بی ایم سی کے ایک افسر کے مطابق جس ٹھیکیدار کو مین ہول پر جالی لگانے کا ٹھیکہ دیا گیا تھا وہ حادثے کے بعد سے فرار ہے ، اسی لئے تفتیش نامکمل ہے۔
EPAPER
Updated: July 27, 2026, 12:18 PM IST | Shahab Ansari | Mumbai
بی ایم سی کے ایک افسر کے مطابق جس ٹھیکیدار کو مین ہول پر جالی لگانے کا ٹھیکہ دیا گیا تھا وہ حادثے کے بعد سے فرار ہے ، اسی لئے تفتیش نامکمل ہے۔
ساکی ناکہ میں ۲؍ جولائی ۲۰۲۶ء کو اسلم اسحٰق شیخ کی مین ہول میں گرنے سے موت ہوگئی تھی اور بی ایم سی کمشنر نے کمیٹی تشکیل دے کر اس حادثہ کی تفتیش کا حکم دیا تھا لیکن تقریباً ۳ ؍ ہفتے گزر جانے کے باوجود تفتیش کی رپورٹ عام نہیں کی گئی ہے۔
بی ایم سی کے ایک افسر کے مطابق جس ٹھیکیدار کو متذکرہ مین ہول پر جالی لگانے کا ٹھیکہ دیا گیا تھا وہ حادثے کے بعد سے فرار ہے اور پولیس اسے تلاش نہیں کرسکی ہے جس کی وجہ سے اس حادثہ کی تحقیق مکمل نہیں ہوپارہی ہے اور ٹھوس ثبوت نہیں مل رہے کہ حادثہ کیلئے کس کو ذمہ دار ٹھہرایا جائے؟واضح رہے کہ مین ہول میں گرنے سے اسلم شیخ کے انتقال کے بعد چمبور میں ایک اسکول بس پر درخت گر جانے کی وجہ سے وہان شریواستو نامی ایک ۱۱؍ سالہ طالب علم کی موت ہوگئی تھی۔ اس معاملے کی تحقیق کیلئے بھی بی ایم سی کمشنر نے ایک کمیٹی تشکیل دی تھی۔ اس کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں درخت کاٹنے کے ذمہ دار ٹھیکیدار کو قصوروار قرار دیتے ہوئے تمام بی ایم سی افسران کو کلین چٹ دے دی تھی جسے ممبئی کی میئر ریتو تائوڑے نے قبول کرنے سے انکار کردیا تھا۔اس کے بعد سے اس معاملے میں بھی دوسری رپورٹ اب تک پیش نہیں کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ایس آئی آرمیں شہریوں اور بی ایل او کے متعدد مسائل برقرار
چمبور والے حادثہ کا نوٹس لیتے ہوئے بی ایم سی نے ایم ویسٹ وارڈ میں گارڈن ڈپارٹمنٹ کے اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ جگدیش بھوئیر کو معطل کردیا تھا اور اس معاملے کی تفتیش کیلئے ’برہن ممبئی میونسپل کارپوریشن‘ کی کمشنر اشوینی بھیڈے نے ۲؍ رکنی کمیٹی تشکیل دی تھی۔
اس معاملے میں اب تک کیا ہوا؟
ساکی ناکہ کےاسلم شیخ کے مین ہول میں گرنے کے معاملے میں بی ایم سی نے ان کے پسماندگان کیلئے ۱۰؍ لاکھ روپے معاوضہ کا اعلان کرنے کے ساتھ اس وارڈ کے ۴؍ بی ایم سی افسران کو معطل کرنے، ٹھیکیدار کیخلاف ایف آئی آر درج کرنے اور اس معاملے کی تفتیش کیلئے ایک کمیٹی تشکیل دینے کے احکام جاری کئے ہیں۔