہے کہ جیسن لوگوں کیلئے کیا معنی رکھتے تھے۔ وہ اپنے پیچھے آنے والوں کیلئے دروازے کھول کر رکھتے تھے۔ انہوں نے وہ دروازے کھلے رکھے اور ہم میں سے ہزاروں لوگ ان میں سے گزر کر آگے بڑھے۔ یہی وجہ ہے کہ آج رات یہ جگہ لوگوں سے بھری ہوئی ہے۔ ‘‘