Updated: April 11, 2026, 9:03 PM IST
| Washington
سابق امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے انکشاف کیا ہے کہ بنجامن نیتن یاہو نے متعدد امریکی صدور پر ایران پر فوجی حملے کے لیے دباؤ ڈالا، تاہم بارک اوباما، جو بائیڈن اور جارج ڈبلیو بش نے اس سے انکار کیا۔ کیری کے مطابق صرف ڈونالڈ ٹرمپ نے اس مؤقف کی حمایت کی۔ یہ بیان ایک انٹرویو کے دوران سامنے آیا، جس میں انہوں نے ایران سے متعلق پالیسی پر تفصیلات بیان کیں۔
سابق امریکی وزیر خارجہ جان کیری۔ تصویر: ایکس
سابق امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم بنجامن نیتن یاہو نے ماضی میں بارہا امریکی قیادت پر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کرنے کے لیے زور دیا، تاہم متعدد امریکی صدور نے اس تجویز کو مسترد کر دیا تھا۔ ایک انٹرویو میں، جو دی بریفنگ ود جین ساکی میں نشر ہوا، جان کیری نے کہا کہ وہ مختلف مواقع پر نیتن یاہو کے ساتھ ہونے والی بات چیت کا حصہ رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ’’وہ بار بار یہ چاہتے تھے کہ امریکہ ایران پر حملہ کرے، اور انہوں نے اس حوالے سے براہ راست امریکی قیادت کو قائل کرنے کی کوشش کی۔‘‘ جان کیری کے مطابق یہ معاملہ سابق امریکی صدر بارک اوباما کے سامنے بھی اٹھایا گیا تھا، تاہم انہوں نے اس تجویز کو مسترد کر دیا۔
یہ بھی پڑھئے: یوٹیوب نے ٹرمپ کو ٹرول کرنے والا ’’ایران حامی‘‘ چینل بلاک کردیا
انہوں نے کہا کہ ’’صدر اوباما نے انکار کیا، صدر جو بائیڈن نے بھی انکار کیا، اور صدر جارج ڈبلیو بش نے بھی اس راستے کو اختیار نہیں کیا۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’صرف ایک صدر جنہوں نے اس مؤقف کی حمایت کی، وہ ڈونالڈ ٹرمپ تھے۔‘‘ جان کیری نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ اسرائیلی وزیراعظم کی جانب سے ایران پر حملے کے لیے ایک مفصل منصوبہ پیش کیا گیا تھا، جسے انہوں نے ’’چار نکاتی تجویز‘‘ قرار دیا۔ ان کے مطابق اس منصوبے میں یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ ممکنہ حملہ ایرانی قیادت کو ختم کر سکتا ہے، حکومت میں تبدیلی لا سکتا ہے اور فوجی ڈھانچے کو کمزور کر سکتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ’’یہ تفصیلی دلائل اعلیٰ سطحی اجلاسوں میں پیش کیے گئے، جہاں مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا اور اس پر غور کیا گیا۔‘‘ جان کیری نے ان رپورٹس کو بھی قابل اعتبار قرار دیا جن میں ان ملاقاتوں اور تجاویز کا ذکر کیا گیا ہے۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حالیہ مہینوں میں امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ ۲۸؍ فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف کارروائی کے بعد خطے میں صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی تھی۔ اس کے جواب میں ایران نے اسرائیل کے ساتھ ساتھ ان ممالک کو بھی نشانہ بنایا جہاں امریکی فوجی اثاثے موجود تھے، جن میں اردن، عراق اور خلیجی خطے کے ممالک شامل ہیں۔ ایران نے آبنائے ہرمز کے ذریعے جہاز رانی پر بھی پابندیاں عائد کیں، جس کے عالمی اثرات مرتب ہوئے۔
یہ بھی پڑھئے: پاکستانی وزیرِ دفاع نے اسرائیل کو سرطانی ریاست کہا، اسرائیل کی مذمت، پوسٹس حذف
بعد ازاں پاکستان، ترکی، چین، سعودی عرب اور مصر کی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں امریکہ اور ایران کے درمیان دو ہفتوں کی جنگ بندی طے پائی، جس کا مقصد کشیدگی میں کمی اور مذاکرات کے لیے راہ ہموار کرنا تھا۔ معاہدے کے تحت دونوں ممالک کے مذاکرات اسلام آباد میں جاری ہیں۔