• Thu, 22 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایران: ۶۰؍ ہزار غیرقانونی ہتھیار ضبط، تہران منتقل کئے جارہے تھے، موساد پر الزام

Updated: January 22, 2026, 10:10 PM IST | Tehran

ایرانی سیکوریٹی فورسیز نے صوبہ بوشہر میں کارروائی کے دوران تہران منتقل کیے جانے والے تقریباً ۶۰؍ ہزار ہتھیار ضبط کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ حکام نے حالیہ مہلک حملوں کے پس پردہ عناصر کی تربیت میں غیر ملکی خفیہ اداروں خصوصاً موساد کے ملوث ہونے کا الزام عائد کیا ہے۔

Picture: INN
تصویر: آئی این این

ایران کی سیکوریٹی فورسیز نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے صوبہ بوشہر میں خفیہ کارروائیوں کے دوران تقریباً ۶۰؍ ہزار ہتھیار ضبط کر لئےہیں جو مبینہ طور پر دارالحکومت تہران منتقل کیے جانے تھے۔ ایرانی حکام کے مطابق یہ ہتھیار حالیہ بدامنی اور مہلک حملوں میں ملوث گروہوں کو فراہم کیے جانے کا منصوبہ تھا۔ سرکاری میڈیا کے مطابق سیکوریٹی اداروں نے بتایا کہ ضبط کیے گئے ہتھیاروں میں خودکار اسلحہ، گولہ بارود اور دیگر عسکری سازوسامان شامل ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ اسلحہ ایک منظم نیٹ ورک کے ذریعے منتقل کیا جا رہا تھا جس کا مقصد دارالحکومت اور دیگر شہروں میں تشدد کو ہوا دینا تھا۔ کارروائی کے دوران دو مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا جبکہ ایک اور مسلح سیل کو بے نقاب کر کے ختم کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:جموں کشمیر: ویشنو دیوی کالج طلبہ کی نئی کاؤنسلنگ نہیں کرسکتا: داخلہ امتحان بورڈ

ایرانی حکام نے الزام عائد کیا کہ اس نیٹ ورک کو غیر ملکی خفیہ اداروں کی سرپرستی حاصل تھی۔ خاص طور پر موساد پر الزام لگایا گیا کہ اس نے ایک عسکری گروہ کو تربیت اور لاجسٹک معاونت فراہم کی، جو مبینہ طور پر حالیہ پرتشدد واقعات میں ملوث رہا۔ حکام کے مطابق، یہ گروہ شہری آبادی کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔ ایرانی انٹیلی جنس یونٹس نے بتایا کہ کارروائیاں کئی ہفتوں کی نگرانی اور تکنیکی معلومات کے بعد کی گئیں۔ بوشہر میں ساحلی راستوں اور گوداموں کی جانچ کے دوران اسلحے کے ذخائر برآمد ہوئے، جس کے بعد تہران تک اسلحہ پہنچانے کے راستے منقطع کر دیے گئے۔ حکام کا کہنا ہے کہ بروقت کارروائی کے باعث بڑے پیمانے پر جانی نقصان کا خدشہ ٹل گیا۔ سیکوریٹی ذرائع کے مطابق، گرفتار مشتبہ افراد سے تفتیش جاری ہے اور مزید گرفتاریوں کا امکان رد نہیں کیا جا رہا۔ حکام نے دعویٰ کیا کہ تحقیقات سے یہ بھی پتا چل رہا ہے کہ اسلحہ اسمگلنگ کے نیٹ ورک کے مقامی سہولت کار کون تھے اور فنڈنگ کے ذرائع کہاں سے آ رہے تھے۔ تاہم، سرکاری بیان میں کسی تیسرے ملک یا ادارے کی جانب سے الزامات کی تردید یا تصدیق کے حوالے سے کوئی تبصرہ شامل نہیں کیا گیا۔

یہ بھی پڑھئے: مصر کے صدر کا کہنا ہے کہ غزہ کی جنگ کے باعث سویز کینال کو۹؍ ارب ڈالر کا نقصان ہوا

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران حالیہ مہینوں میں سیکوریٹی چیلنجز اور سرحدی نگرانی کے معاملات پر سخت مؤقف اختیار کیے ہوئے ہے۔ ایرانی حکام ماضی میں بھی بیرونی خفیہ اداروں پر اندرونی عدم استحکام کو ہوا دینے کے الزامات عائد کرتے رہے ہیں، جن کی متعلقہ فریقین کی جانب سے عموماً تردید کی جاتی رہی ہے۔ سیکوریٹی ماہرین کے مطابق، اگر دعویٰ درست ثابت ہوتا ہے تو اتنی بڑی مقدار میں اسلحے کی ضبطی ایران کے اندرونی سلامتی کے ڈھانچے کے لیے ایک اہم واقعہ ہے۔ ایرانی حکام نے عوام کو یقین دلایا ہے کہ سیکوریٹی ادارے مکمل طور الرٹ ہیں اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مزید اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ساتھ ہی خبردار کیا گیا ہے کہ ملک میں بدامنی پھیلانے کی کسی بھی کوشش کا سخت جواب دیا جائے گا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK