ایران نے ٹرمپ کے ہرمز کو امریکی علاقہ قرار دینے پر ذہنی مریض قرار دیا، ساتھ ہی شیزوفرینیا، وہم، فریبِ نظر کہہ کر ٹرمپ پر حملہ کیا، اور انہیں ماہرِ نفسیات سے رجوع کرنے کا مشورہ دیا۔
EPAPER
Updated: August 29, 2026, 11:04 AM IST | Tehran
ایران نے ٹرمپ کے ہرمز کو امریکی علاقہ قرار دینے پر ذہنی مریض قرار دیا، ساتھ ہی شیزوفرینیا، وہم، فریبِ نظر کہہ کر ٹرمپ پر حملہ کیا، اور انہیں ماہرِ نفسیات سے رجوع کرنے کا مشورہ دیا۔
ایران نے امریکی صدر کے ہرمز کو امریکی علاقہ قرار دینے کے بعد انہیں ذہنی مریض قرار دے کر ماہرِ نفسیات سے رجوع کرنے کا مشورہ دیا۔ جب ٹرمپ نے آبنائے ہارمز کو امریکی علاقہ قرار دیا تو ایران نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو سخت جواب دیتے ہوئے انہیں ’’شیزوفرینک‘‘ قرار دیا۔ علاوہ ازیں تہران نے بین الاقوامی برادری سے بھی امریکی غیر قانونی پابندیوں کو مسترد کرنے کا مطالبہ کیا۔
یہ بھی پڑھئے: مشی گن کے امیدوار عبد السید نے نام کا بار بار غلط تلفظ ادا کرنے پر ٹرمپ کا مذاق اڑایا
ایرانی ڈپٹی وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے جمعہ۲۸؍ اگست کو سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں یہ تبصرے کیے، جس میں انہوں نے ٹرمپ کی طرف سے گردش کی گئی ایک تصویر کا حوالہ دیا جس میں اس اسٹریٹجک آبی گزرگاہ کو امریکی علاقے کا حصہ دکھایا گیا تھا۔غریب آبادی نے شیزوفرینیا کو ایک ایسا عارضہ قرار دیا جس میں سوچ میں تبدیلی اور حقیقت کا بگڑا ہوا ادراک ہوتا ہے، اس کے بعد انہوں نے ٹرمپ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ’’فریبِ نظر اور وہم‘‘ کا ذکر کیا۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں امریکی صدر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ماہرینِ نفسیات ایسے مریضوں کی چوبیس گھنٹے نگرانی اور علاج تجویز کرتے ہیں۔
امریکی نیوز آؤٹ لیٹ ’’ایکسیوس‘‘ کے مطابق، ٹرمپ نے اس سے قبل آبنائے ہرمز کو کھلا قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ امریکی فوجی کارروائی پر ایران کا ردعمل بہت معتدل تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ تہران نہیں چاہتا کہ امریکہ اس پر دوبارہ حملہ کرے۔ واضح رہے کہ یہ بیانات ایسے وقت آئے ہیں جب ایران کی معیشت کو نشانہ بنانے والی پابندیوں اور اسلامی جمہوریہ کے ساتھ تجارت کرنے والے ممالک پر دباؤ کے حوالے سے واشنگٹن اور تہران کے درمیان کشیدگی عروج پر ہے۔ بعد ازاں ایک علاحدہ بیان میں، ایرانی وزارت خارجہ نے بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ امریکی پابندیوں کو نافذ نہ کرے، ساتھ ہی انہیں مکمل طور پر غیر قانونی اور ناجائز قرار دیا۔ وزارت نے کہا کہ یہ اقدامات اقوام متحدہ کے چارٹر، بین الاقوامی انسانی قانون اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرتے ہیں، اور استدلال کیا کہ ممالک کو نہ تو یہ پابندیاں عائد کرنی چاہئیں اور نہ ہی ان کے اثرات کو تسلیم کرنا چاہیے۔
یہ بھی پڑھئے: ایران کی امریکہ کو سخت دھمکی، محسن رضائی کانیتن یاہو کو جہنم بھیجنے کا انتباہ
مزید برآں تہران نے خبردار کیا کہ امریکی دباؤ کی مہم میں شامل ہونے والے ممالک خودمختار ریاستوں پر واشنگٹن کی پالیسیاں مسلط کرنے اور جائز اقتصادی اور تجارتی تعلقات میں خلل ڈالنے میں مدد کریں گے۔ اس کے علاوہ ایران نے امریکی پابندیوں کی پالیسی پر ریاستوں کے درمیان خودمختار مساوات کے اصول کو کمزور کرنے کا بھی الزام عائد کیا۔