Inquilab Logo Happiest Places to Work

مہنگائی کی دستک، اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بڑھ سکتی ہیں

Updated: August 10, 2026, 11:27 AM IST | New Delhi

ایف ایم سی جی کمپنیاں اپریل تاجون قیمتوںمیں ۲؍ سے ۵؍ فیصد اضافہ کے بعد ستمبر کی سہ ماہی میں بھی اضافہ کی تیاری کررہی ہیں۔

Prices of essential commodities will increase or packet sizes will decrease. Photo: INN
اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بڑھیں گی یا پیکٹ کی سائز کم ہوگی۔ تصویر: آئی این این

ملک میں جلد ہی روزانہ استعمال کی  اشیاء جنہیں معیشت کی زبان میں  ایف ایم سی جی مصنوعات کہا جاتا ہے، کی قیمتیں بڑھ سکتی ہیں۔ اس کی وجہ یہ بتائی گئی ہےکہ جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے باعث خام مال کی لاگت یعنی اِن پٹ کاسٹ مسلسل بڑھ رہی ہے۔ ملک کی بڑی ایف ایم سی جی کمپنیاں جاری یعنی ستمبر سہ ماہی میں اپنی مصنوعات کی قیمتیں بڑھانے کی تیاری کر رہی ہیں۔ حالانکہ گزشتہ یعنی اپریل تا جون سہ ماہی میں  بھی یہ کمپنیاں قیمتیں اوسطاً۲؍ سے۵؍ فیصد تک  بڑھا چکی ہیں ۔ 

رواں سہ ماہی یعنی جولائی تا ستمبر میں کمپنیاں براہ راست قیمتیں بڑھانے کے علاوہ ’شرنک فلیشن‘ کا سہارا لے رہی ہیں۔ یعنی اشیا کی قیمت وہی رہے گی لیکن پیکٹ میں مقدار یعنی وزن کم کر دیا جائے گا۔ کمپنیوں کا کہنا ہے کہ پام آئل، چینی اور خام تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ سے منافع کے مارجن پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔

ہندوستان میں ہندستان یونی لیور، آئی ٹی سی، نیسلے، ڈابر، برٹانیا وغیرہ جیسی بڑی ایف ایم سی جی کمپنیاں ہیں۔ ایف ایم سی جی سے مراد روزمرہ استعمال کی وہ اشیا ہیں جو تیزی سے فروخت  اور استعمال ہو تی ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: او این جی سی کے نئے چیئرمین کی دوڑ میں رنجیت رتھ سمیت کئی بڑے نام شامل

 برٹانیا کے بسکٹ کا وزن کم ہوگا

ملک کی معروف بیکری اور اسنیک کمپنی برٹانیا  ’شرنک فلیشن‘ کے ذریعے قیمتوں میں مزید۱ء۵؍ سے۲؍فیصد کا اضافہ کر سکتی ہے۔ یہ کمی بنیادی طور پر کمپنی کے۵؍ اور ۱۰؍ روپے والے بسکٹ پیکٹوں میں دیکھنے کو ملے گی۔

کمپنی کے مینیجنگ ڈائریکٹر اور سی ای او رکشت ہرگاوے نے بتایا کہ چینی اور پام آئل جیسے خام مال کی قیمتیں اب بھی بلند سطح پر ہیں۔ پہلی سہ ماہی میں ہماری  شرح نمو بڑی حد تک شرنک فلیشن پر منحصر تھی۔ جاری سہ ماہی میں بھی اس رجحان کو جاری رکھنا پڑے گا۔ تاہم، بازار میں طلب کا ماحول اب بھی کافی مضبوط  ہے۔

یونی لیورقیمتیں  بڑھائے گی

ہندستان یونی لیور لمیٹڈ  اپنی مختلف مصنوعات کے زمرہ  میں قیمتیں بڑھانے پر غور کر رہی ہے۔ کمپنی کا اندازہ ہے کہ جون سہ ماہی کے مقابلے ستمبر سہ ماہی میں۲؍ سے ۵؍ فیصد تک قیمتیں بڑھ سکتی ہیں۔ دوسری طرف گوڈریج کنزیومر پروڈکٹس لمیٹڈ نے جون سہ ماہی میں اوسطاً ۵؍ فیصد قیمتیں بڑھائی تھیں۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ  فوری طور پر بڑے پیمانے پر قیمتوں میں اضافے سے گریز کر رہی ہے اور مارکیٹ کے مستحکم ہونے کا انتظار کر رہی ہے۔

گودریج کا قیمتیں بڑھانے سے گریز

گودریج  سی ای او سدھیر سیتاپتی نے بتایا کہ گودریج کی کئی مصنوعات کے خام مال کی لاگت خام تیل کی قیمتوں سے جڑی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ برینٹ خام تیل فی الحال تقریباً۸۰؍تا۸۵؍ ڈالر فی بیرل کے آس پاس ہے۔ اگر خام تیل اسی سطح  پر رہتا ہے تو ہمیں قیمتوں میں کسی بڑے اضافے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ ہم  مالی سال ۲۷-۲۰۲۶ء کیلئے  اپنے آمدنی کے ہدف کو آسانی سے حاصل کر لیں گے۔

یہ بھی پڑھئے: ای ڈی نے آرکام کے خلاف منی لانڈرنگ کیس میں ضمنی شکایت دائر کردی

ڈابر  اور نیسلے کی  فروخت متاثر ہوسکتی ہے

ڈابر انڈیا کے سی ای او موہت ملہوترا  کے مطابق خام مال کی بڑھتی ہوئی لاگت آنے والے دنوں میں بھی برقرار رہ سکتی ہے۔ کمپنیوں کے پاس اس لاگت کا بوجھ صارفین پر منتقل کرنے کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں بچا ہے۔ کمپنی کو اندیشہ ہے کہ اس کا اثر اس کی فروخت کے حجم پر پڑ سکتاہے۔ نیسلے انڈیا نے بھی  سرمایہ کاروں کو  پیش کئے گئے پریزنٹیشن میں خبردار کیا ہے کہ مختصر مدت میں مجموعی کھپت کچھ سست پڑ سکتی ہے۔اُدھر ٹاٹا کنزیومر پر وڈکٹس نے لاگت کا حوالہ دیتے ہوئے قیمتیں میں اضافہ کا اندیشہ ظاہر کیا ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK