ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ ہونے سے جہاں ایک طرف ساری ضروری اشیاء کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں وہیں دوسری طرف حکومت نے امسال اسکول کے فی یونیفارم کیلئے مختص ۳۰۰؍روپے کے فنڈ کو کم کر کے ۲۴۰؍ روپے کر دیا ہے جس سے تعلیمی تنظیموں اور اسکول مینجمنٹ کمیٹی ( ایس ایم سی )میں ناراضگی پائی جا رہی ہے ۔
ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ ہونے سے جہاں ایک طرف ساری ضروری اشیاء کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں وہیں دوسری طرف حکومت نے امسال اسکول کے فی یونیفارم کیلئے مختص ۳۰۰؍روپے کے فنڈ کو کم کر کے ۲۴۰؍ روپے کر دیا ہے جس سے تعلیمی تنظیموں اور اسکول مینجمنٹ کمیٹی ( ایس ایم سی )میں ناراضگی پائی جا رہی ہے ۔
اکھل بھارتیہ اُردو شکشک سنگھ کے جنرل سیکریٹری ساجد نثار نے اس تعلق سے کہا ہے کہ ’’ریاست کے ہزاروں اسکول مفت یونیفارم اسکیم سے متعلق ریاستی حکومت کی طرف سے حال ہی میں جاری کردہ نظر ثانی شدہ ہدایات کی وجہ سے مشکل میں مبتلا ہیں ۔حسب سابق گرمیوں کی تعطیلات شروع ہونے سے پہلے ہی پرنسپلوں، ایس ایم سی اور خواتین کے سیلف ہیلپ گروپس نے اس وقت کے حکومتی فیصلے کے مطابق یونیفارم کیلئے کپڑوں کی خریداری اور سلائی کا عمل شروع کر دیا ہے۔ متعدد اضلاع میں سیلف ہیلپ گروپ کو یونیفارم کے آرڈر دے دیئے گئے ہیں اور کچھ جگہوں پر یونیفارم کی پیمائش اور خریداری کا عمل بھی مکمل کر لیا گیا ہے ۔ ایسے میں اسکول شروع ہونے سے چند دنوں پہلے اس تعلق سے حکومت نے نیافرمان جاری کیا ہے جو اسکول انتظامیہ اور ایس ایم سی کیلئے دردِ سر بن گیا ہے۔‘‘انہوں نے مزیدکہاکہ’’نئے فرمان کے مطابق جہاں تیار شدہ یونیفارم پر سمگر شکشا ابھییان کا لوگو لگانا ہے وہیں فی یونیفارم کیلئے مختص ۳۰۰ ؍ روپے کی رقم کو کم کر کے ۲۴۰؍روپے کر دیا گیا ہے جس سے مذکورہ ذمہ داران کی پریشانیاں بڑھ گئی ہیں۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی میں سبسڈی بڑھانے کے بجائے یونیفارم کے فنڈ میں کمی کرنے سے سنگین مسئلہ پیدا ہوگیا ہے۔ اسکول انتظامیہ اور ایس ایم سی نے پرانے فنڈ کے مطابق یونیفارم کے آرڈر دے دیئے ہیں ۔ یونیفارم کی تیاری کا کام بھی جنگی پیمانے پر جاری ہے، ایسے میں فنڈ کے کم کرنے سے ایک یونیفارم پر جو ۶۰؍روپے کم کئے گئے ہیں اس کی بھرپائی کیسے کی جائے؟ یہ سوال پیدا ہورہا ہے۔ ایک طرف حکومت معیاری یونیفارم فراہم کرنے کی ہدایت دے رہی ہے دوسری جانب فنڈ میں کمی کی جا رہی ہے ۔ ایسی صورت میں معیاری یونیفارم کیسے فراہم کیا جاسکتاہے۔ ‘‘