Inquilab Logo Happiest Places to Work

پیڈرو سانچیز کا مشرق وسطیٰ، یوکرین میں تنازعات کے خاتمے کا مطالبہ: رپورٹ

Updated: April 13, 2026, 6:11 PM IST | Mumbai

ہسپانوی وزیر اعظم پیڈرو سانچیز نے چین سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے عالمی اثر و رسوخ کو استعمال کرتے ہوئے مشرق وسطیٰ اور یوکرین کے تنازعات کے خاتمے میں فعال کردار ادا کرے۔ بیجنگ میں تسنگھوا یونیورسٹی میں خطاب کے دوران انہوں نے بین الاقوامی قانون کی اہمیت پر زور دیا۔

Spanish Prime Minister Pedro Sanchez . Photo: INN
ہسپانوی وزیر اعظم پیڈرو سانچیز۔ تصویر: آئی این این

ہسپانوی وزیر اعظم پیڈرو سانچیز نے اپنے حالیہ دورۂ چین کے دوران عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں بیجنگ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے اثر و رسوخ کو استعمال کرتے ہوئے مشرق وسطیٰ اور یوکرین میں جاری تنازعات کے خاتمے میں فعال کردار ادا کرے۔ انہوں نے یہ بات بیجنگ میں واقع تسنگھوا یونیورسٹی میں طلبہ اور ماہرین سے خطاب کے دوران کہی۔ سانچیز نے اپنے خطاب میں واضح طور پر کہا کہ چین ایک بڑی عالمی طاقت کے طور پر مزید مؤثر کردار ادا کر سکتا ہے، خاص طور پر لبنان، ایران، غزہ، مغربی کنارے اور یوکرین جیسے حساس خطوں میں جاری تنازعات کے حل کے لیے۔ انہوں نے زور دیا کہ بین الاقوامی قانون کو برقرار رکھنا عالمی امن اور استحکام کے لیے بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ہنگری انتخابات: وکٹر اوربان کی ۱۶؍ سالہ حکمرانی ختم، پیٹر میگیار کی شاندار فتح

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سانچیز پانچ روزہ دورے پر چین میں موجود ہیں اور توقع کی جا رہی ہے کہ وہ چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات کریں گے۔ یہ ان کے اقتدار میں آنے کے بعد چین کا چوتھا دورہ ہے، جو دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے سفارتی اور اقتصادی تعلقات کی عکاسی کرتا ہے۔ سانچیز نے اپنے خطاب میں عالمی طاقت کے توازن میں تبدیلی کی طرف بھی اشارہ کیا اور کہا کہ اب ترقی کا مرکز کسی ایک خطے تک محدود نہیں رہا بلکہ دنیا کے مختلف حصوں میں بیک وقت ابھر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسپین حقیقت پسندی اور ذمہ داری کے ساتھ اس نئی عالمی حقیقت کو تسلیم کرتا ہے۔

انہوں نے یورپ اور چین کے تعلقات پر بھی روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اگر دونوں خطے ماضی میں ایک ساتھ ترقی کر سکتے ہیں تو مستقبل میں بھی یہ تعاون ممکن ہے۔ ان کے مطابق، اگرچہ یورپ جغرافیائی طور پر چھوٹا نظر آتا ہے، لیکن عالمی استحکام اور خوشحالی میں اس کا کردار فیصلہ کن ہے، اور چین کے بغیر عالمی نظام کو مکمل طور پر سمجھنا ممکن نہیں۔ سانچیز کا یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب عالمی سطح پر جغرافیائی سیاسی کشیدگی عروج پر ہے۔ اسپین اور چین دونوں نے حالیہ ایران تنازع میں امریکہ اور اسرائیل کی کارروائیوں کو ’’ناقابل قبول‘‘ اور ’’غیر قانونی‘‘ قرار دیا ہے۔ اسپین نے نہ صرف اپنی فضائی حدود امریکی جنگی طیاروں کے لیے بند کی بلکہ اپنے فوجی اڈوں کے استعمال کی بھی اجازت نہیں دی، جس سے اس کے مؤقف کی سنجیدگی ظاہر ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: حج ۲۰۲۶ء: سعودی حکومت کا ۱۸؍ اپریل تک تمام غیر ملکیوں کو مکہ مکرمہ چھوڑنے کا حکم

مزید برآں، اسپین اور چین کے درمیان اقتصادی تعلقات بھی مضبوط ہو رہے ہیں۔ گزشتہ سال دونوں ممالک کے درمیان تجارتی حجم ۵۵؍ ارب ڈالر سے تجاوز کر گیا، جس سے چین یورپی یونین سے باہر اسپین کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار بن گیا ہے۔ یہ دورہ ہسپانوی بادشاہ فلپ ہشتم کے حالیہ دورۂ چین کے بعد ہو رہا ہے، جو ۱۸؍ برسوں میں کسی ہسپانوی بادشاہ کا پہلا دورہ تھا۔ یہ تسلسل اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ دونوں ممالک اپنے تعلقات کو مزید گہرا کرنے کے خواہاں ہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK