Updated: February 02, 2026, 4:03 PM IST
| Quetta
بلوچستان میں علاحدگی پسندوں اور سکیوریٹی فورسیز کے درمیان شدید جھڑپوں کے نتیجے میں درجنوں افراد ہلاک ہو گئے، جبکہ پورے صوبے میں سکیوریٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے۔ ان حملوں اور جوابی کارروائیوں پر پاکستان اور ہندوستان کے درمیان الزامات اور تردید کاسلسلہ بھی شروع ہو گیا ہے۔
ہندوستانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال۔ تصویر: آئی این این
بلوچستان کے وزیرِ اعلیٰ سرفراز بگٹی نے اتوار (یکم فروری) کو بتایا کہ گزشتہ ۴۰؍ گھنٹوں کے دوران بلوچ علاحدگی پسندوں اور پاکستانی فوج کے درمیان شدید جھڑپوں کے ایک سلسلے میں ۱۴۵؍ سے زائد شدت پسند اور مزید۴۹؍ افراد، جن میں ۱۷؍ سیکوریٹی اہلکار شامل ہیں، ہلاک ہوئے۔ صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہلاک ہونے والے تمام۱۴۵؍ شدت پسندوں کی لاشیں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی تحویل میں ہیں اور ان کی شناخت کا عمل جاری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ شدت پسندوں کے ہاتھوں مزید ۳۱؍شہری، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں، مارے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ تازہ جھڑپیں ملک میں شروع کی گئی ’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘کے بعد ایک ہی دن میں شدت پسندوں کی سب سے زیادہ ہلاکتوں کا واقعہ ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ کی امیگریشن پالیسی کے سبب امسال امریکہ کو پہلی مرتبہ آبادی میں کمی کا خطرہ
پاکستان نے معدنیات سے مالا مال صوبہ بلوچستان میں سیکوریٹی فورسیز، دفاعی تنصیبات اور بڑے شہروں پر حملوں میں تیزی دیکھی ہے، جہاں علاحدہ بلوچستان کے مطالبات زور پکڑتے جا رہے ہیں۔ سرفراز بگٹی کا بیان اس اعلان کے ایک دن بعد آیا جب بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے سنیچرکو کہا کہ اس نے آپریشن ہیروف کے دوسرے مرحلے کے تحت بلوچستان کے۱۴؍ شہروں میں ۴۸؍ مختلف مقامات پر مربوط حملے کئے ہیں جن میں صوبائی دارالحکومت کوئٹہ بھی شامل ہے۔ تنظیم کے مطابق اس کے جنگجوؤں نے کوئٹہ، نوشکی، مستونگ، دالبندین، قلات، خاران، پنجگور، گوادر، پسنی، تربت، تمپ، بلیدہ، منگچر، لسبیلہ، کیچ اور آواران میں کارروائیاں کیں، جن میں پاکستان کی فوجی اور انتظامی ساخت کو نشانہ بنایا گیا، کئی مقامات پر بھاری نقصانات پہنچائے گئے اور فوج کو پسپا کیا گیا۔
بی ایل اے نے دعویٰ کیا کہ اس نے پاکستانی سکیوریٹی فورسیز کے۸۴؍ اہلکاروں کو ہلاک کیا اور۱۸؍ کو گرفتار کیا ہے جو اس وقت اس کی تحویل میں ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: اسرائیل نے تقریباً ۲؍سال کے بعد غزہ رفح کراسنگ کوتجرباتی طور پر دوبارہ کھول دیا
بی ایل اے کے ترجمان جئیاند بلوچ نے ایک بیان میں کہا، ’’اس آپریشن کے دوران قابض پاکستانی فوج، پولیس، انٹیلی جنس اداروں اور سی ٹی ڈی کے مجموعی طور پر۸۴؍ اہلکار ہلاک کئے گئے، درجنوں زخمی ہوئے اور۱۸؍ اہلکاروں کو زندہ گرفتار کر کے بی ایل اے کی تحویل میں رکھا گیا ہے۔ ‘‘علاحدگی پسند تنظیم نے یہ بھی کہا کہ اس نے۳۰؍ سے زائد سرکاری املاک، جن میں بینک، سرکاری دفاتر اور جیلیں شامل ہیں، پر قبضہ کر کے انہیں تباہ کیا، جبکہ۲۳؍ گاڑیوں کو آگ لگا دی، جس کے نتیجے میں پاکستان کو دفاعی پوزیشن اختیار کرنا پڑی۔
ہندوستا ن کی بلوچستان حملوں میں کردار سے متعلق پاکستان کے الزامات مسترد
ہندوستان نے اتوار کو بلوچستان میں حالیہ مربوط شدت پسند حملوں میں ملوث ہونے کے پاکستان کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں پاکستان کی ’اپنی اندرونی ناکامیوں‘ سے توجہ ہٹانے کی کوشش قرار دیا۔ نئی دہلی میں اتوار کو جاری ایک بیان میں ہندوستانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے کہا کہ ہندوستان، پاکستان کی جانب سے لگائے گئے بے بنیاد الزامات کو دوٹوک الفاظ میں مسترد کرتا ہے، اور انہیں اسلام آباد کی ’ہمیشہ کی حکمتِ عملی‘ قرار دیا۔ انہوں نے کہا، ’’ہر پرتشدد واقعے کے بعد بے سروپا دعوے دہرانے کے بجائے بہتر ہوگا کہ وہ خطے میں اپنے عوام کے دیرینہ مطالبات کو حل کرنے پر توجہ دے۔ ‘‘انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کا ’جبر، بربریت اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا ریکارڈ سب کے سامنے ہے۔ ‘واضح رہے کہ یہ بیان بلوچستان کے مختلف اضلاع، جن میں کوئٹہ، گوادر، مستونگ اور نوشکی شامل ہیں، میں ہونے والے مربوط حملوں کے بعد سامنے آیا۔
یہ بھی پڑھئے: یورپ کے شہروں میں فلسطین کی حمایت میں ہزاروں افراد کا مارچ
سنیچر کو پاکستانی فوج نے الزام عائد کیا کہ یہ حملے’ ہندوستان کی حمایت یافتہ شدت پسندوں‘ نے کئے۔ پاکستان کے وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے بھی ایک پریس کانفرنس میں ہندوستان کو موردِ الزام ٹھہراتے ہوئے کہا، ’’سب سے اہم بات جو اب دنیا کو جاننی چا ہئے وہ یہ ہے کہ یہ دہشت گرد عام دہشت گرد نہیں ہیں۔ ان حملوں کے پیچھے ہندوستان ہے۔ ‘‘انہوں نے مزید الزام لگایا کہ اس آپریشن کی منصوبہ بندی ہندوستان نے کی اور شدت پسندوں کو مالی معاونت بھی فراہم کی۔