شہر اور مضافات میں پرانی فہرست سے نام تلاش کرنا اور ایک ایک گھر کے رائے دہندگان کا نام الگ کیا جانا بڑی پریشانی کا باعث۔ بی ایل او نے یہ اعتراف کیا کہ فارم بڑی تعدادمیں تقسیم کئے گئے مگر جمع کم کرائے جارہے ہیں، نام سرچ کرنے پر بھی صحیح تفصیل نہیں مل رہی ہے۔ شہری دلچسپی بھی کم لے رہے ہیں، کسی دشواری پر الیکشن کمیشن کی جانب سےیوٹیوب کا ویڈیو بھیج دیا جاتا ہے۔
بی ایل او مائیک پر اعلان کرتےہوئے اور لوگ فارم بھرتےہوئے۔ تصویر: آئی این این
اسپیشل انٹینسیو رویژن ( ایس آئی آر ) کے جاری عمل میں شہریوں اور بی ایل او کے مسائل برقرار ہیں۔۲۰۲۲ء کی لسٹ سے نام تلاش کرنا ، ناموں کا الگ الگ جگہ اور مختلف فہرست(یادی) میں ہونا اور فارم بھرنے میں کس سے کس کی میپنگ کرنی ہے؟یہ تمام بڑے مسائل ہیں۔ اس کے لئے شہری پریشان ہورہے ہیں۔ کچھ بوتھ لیول آفیسر ( بی ایل او) کا کہنا ہے کہ ہم الیکشن افسران یا سپروائزر کو اپنی مشکل بتاتے ہیں تو ہمیں سمجھانے اور ٹریننگ دینے کے بجائے یوٹیوب سے ویڈیو بھیج دیا جاتا ہے، آخر اس سے کس طرح استفادہ کریں اور لوگوں کو سمجھائیں۔
اسی طرح بی ایل او کی یہ بھی شکایت ہے کہ شہریوں کو فارم دیئے گئے ہیں مگر اسے پر کرکے جس طرح تیزی اور دلچسپی سے جمع کرانا چاہئے وہ نظر نہیں آرہی ہے۔ اس وجہ سے اگر ایک بی ایل او نے۵۰۰؍ یا۶۰۰؍ یا اس سے بھی کم یا زائد فارم تقسیم کردیئے ہیں اور اس کے پاس۱۲۰۰؍ یا اس سے زائد فارم ہیں تو جمع آدھا بھی نہیں ہوا ہے۔ اس لئے بی ایل او کا کہنا ہے کہ شہری اس جانب توجہ دیں، چونکہ کل ۱۲؍دن بچے ہیں، اس سے قبل کسی بھی طرح یہ کام ہوجائے۔واضح ہوکہ ایس آئی آر کی توسیع شدہ تاریخ۸؍ اگست کو ختم ہوگی ، اس میں۱۲؍ دن باقی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: میرا بھائندر کارپوریشن کے دعوت ناموں میں پروٹوکول تنازع
مختلف علاقوں کے شہریوں کی الگ الگ شکایت
وکھرولی ولیج گروپ نمبر۳؍ میں مقیم وارث علی شیخ نے نمائندۂ انقلاب کو بتایا کہ ہمارے خاندان کے۱۱؍ میں سے محض ۲؍ افراد کے نام ہیں، بقیہ نام کیوں نہیں ہیں ؟ ووٹ تو ہم سب ایم ایل اے، ایم پی اور کارپوریٹر وغیرہ کے الیکشن میں مستقل دیتے آرہے ہیں۔ بی ایل او سے کہا کہ گھر پر آکر فارم بھروائیے تو وہ کہتے ہیں کہ وقت کم ہے اور کام زیادہ ۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ یہ بتانے کے لئے بی ایل او یا کوئی دوسرا الیکشن آفیسر تیار نہیں کہ جب ہر الیکشن میں حصہ لینے کے باوجود نام فہرست میں نہیں ہے تو آخر ہم پرانی فہرست کہاں سے لاکر ایس آئی آر کے فارم میں جوڑیں؟ اسی طرح میپنگ کس کی کس سے کرنی ہے؟ یہ بھی سمجھ میں نہیں آرہا ہے۔ اس کے علاوہ ایس آئی آر کے لئے وقت بہت کم دیا گیا ہے جس سے مزید مشکل ہے اور لوگ بہت زیادہ گھبرائے ہوئے ہیں۔ اس لئے واقعی اگر یہ بہت اہم ہے تو اس کا حل نکالا جائے اور اگر محض خانہ پری مقصد ہے تو پھر شہریوں کو کیوں پریشان کیا جارہا ہے؟ سماجی خدمت گار کے ناطے بہت سے لوگ مجھ سے پوچھتے ہیں ، میں خود نہیں سمجھ پا رہا ہوں، سوچئے کہ جب میں اپنے گھر کے لئے پریشان ہوں تو دوسروں کی کیسے رہنمائی کروں؟
یہ بھی پڑھئے: چیتیہ بھومی جانے والے مظاہرین کو پولیس نے روکا، طلبہ کا سنگھرش جاری رکھیں گے
چیتاکیمپ سی سیکٹر میں بوتھ لیول ایجنٹ (بی ایل اے) کی ذمہ داری ادا کرنے والے محمد رفیق شیخ نے بتایا کہ لوگ بہت پریشان ہیں۔ لوگ پرانی فہرست نکالنے کے لئے پریشان ہیں۔ ہم لوگوں نے گلی محلوں میں مائیک لے کر اعلان کیا مگر جس طرح کی بیداری ہونی چاہئے وہ دکھائی نہیں دے رہی ہے۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ بی ایل او وقت پر نہیں آتے ، ان سے کہنے پر وہ جواب دیتے ہیں کہ تمہاری شکایت کردیں گے ، پھر الیکشن آفیسر ہم لوگوں سے کہتا ہے کہ ان کے کام میں دخل اندازی مت کرو، ورنہ تمہارے خلاف ایف آئی آر درج کرا دیں گے۔ سوال یہ ہے کہ کیا اسی طرح لوگوں کے ناموں کا اندراج ہوگا۔ اگر کسی شہری کا نام درج نہیں ہو گا تو اس کا ذمہ دار کون ہوگا؟
شیواجی نگر گوونڈی میں مقیم حاجی محمد الیاس قادری نے بتایا کہ یہاں لوگوں کی سب سے بڑی دقت پرانی فہرست میں نام نہ ملنا اور ایک ایک گھر کے لوگوں کے نام دو یا تین الگ الگ فہرست میں کردینا ہے۔ لوگ بی ایل او کے پاس جاتے ہیں وہ کہتا ہےکہ دوسرے کے پاس تمہارا فارم ہے، اس طرح لوگ چکر کاٹ کر پریشان ہورہے ہیں۔
بی ایل او کے کیا مسائل ہیں؟
مالونی دولت اسکول کے بی ایل او(نام بالقصد نہیں لکھا گیا) گیٹ نمبر ۶؍میں سینٹ زیوئیرس کالونی کے پیچھے اتوار کو ایس آئی آر کے۵۰۰؍افراد کا فارم لے کر آئے اور بتایا کہ یہ لوگ نہیں آرہے ہیں، اس لئے ہم ان کے گھر آئے ہیں پھر بھی لوگ نہیں مل رہے ہیں۔
اس بی ایل او نے ایک اور پریشانی یہ بتائی کہ جن کے فارم رہ گئے ہیں جب ہم ان کے نام ووٹر آئی ڈی کے حساب سے سرچ کرتے ہیں تو اس میں فون نمبر صحیح نہیں مل رہا ہے یا کسی اور کا نمبر لکھوایا گیا تھا، آدھار نمبر نہیں ہے، اس لئے ان سے رابطہ نہیں قائم ہورہا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: رمیش مہاترے کا کارپوریٹر کا عہدہ منسوخ کرنے کیلئے میونسپل کمشنر کو خط
بی ایل او نے مزید کہا کہ ان مسائل کو کون سنے گا۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے صرف’ آدیش‘ کے ساتھ فارم تھما دیا گیا ہے، ہم اسکول میں بچوں کو پڑھائیں یا گھر گھر ووٹروں کو تلاش کریں۔ پھر اگر کوئی فارم رہ جائے گا تو یہی کہا جائے گا کہ ذمہ داری نہیں نبھائی، آخر ہم لوگ کیا کریں۔
کچھ بی ایل او نے یہ بھی بتایا کہ بہت سے لوگ فارم لے گئے ہیں مگر بھر کر جمع نہیں کروایا ہے، وہ ایک الگ مسئلہ ہے ۔ خاص طور پر جھوپڑپٹیوں میں یہ مسئلہ اور زیادہ پیچیدہ ہے،اس لئے شہری تعاون کریں تاکہ کسی کا بھی فارم رہنے نہ پائے۔