Updated: April 13, 2026, 9:58 PM IST
| Barcelona
اسپین کے شہر بارسلونا سے غزہ کے لیے دوسرا عالمی امدادی فلوٹیلا روانہ ہو گیا ہے، جس میں تقریباً ۷۰؍ جہاز اور ۷۰؍ ممالک کے ایک ہزار کے قریب کارکن شامل ہیں۔ اس مشن کا مقصد غزہ پٹی تک طبی اور انسانی امداد پہنچانا ہے۔ منتظمین کے مطابق خراب موسم کے باعث پیش رفت سست ہے، تاہم قافلہ جلد غزہ کی طرف بڑھنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اس سے قبل ۲۰۲۵ء میں اسرائیلی افواج نے اسی طرح کے قافلے کو روک لیا تھا، جس سے ایک بار پھر امدادی رسائی اور ناکہ بندی پر عالمی بحث تیز ہو گئی ہے۔
بحیرہ روم کے ساحل سے ایک بڑا بین الاقوامی انسانی مشن ایک بار پھر غزہ کی جانب روانہ ہو چکا ہے، جہاں شدید انسانی بحران کے درمیان امداد پہنچانے کی کوششیں جاری ہیں۔ اسپین کے شہر بارسلونا سے روانہ ہونے والا یہ دوسرا عالمی فلوٹیلا تقریباً ۷۰؍ جہازوں اور ۷۰؍ ممالک سے تعلق رکھنے والے قریب ایک ہزار شرکاء پر مشتمل ہے۔ یہ فلوٹیلا طبی سامان، خوراک اور دیگر ضروری امداد لے کر غزہ پٹی کی طرف بڑھ رہا ہے، جہاں لاکھوں افراد کو بنیادی ضروریات کی شدید کمی کا سامنا ہے۔ منتظمین کا کہنا ہے کہ خراب موسم کے باعث بین الاقوامی پانیوں میں اس کی رفتار متاثر ہوئی ہے، تاہم مزید جہاز راستے میں شامل ہونے کی توقع ہے۔
یہ اقدام ایک ’’انسانی ہمدردی کی راہداری‘‘ کھولنے کی کوشش کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب غزہ تک رسائی سخت پابندیوں کے تحت ہے۔ یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ ایسا بحری مشن شروع کیا گیا ہو۔ اکتوبر ۲۰۲۵ء میں اسی اتحاد کے تحت روانہ ہونے والے ایک فلوٹیلا کو اسرائیلی فورسز نے روک لیا تھا۔ اس کارروائی میں متعدد کارکنوں کو حراست میں لیا گیا تھا، جن میں معروف ماحولیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ بھی شامل تھیں۔ بعد ازاں کئی شرکاء نے حراست کے دوران بدسلوکی کے الزامات عائد کیے، تاہم اسرائیلی حکام نے ان دعوؤں کو مسترد کر دیا تھا۔ موجودہ فلوٹیلا ایک ایسے وقت میں روانہ ہوا ہے جب خطے میں کشیدگی برقرار ہے اور غزہ میں انسانی صورتحال مسلسل خراب ہو رہی ہے۔ فلسطینی حکام اور متعدد بین الاقوامی تنظیموں کا مؤقف ہے کہ اکتوبر ۲۰۲۵ء کی جنگ بندی کے باوجود امداد کی فراہمی ناکافی ہے اور لاکھوں افراد خوراک، ادویات اور پناہ جیسی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ایران کا الزام: امریکہ نے اسلام آباد معاہدہ سبوتاژ کیا، کشیدگی بڑھ گئی
دوسری جانب اسرائیلی حکام ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہ امداد کی ترسیل کو مکمل طور پر نہیں روک رہے بلکہ سکیورٹی خدشات کے تحت اس کی نگرانی کر رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نئے فلوٹیلا کا انجام خطے کی سیاسی اور عسکری صورتحال پر منحصر ہوگا۔ اگر اسے غزہ تک رسائی مل جاتی ہے تو یہ ایک اہم انسانی پیش رفت ہو سکتی ہے، بصورت دیگر ایک بار پھر بین الاقوامی سطح پر تنازع اور تنقید میں اضافہ متوقع ہے۔